حکومت اورمذہبی جماعت کے درمیان سمجھوتہ

حکومت کے سر پر منڈلاتا ہوا بڑے جانی ومالی نقصان کا خطرہ ٹل گیا، عوام اعصابی تناؤ سے نکل آئے، افواہ سازی کے کارخانے کوئی نیا چٹکلا ہاتھ آنے تک عارضی طور پر بند۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والی مذہبی جماعت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، منگل یا بدھ کی شام تک پرانے معاہدے سمیت تمام معاملات سلجھ جانے کی نوید سنا دی۔دوسری طرف مذہبی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ منگل کی شام تک مریدکے والا دھرنا جاری رہے گا۔ انتظامیہ کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ جی ٹی روڈ کے علاوہ باقی تمام مقامات پر کنٹینرز سائیڈ پر لگا دیئے جائیں۔یہ اطلاعات میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں پہنچیں تو سڑکیں عوام کے کھل گئی ہیں، ٹریفک معمول کے مطابق سڑکوں پر رواں دواں جاری ہے۔اگر منگل /بدھ کی شام تک سمجھوتے میں طے شدہ معاملات پر عمل درآمد ہو گیا تو عام آدمی کو یقین ہوجائے گا کہ طویل عرصے تک ہنگامہ آرائی سے جان چھوٹ گئی ہے۔حکومت کے رویئے اور لہجے سے یہی جھلکتا ہے کہ تمام نکات پر عملدرآمد کر لیا جائے گا۔ان اقدامات میں مذہبی جماعت کے خلاف مقدمات کا خاتمہ، سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی، جماعت کا نام فوریھ شیڈول سے نکالنا شامل ہے۔وزیر داخلہ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے وہ آج بھی سپاہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا جس حکومت کے وہ وزیر داخلہ ہیں ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے حوالے سے اس کی نیت پر شبہ کی کوئی وجہ اور بنیاد نہیں۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی نہیں کرنا چاہتے تھے مگر دوستوں کے اصرار پر میں راضی ہوگیا۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذہبی جماعت کی قیادت کے سامنے عالمی حالات رکھے، انہیں بتایا گیا کہ پاکستان واحد مسلم ریاست ہے جو ایٹمی قوت ہے، اسے ایف ای ٹی ایف کی شرائط کا سامنا ہے۔حالات کا تقاضہ ہے کہ دانشمندانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ ریاست کبھی نہیں چاہتی کہ تصادم اور ٹکراؤ کی پالیسی پر چلے۔ویسے بھی آئندہ انتخابات میں 21ماہ رہ گئے ہیں، سب کو عوام کے پاس جاناہے۔ووٹ بینک کے لحاظ سے ٹی ایل پی پنجاب کی تیسری بڑی جماعت ہے۔ عام آدمی اس سمجھوتے کو خوش آئند اقدام سمجھتا ہے۔اس خطرے کے ساتھ حکومت کو پی ڈی ایم کی جانب سے چلائی جانے والی مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک اورمظاہروں کا بھی سام،نا ہے۔ اسے اتفاق کہیں یا کوئی دوسرا نام دیں‘ مذہبی جماعت کے لانگ مارچ‘ پولیس تصادم اور دھرنوں سے پی ڈی ایم کو کمک مل گئی تھی تھی،وہ اس کے ہاتھ سے جاتی رہی۔اب گیند سو فیصد حکومت کے کورٹ میں ہے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا۔سابقہ معاہدوں پر وزیر داخلہ کے دستخط موجود ہیں، ان کی ذمہ داری دو چند ہو گئی ہے۔کسی نئی غلطی کی ان کے پاس گنجائش نہیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد پاک بھارت ٹی 20میچ دیکھے گئے ہوئے تھے وزیر اعظم کی ہدایت پر میچ سے پہلے ہی وطن واپس پہنچ گئے،اچھا کیا ورنہ ان کی عدم موجودگی کو”جان کے خوف سے بیرون ملک فرار“ کہا جا رہا تھا، اور ملکی تناظر میں یہ تبصرہ سچائی کے بہت قریب لگتا تھا۔وزیر داخلہ کا پیغام آنے کے بعد یو ٹیوبرز کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا شاندار موقع مل گیا تھا نئے معاہدے کے بعد منگل/بدھ کی شام تک اس کے ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ افواہ ساز وزیر اعظم اور آرمی چیف کو آپس میں گتھم گتھا دکھاکر دونوں میں سے کسی ایک کا استعفیٰ آنے کی پیشگوئیوں مین مصروف تھے۔ہرایک کے پاس دلائل کی لمبی فہرست تھی۔ان کے لہجے اور باڈی لینگویج سے محسوس ہوتاتھا جیسے ان میں سے آدھے جی ایچ کیو میں بیٹھے ہیں اورآدھے وزیر اعظم ہاؤس میں موجود ہیں؛دونوں مقامات پر ہونے والی چہل پہل، کھسر پھسر اور سرگوشیاں ان کے علم میں ہیں۔ تمام حرکات و سکنات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔لیکن سنجیدہ فہم و فراست والے حلقوں کے نزدیک یہ رویہ صحافی آداب کے منافی تھا، کوشش کی جائے کہ مستقبل میں اس کا اعادہ نہ ہو۔ افواہ سازی‘ رپورٹنگ اور تجزیئے میں فرق کو فراموش نہ کیا جائے۔سیاست دان بھی ملکی اور عالمی تقاضوں کو سامنے رکھیں۔ سیاست کریں‘ افواہوں کا سہارا نہ لیں۔یہ ملک اور عوام مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ سوال یہ نہیں غلطی کس کی ہے یا کون اس صورت حال کا کس حد تک ذمہ دار ہے؟حقیقت یہ ہے کہ مشکلات ماضی کے مقابلے میں بڑھ چکی ہیں، اسباب کی تلاش کی جائے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جڑیں ماضی میں پیوست ہیں۔ یہ ملک سب کا ہے، سب نے مل کر اسے مشکلات سے نکالنا ہے۔ٹی ایل پی کے دھرنے کا نون لیگ سامنا کر چکی ہے۔اسے پی ٹی سے زیادہ علم ہونا چاہیے کہ مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کرانا آسان نہیں۔عدالتی فیصلے بھی جذتی فضاء اورعقائد کی تند و تیز ہوا میں کاغذ کے پرزوں کی طرح اڑتے نظر آتے ہیں۔انتظامیہ اتنی ہی بے بس نظر آتی ہے جتنی کہ آج دکھائی دے رہی ہے۔حکومت کو مشکل صورت حال درپیش ہو توغیر روایتی سمجھوتوں پر دستخط کرنے پڑتے ہیں۔ مشکل حالات میں روایتی فیصلے کام نہیں آتے۔ان سمجھوتوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔کس کی جیت اور کس کی ہار جیسی فضول بحث میں الجھنے سے گریز کیا جاتا ہے۔انا اور ضد کو دیوار نہیں بننے دیا جاتا۔جو ملک داخلی مسائل سے نمٹنے میں دیر کرتا ہے اسے امریکہ اور بھارت جیسی صورت حال کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہنگامہ آرائی
کسی کے مفاد میں نہیں۔حکومت کی تبدیلی کا جمہوری راستہ موجود ہے،21 ماہ مردم شماری اور انتخابی قانون سازی میں بیت جائیں گے۔ہلڑ بازی سے بچا جائے۔معاشی مشکلات میں گھرے ووٹرز اگر ووٹ ڈانے پولنگ اسٹیشن تک نہ آئے، سیاسی مایوسی انہیں ناراضگی کی آخری حد تک لے گئی تو سیاست دان بھی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔بھوک، بیروزگاری اور بیماری انسان سے درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی چھین لیتی ہے۔ووٹرز کو مایوسی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ عجلت کی بجائے تحمل اور بردباری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔اپنی موجودگی کا احساس دلانا اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا ہر سیاسی پارٹی کی پہلی ترجیح ہونی چاہیئے۔ عوامی مسائل کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرانا اپوزیشن کا حق اور ذمہ داری ہے۔اس میں کوتاہی نہ برتی جائے۔احتجاج کیا جائے لیکن عوام کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں