کوئٹہ، شہدائے ہوشاپ کے لواحقین کا میتوں کے ہمراہ چوتھے روز بھی دھرنا جاری، شرکاء کی حالت بھی خراب ہونے لگی

کوئٹہ :شہدائے ہوشاپ کے لواحقین کی جانب سے میتوں کے ہمراہ چوتھے روز بھی دھرنا جاری، دھرنے پر بیٹھے لواحقین کی حالت بھی خراب ہونے لگی دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے دعوی کیا ہے کہ کوئٹہ میں دھرنے میں بیٹھے لواحقین کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔بلوچستان کے ضلع کیچ میں دھماکے سے دو بچوں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کے بعد لواحقین نے میتوں کے ہمراہ شہید فیاض سنبھل چوک پر میتوں کے ہمراہ ہفتے کو چوتھے روز بھی دھرنا جاری رہا اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں،سماجی تنظیموں سمیت وکلا برادری ودیگر کی جانب سے لواحقین سے ہمدردی کااظہار کیاگیا۔لواحقین نے 7مطالبات پیش کرتے ہوئے کہاکہ فوری طورپر علاقے میں عوامی مقامات،عام آبادیوں،اسکول،کالجز اور بازاروں سے ایف سی کو ہٹایاجائے،عوامی مقامات سے ایف سی کی چیک پوسٹ اورکیمپ ختم کرکے ان کی جگہ پولیس اور لیویز تعینات کی جائے،شہید تاج بی بی اور شہدائے ہوشاپ کے ماورائے عدالت قتل کے مقدمات آئی جی ایف سی ساؤتھ کے خلاف درج کی جائیں،ڈپٹی کمشنر کیچ کو حقائق چھپانے ملزمان کو تحفظ دینے جیسے جرم کے مرتکب ہونے پر فوری طورپر معطل کیاجائے،شہدائے ہوشاپ کے لواحقین کو جبری نقل مکانی سے نجات دیکر آبادئی گاؤں میں رہنے کی اجازت اور تمام مظالم کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں اسپیشل ٹریبونل قائم کیاجائے تاکہ وہ شفاف انداز میں تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائیں۔ دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے دعوی کیا ہے کہ کوئٹہ میں دھرنے میں بیٹھے لواحقین کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔غریب اور معصوم لواحقین کے تمام جائز مطالبات مان لیے گے۔چند عناصر جن کا نہ تو لواحقین سے کوئی ذاتی رشتہ ہے اور نہ علاقے سے وہ اپنی ذاتی مفادات اور مذموم مقاصد کے لئے حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں عوام کی جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں