فواد چوہدری کی موجودہ ملکی صورتحال پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی تجویز

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی تجویز دے دی، فواد چوہدری کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے موقعے پرمشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیئے، سیاسی جماعتوں کوسیاسی میدان برابری کی سطح پر ملنا چاہیے، اگر ایسا نہیں ہوگا تو کراچی جیسی صورت حال ہوجائے گی، حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ذریعے اصلاحات کی کوشش کی لیکن اپوزیشن اصلاحات کے لے سنجیدہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی تحریک چلانا سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے کلاشنکوف کے زور پر بازار بند نہیں کرائے، اس لیے سیاسی جماعتوں کی تحریک کو متشدد مذہبی جماعتوں سے ملانا درست عمل نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان برابری کی سطح پر ملنا چاہیے، اگر برابری کی سطح پرمیدان نہیں ملے گا تو کراچی جیسی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔فواد چوہدری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسیمواقع پرمشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے، حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ذریعے آئین میں اصلاحات کی کوشش کی، انتخابی اصلاحات، نیب قوانین میں اصلاحات کی کوشش کی لیکن اپوزیشن اصلاحات کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، ہم نیاپنی پوری کوشش کی کیوں کہ اگر ایڈمنسٹریٹو اسٹریکچر مضبوط نہیں کریں گے تو صورت حال عراق اور شام جیسی ہوجائے گی۔ادھر وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی موجودہ صورتحال میں وفاقی وزرا کو سخت بیان بازی سے روک دیا، قومی روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کو سخت بیان بازی سے روکتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مذاکرات تک سخت بیان بازی سے گریزکیا جائے، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزرا کو یہ ہدایات علما کی شکایت پر دی گئی ہیں کیوں کہ علما و مشائخ نے وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات کے دورا ن وفاقی وزرا کے بیانات پر اعتراض کیے تھے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے علما و مشائخ سے کہا کہ میں بھی سچا عاشق رسول ؓ ہوں، میں نے اس معاملے پر عالمی سطح پر آواز بلند کی ہے، انہوں نے اس موقع پر عالمی سطح پر ناموس رسالت پر اٹھائی گئی آواز کے حوالے دئیے اور کہا کہ ہم نے رحمت للعالمین ؓ اتھارٹی بھی بنائی۔ وزیراعظم عمران خان نے علما و مشائخ پر باور کروایا کہ میں کالعدم تنظیم (ٹی ایل پی)کے معاملے کے پرامن حل کا خواہشمند ہوں، ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص خراب ہورہا ہے، بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کر رہا اور اس تمام صورتحال کا فائدہ مخالفین کو پہنچ رہا، ذرائع کے مطابق عمران خان نے علما کی ایک تجویز پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں غلط روایت نہیں ڈالوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں