جام کمال خان عالیانی مستعفی
جام کمال خان عالیانی بی اے پی کے ناراض اراکین کو راضی نہیں کر سکے‘اپنے وعدے اور اعلان کے مطابق اکثریت کی حمایت سے محروم ہوتے ہی گزشتہ روزگورنر بلوچستان کو استعفیٰ پیش کر دیا‘ استعفے کی منظوری کے ساتھ ہی کابینہ تحلیل ہوگئی۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اس موقع پر ناراض اراکین اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے،اور خرید و فروخت کی مذموم روایت دم توڑ گئی، آخری لمحات میں کسی رکن کا ضمیر نہیں جاگا، نہ ہی عوام نے ایسے مناظردیکھے کہ قانون ساز ادارے کے بعض ”معزز اراکین“ سے بیلٹ پیپر پر مہر لگاتے وقت غلطی سرزد ہوئی۔صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں بی اے پی کے ناراض ارکان نے قانونی تقاضہ پورا کرنے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی‘ آئندہ اجلاس میں نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوگا۔نئے قائدِ ایوان کے لئے موجودہ اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔ توقع ہے کہ جان محمد جمالی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ سنبھالیں گے۔نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان عوامی پارٹی کے اسپیکر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔توقع ہے کہ وہ اپنے دور میں جمہوری روایات کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ شکایات نہیں پیدا ہونے دیں جو ان کے پیش رو وزیر اعلیٰ کے دور میں بی اے پی کے اکثریتی(ناراض) گروپ کو سابق وزیر اعلیٰ سے رہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے اچھی مثال قائم کریں گے۔باہمی مشاورت اور مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے عوام کے مسائل حل کریں گے۔بہتر سیاسی ماحول وجود میں آئے گا۔لیکن یہ بھی یاد رہے جمہوری روایات راتوں رات قائم اور مستحکم ہونا ممکن نہیں،خدشات ابھی بھی سیاسی افق پر منڈلا رہے ہیں۔فنڈز کے درست استعمال کوعملاً یقینی بنانانئی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیئے۔سب جانتے ہیں‘گزشتہ چار دہائیوں میں کرپشن کو دیگر اخلاقی اقدار پربالا دستی حاصل رہی۔ فنڈز منصوبوں پر کم خرچ ہوئے، جیبوں میں زیادہ ڈالے گئے۔ مالیاتی خورد برد کاایک مقدمہ ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت پہنچا، وزارت خزانہ کے سیاسی اور سرکاری سربراہان عدالت میں اپنی بیگناہی ثابت نہیں کرسکے۔سابق وزیر اعلیٰ نے تین سال دو ماہ سے زائد حکومت سنبھالی جبکہ نو منتخب وزیر اعلیٰ کے پاس 21ماہ(پونے دو سال) ہیں‘ بہتر کارکردگی سے عوامی شکایا ت دور کی جا سکتی ہیں۔بلوچستان کا بڑا مسئلہ اور دردِ سر کرپشن ہے۔پہلی ترجیح فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانا ہے۔خاتون رکن اسمبلی نے(سابق) قائد ایوان کی موجودگی میں جو کچھ کہا ریکارڈ کا حصہ ہے۔نئے وزیر اعلیٰ کے لئے یہ عہدہ اور ذمہ داریاں نئی ہیں‘اگر وہ خاتون رکن اسمبلی کی ایوان کے فلوربیان کردہ شکایات دور کرنے میں کامیاب ہوگئے تو صوبہ درست ڈگر پر آجائے گا۔یاد رہے کہ صرف چہرے کی تبدیلی سے صوبہ مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکتا‘ کردار اورنظام کی تبدیلی درکار ہے۔ جام کمال خان نے بھی ناراض خاتون رکن اسمبلی کی دکھ بھری مگر شائستہ تقریر سنی ہوگی، انہیں اپنی کارکردگی کاجائزہ اسی تقریر کی روشنی میں لینا چاہیئے۔نئے وزیر اعلیٰ بھی اس تقریر کو سامنے رکھیں۔اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر کوشش کریں کہ ایوان کے دامن پر کوئی نیا داغ نظر نہ آئے۔انہیں معلوم ہوگامالیاتی خورد برد اپنے ساتھ رسوائی بھی لاتی ہے۔کابینہ کو قائل کریں اس سے دور رہا جائے۔اراکین اسمبلی اگر سمجھتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کم ہے‘ اس میں مناسب اضافہ کرلیں مگر ایوان کی تقدیس پر حرف نہ آنے دیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ عالمی دباؤ کی کڑی نگرانی کے باعث کرپشن مشکل ہوتی جائے گی۔معزز اراکین کی اکثریت کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے، کرپشن سے دور رہنا ان کی نیک نامی میں اضافہ کا سبب بنے گا۔عوام کی خدمت کا سلوگن جب بھی اراکین کی نظروں سے اوجھل ہوا اس کا نقصان سیاست کو پہنچا۔یہ الگ بات ہے کہ ماضی میں بوجوہ پرانے چہرے معمولی سی تبدیلی کے ساتھ اسمبلی پہنچے اورانہوں نے پرانی روش پر چلنا پسندکیا۔اس حقیقت سے سب واقف ہیں، سب جانتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی موڈ کا ادراک کریں،اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے پر اصرار نہ کیا جائے۔جو نمائندے عوام کے مسائل کریں گے وہی عوام کی آنکھوں کا تارا بنیں گے۔پارٹی کے ناراض اراکین کی جانب سے کمال خال خان عالیانی کے مستعفی ہونے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ دے کر پارٹی کو ٹوٹنے سے بچا لیا ہے۔اس معاملے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بی اے پی کی قیادت اصل حقائق سے بے خبر ہے،ناراض اراکین میں اہم وزراء بھی شامل ہیں۔یہ منظر پہلی مرتبہ دیکھاگیا ہے خود وزیر خزانہ کو شکایت ہے کہ انہیں حلقے میں ترقیاتی اسکیموں کے لئے مناسب فنڈز نہیں ملے۔ شکایت میں وزن نہ ہوتا تو وزیر ہوتے ہوئے وہ اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف پریس کانفرنسزمیں شریک نہ ہوتے۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ختم ہوتے ہی عبدالقدوس بزنجوکا اسپیکر شپ سے استعفیٰ آجانے کے بعدصورت حال واضح ہو گئی ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی کرسی پر وہی بیٹھیں گے۔لیکن بعض مبصرین اس موقع پر یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا حکومتوں کی تبدیلی کا عمل اس کے بعد تھم جائے گا؟ یا اس کے بعد پنجاب کی باری آئے گی؟اور وہاں سے گزرتی ہوئی وفاق تک جائے گی؟واضح رہے حکومت تبدیل ہوئی ہے‘ سرکاری پارٹی تبدیل نہیں ہوئی۔اگر پارٹی وہی رہے اور وزیر اعلیٰ سمیت کابینہ بدل جائے تو اپوزیشن کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔وفاق میں تا حال عمومی تأثر یہ ہے کہ ابھی پی ٹی آئی میں عمران خان کا عوام کے لئے قابلِ قبول متبادل لیڈر دستیاب نہیں، اس لئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وفاق میں بھی یہی مشق دہرائی جا نے کا امکان ہے۔اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ جب تک طاقت ور اور عوام کی بھرپور حمایت رکھنے والا لیڈر پی ٹی آئی میں سامنے نہیں آتا بلوچستان جیسی تبدیلی نہیں آئے گی،بلوچستان میں تبدیلی کے مقبول لیڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔دیگر صوبوں بھی کبھی کسی نے عوام کے پسندیدہ ہون کی آواز بلند نہیں ہوئی۔ مقتدر حلقے جانتے ہیں کہ عدالت سے تا حیات نااہلی کا فیصلہ آ جانے کے بعد بھی نواز شریف کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکا۔پی ڈی ایم کے جلسوں اورسربراہان کے بند کمرے کے اجلاس سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہیں اور ان کا بیان ہی پی ڈی ایم کی سمت اور موڈ متعین کرتا ہے۔نون لیگ کے الیکشن کمیشن کی فہرست کے مطابق”وفاقی صدر“ کی ان کا بھائی ہے مگرنون لیگ کاقائد نہیں بن سکا۔سیاست میں تمام پہلوسامنے رکھ کر کسی نتیجے تک پہنچنا ضروری ہے۔ ادھورے تجزیئے خواہشات ہو سکتی ہیں، زمینی حقیقت نہیں بن سکتیں۔عالمی تناظرسے آنکھیں بند رکھنا درست نہیں۔پاکستان دنیا کا حصہ ہے۔ بلوچستان پاکستان کا ایک صوبہ ہے‘ عالمی تناظراور ملکی مفادات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔


