20مالدارملک افغان عوام کی مدد کرنے کوتیار

افغان عوام کی مالی مشکلات کے پیشِ نظرجی20نے ایک ارب یورواقوام متحدہ کے ذریعے فراہم کرنے کا اعلان کیاہے۔یہ رقم غذائی قلت دور کرنے اور ادویات وغیرہ کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔ افغان طالبان کی حکومت نے اس تعاون پر جی20 کے علاوہ پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے بعدسے آج تک پاکستان مسلسل دنیا کو سمجھاتا رہا ہے کہ اگر افغان عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا اور مشکلات کم کرنے میں ان کی مدد نہ کی گئی تو دنیا اپنے لئے بھی مشکلات پیدا کرے گی۔مصیبت زدہ افغان عوام ہمسایہ ممالک کی طرف نقل مکانی کریں گے۔ اس کے نتیجے میں ہمسایہ ملک بھی مشکلات کا شکار ہوں گے جیسا کہ ماضی میں ہوچکا ہے، ابھی تک 40لاکھ سے زائد افغانی پاکستان میں مقیم ہیں۔خود بھی مشکل میں ہیں اور پاکستان کے لئے بھی متعدد سماجی مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں نقل مکانی ایک انسانی المیہ ہے۔ مہاجر کیمپوں سے باہر بھی مقیم ہیں،اور بڑی مشکل زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جی20 کے سربراہان نے یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان کو درپیش معاشی مسائل کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔انہوں نے کہابیرونِ ملک افغانستان کے اثاثے منجمد ہیں، ترقیاتی امداد بھی معطل ہے،ہمیں وہ راستہ تلاش کرنا ہوگا جس کے ذریعے معیشت دوبارہ سانس لے سکے۔انہوں زور دے کر کہا کہ یہ کام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی یا اصولوں پر سمجھوتہ کئے بغیر ہوسکتا ہے۔افغانستان اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔اس موقع پر انتونیو گوتریس نے افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔2001سے 30لاکھ لڑکیوں نے اسکول میں داخلہ لیاہے اوران کے لئے تعلیم کے اوسط سال 6سے بڑھ کر 10ہوگئے ہیں۔گوتریس نے اجلاس کے شرکاء کو بتایاکہ افغانستان کی 80فیصد معیشت غیر رسمی ہے، اور اس میں خواتین کا کردار اہم ہے۔خواتین کی فعال شرکت کے بغیرمعیشت اور معاشرے کو بحال کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ترکی کے صدر طیب اردگان نے کہا کہ ترکی میں پہلے ہی 50لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جن میں 36لاکھ شامی ہیں، ہم افغان مہاجرینکا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔یہ سچ ہے لیکن یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ20سال قبل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا نعرہ لگا کر امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ افغانستان کو پتھروں کے دور میں پہنچانے کا مشن لئے حملہ آور ہوا۔اور اپنی اس غیر انسانی، غیر اخلاقی،غیر قانونی اور غیرمہذب غلطی کے نتیجے میں شرمناک رسوائی سمیٹی۔ اس شکست کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے کوئی امریکی صدر تیار نہیں۔اگر فتحیاب ہوئے ہوتے توجارج ڈبلیو بش سے جوبائیڈن تک فتح کا سہرا باندھنے کے لئے اپنا سر آگے بڑھاتا۔ افغان طالبان نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ٹریڈ ٹاورز پر مبینہ حملے کے تمام شواہد فراہم کرے جن سے ثابت ہو کہ اس تباہی کا ذمہ دار اسامہ بن لادن ہے۔واضح رہے امریکہ نے یہ مطالبہ تاحال پورا نہیں کیا نعام تأثر یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اس دعویکیصداقت ثابت کرنے کے لئے ٹھوس شواہد نہیں ہیں، سارا ڈرامہ امریکی مقتدرہ نے تیار کیاتھا جیسے عراق پر حملہ کرنے سے پہلے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا اسلحے کی موجودگی کا پروپیگنڈا کیا تھا۔نہ ہی امریکہ یہ بتانے کوتیار ہے کہ اسامہ بن لادن کی لاش کہاں ہے؟مان لیتے ہیں امریکہ نے اسامہ بن لادن کو مردہ حالت میں گرفتار کیا تب بھی قانون کے مطابق اسے دنیاکے سامنے اس گرفتاری کے تمام شواہد پیش کرنا لازم ہے۔اس حقیقت سے بھی کوئی ذی ہوش انسان انکار نہیں کر سکتا کہ لاکھوں افغان شہری امریکی بمباری اور فوجی کارروائی میں قتل ہوئے۔ان کی املاک تباہ ہوئیں۔اس کے علاوہ لاکھوں افغان شہری ہمسایہ ممالک میں مہاجروں کی زندگی بسر کرنے کرنے پر مجبور ہوئے۔پاکستان بھی اس جنگی کارروائی کے نتیجے میں بری طرح متأثر ہوا۔پاکستان پر 480ڈرون حملے کئے گئے۔70ہزارسے زائد پاکستانی شہریوں، فوجی جوانوں اور افسروں نے جانی قربانی دی بلکہ آج بھی سرحد پار سے بھیجے گئے دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں۔ 150ارب ڈالر کے لگ بھگ مالیت کی املاک تباہ ہوئیں۔بھارتی نیوی کا افسر پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور بھارت عالمی عدالت کے حکم کی تعمیل سے بھی روگردانی کر رہا ہے،کلبھوشن کو قانونی مدد فراہم کرنے میں بیجا تاخیر اور ٹال مٹول کر رہا ہے۔بھارتینرویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایران اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں۔اس تناظر میں پاکستان نے بجا طور پر درست اور بروقت دنیا کو خبردارکیاہے کہ افغان حکومت کے ساتھ مل کر نئے افغانستان کی تعمیر میں حصہ لیا جائے۔بصورت دیگر اس تباہی کادائرہ وسیع ہوگا، کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔جی 20 کی جانب سے ایک ارب یورو کی امداد اچھا آغاز ہے۔لیکن امریکہ اس تباہی کا اصل ذمہ دار ہے اسے بھی (تاوان کے طور پر)افغانستان کی از سرِ نو تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔عالمی برادری 4کروڑ افغانیوں کی مشکلات میں اضافہ کی امریکہ کو اجازت نہ دے۔افغان حکومت کے فنڈز روک کر ان کے مصائب اور غم و غصہ میں اضافہ نہ کیا جائے۔امریکہ کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ اپنی ناقص حکمت عملی اور عاقبت نا اندیشی کے باعث پہلے ہی تنہا ہوچکا ہے۔حتیّٰ کہ یورپی یونین کی حمایت اور ہمدردی سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ امریکی مقتدرہ کو مان لینا چاہیئے کہ امریکہ عالمی برادی میں ایک ملک حیثیت رکھتا ہے، اسے دوسرے ملکوں کی سرحدوں کا احترام کرنا ہوگا۔بصورت دیگر اس کی سرحدیں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔شمالی کوریا کی ناراضگی بلا جواز نہیں، ان کا ملک توڑا گیا، ان پکے خلاف ناروا پابندیاں لگائی گئیں۔اس کے علاوہ شمالی کوریا ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ بین البراعظمی میزائل کا تجربہ بھی کر چکا ہے۔امریکہ چین کی سمندری حدود میں مداخلت کرے گا تو اسے چین کے جوابی حملوں کے لئے بھی تیار ہنا ہوگا۔چین اس کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو بھارت کے ساتھ کر رہا ہے۔ڈوبنے والی آبدوز کے بارے میں امریکہ سے کہاجا رہا ہے کہ اس کی تحقیقات سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے۔یاد رہے کابل انخلاء 22ویں صدی کا ایسا واقعہ ہے جس نے نئے سوال اٹھا دیئے ہیں۔ان سوالات کا جواب عالمی برادری نے سنجیدگی سے تلاش کرنا ہے تاکہ آئندہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکی نہ دے سکے،فوج کشی نہ کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں