ناراض اراکین میں سے 80فیصد سے مل آیا ہوں،رنجشوں کو جلد حل کرینگے، جام کمال
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ 14ناراض ارکان میں سے80فیصد سے مل کرآیاہوں تھوڑی بہت رنجشیں ہیں جن کو جلد حل کیاجائیگا، 28اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے،اپوزیشن کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بلوچستان حکومت کو سٹیبل نہ رہنے دیاجائے،یہ پروپیگنڈہ کہ جام کمال تمام چیزیں اپنے حلقے لے گئے ہیں کو مسترد کرتاہوں،صوبے میں ایسے انتظامی آفیسران کو منتخب ارکان کی مشاورت سے لگارہے ہیں جو معاملات کوآگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ہر ضلع میں برابری کی بنیاد پر ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔جام کمال خان نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے ایک تحریک جمع کرائی گئی اور جن وجوہات کی بناء پر یہ تحریک پیش کی گئی تھی اس کی ایک جھلک ہم نے بجٹ سیشن میں دیکھا بلکہ ایک دو سال سے یہ سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہاکہ بی اے پی ہو یااتحادی جماعتیں یہ محسوس کررہی ہے کہ اپوزیشن کا جو احتجاج ہے اس میں ہر سال اضافہ ہورہاہے دو چیزیں ہوتی ہے اگر کوئی حکومت اچھا کام نہیں کررہی اپوزیشن چاہے گی کہ وہ اپنے 5سال پورا کرے وہ گھرجائیں ان کی بدنامی ہوں ان کی ذلت کاباعث بنے لیکن اگر حکومت ایسا کام کررہی ہے جو اپوزیشن کی نشستوں اور جماعتوں میں ایک ہلچل پیدا کررہی ہے تو یہ سارے مسائل ہیں جن کی وجہ سے اپوزیشن متحرک ہے اور کوشش کرتے ہیں بلوچستان حکومت کو سٹیبل نہ رہنے دیں اس کی وجہ سے یقینی طورپر ان کی کوشش ماضی میں بھی رہی ہے اس بار بھی کوشش رہے گی کہ اتحادی جماعتوں اور بلوچستان عوامی پارٹی میں ایسا ماحول پیدا کرے۔انہوں نے کہاکہ کچھ دنوں سے ایک پروپیگنڈا وقت دیاجارہاہے کہ وزیراعلیٰ ہر چیزیں اپنے حلقے میں لے گئے ہیں وزیر خزانہ بھی ناراض ارکان میں سے ہیں ہم نے پورے بلوچستان پر توجہ دی ہے تین سالہ پی ایس ڈی پی کو دیکھاجائے تو ہر ضلع میں برابری کی بنیاد پر وسائل تقسیم کئے ہیں اورجہاں کمی وبیشی ہوں تو وفاقی پی ایس ڈی پی میں کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں پہلا کینسر ہسپتال بن رہاہے اس کے علاوہ بلوچستان میں صحت کا بجٹ 21بلین روپے کا ہے جس میں آراین سیز،بی ایچ یوز،ٹیلی میڈیسن ودیگر ہے۔انہوں نے کہاکہ تین سالوں میں ایسی کوئی نوبت نہیں آئی کہ کمشنر یا ڈپٹی کمشنرز کی بات ہو ہم ایک میکنزم کے تحت منتخب ارکان کی مشاورت سے جاتے ہیں ایسے لوگوں کو لاتے ہیں جن میں معاملات آگے بڑھانے کی صلاحیت ہوں اس مسئلے میں اپوزیشن کا بڑا کردار ہے اپوزیشن خوش نہیں کہ ہم کیوں ان کے اضلاع میں کام کررہے ہیں اور سب سے بڑا ایک موٹیو ہے کہ حکومت ہمارے اضلاع میں کام نہ کرے باقی اپنے اضلاع میں جیسے کرناہے وہ کرے۔انہوں نے کہاکہ اتحادی جماعتوں کے 28ارکان کے علاوہ 14ارکان جن کی تھوڑی بہت رنجشیں ہیں 80فیصد سب سے مل کر آیا ہوں ان کے مسائل حل کرینگے۔


