جمہوری جنگ جمہور لڑتے ہیں
آئین کے مطابق پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اورجمہوری جنگ جمہور لڑتے ہیں۔ ملک میں جمہوریت قائم و رائج کرنے کا اعلان تو آئین میں کر دیا گیا لیکن بدقسمتی سے سیاست جمہوری مزاج اختیار کرنے میں ناکام رہی۔سیاسی فیصلوں میں عوام کی شرکت تا حال بحال نہیں ہوئی۔ 2018 کے انتخابات میں متعارف کرائی گئی الیکٹرانک مشین درمیان میں ہی ”hang“ہو گئی، پہلا تجربہ تھا، کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوجانے کا امکان یکسر مسترد نہیں کیا جانا چاہیئے تھا، مگر ماضی میں دھاندلی کے ناقابل تردید شواہد کی موجودگی میں غالب گمان یہی رہا کہ مشین کسی فنی خرابی کے نتیجے میں خراب یا بند نہیں ہوئی بلکہ اسے دانستہ بند کیا گیا تھا تاکہ من پسند نتائج مرتب کئے جا سکیں۔ جسے رکنی عدالتی کمیشن نے اپنی تحقیقات مجتمع کرتے ہوئے 40معمولی غلطیاں قرار دیا تھا ان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرز کی سلپ پیش کرنے کی بجائے بوریوں سے بڑی مقدار میں ردی اخبارات بر آمد ہونا بھی شامل تھا۔جب الیکشن کمیشن کی افرادی قوت (بشمول عدلیہ کے مستعارلئے گئے ریٹرننگ افسران) کاانتخابی دھاندلی میں ملوث ہونا ثابت ہوگیا اور ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں ریٹرننگ افسران کا ڈالے گئے ووٹوں کے تھیلے اپنی بغل میں دبا کردانستہ اور رضاکارانہ طور پر ساری رات کسی خفیہ مقام پر پر اسرار مقاصد کے لئے غائب رہنا ثابت ہوگیا تو الیکشن کمیشن کی بددیانتی، نااہلی اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں دانستہ غفلت برتنے میں کسی شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہی۔ایسے حالات میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ از حد ضروری ہو گیا تھا۔سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں بینک اکاؤنٹس اگر جدید ٹیکنالوجی کسی ”دھاندلی اور فراڈ“کے بغیر خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے توووٹنگ ریکارڈ محفوظ رکھنا ناممکنات میں سمجھنا درست رویہ نہیں۔ Trace and Track system کو صنعتکاروں نے تسلیم کر لیا ہے،حالا نکہ وہ جانتے ہیں کہ اس مشین کا براہ راست تعلق ایف بی آر سے ہے۔ میڈیا ابھی پرانے نظام سے استفادہ کر رہاہے،تاہم اس کے خدشات یکسر بے بنیاد نہیں حکومت کو چاہیئے کہ اس مہلت کے دوران باہمی مشاورت سے متنازعہ امور کی اصلاح کرلے۔اس میں شک نہیں کہ حکومت کی پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں غیر متوقع کامیابی کے بعد مجوزہ میڈیابل کو منظور کرانے کی راہ خاصی حد تک ہموار ہو گئی ہے۔اورحالیہ اجلاس میں یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ حکومت اگر اپنے پارٹی ارکان اور اتحادی جماعتوں کی ایوان میں حاضری یقینی بنانے کے لئے ”ضروری اقدامات“کر لے تو آئندہ بھی اپوزیشن اپنی عددی قلت کی بناء پر منظوری کا راستہ نہ روک سکے گی،جس طرح حکومت دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے سبب کوئی آئینی ترمیم نہیں کرسکتی۔ مگر جب نادیدہ قوتوں کی طرف سے ایسا کرشماتی جھرلو گھمایا جاتا ہے جس کے اثرات سے مغلوب ترمیم کے لئے درکار تعداداگلے روز ایوان میں موجود پائی جاتی ہے۔وجہ کوئی نہیں بتاتا کہ اتنی بڑی تبدیلی راتو رات کیسے آگئی؟اپوزیشن اور حکومت باہمشیر و شکر کیسے ہو گئیں۔بعض دانشور مسلسل یاد دہانی کرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، کوتاہی نہیں کرتے کہ اس قسم کی ”جھرلو مشقوں“ کے نتیجے میں ملک اپنے قیام کے 24سال بعد ہی دو لخت ہوگیا تھا۔ اور یقینا یہ بہت بڑا سانحہ تھا۔اب شنید ہے کہ تبدیل شدہ عالمی منظر اور خطے میں رونما ہونے والے مخصوص واقعات کے تناظر میں امکانات پیدا ہونے لگے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین تعقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ فروری میں بنگلہ یش سے محترمہ حسینہ واجد تشریف لارہی ہیں، اس موقع پر متعدد معاہدوں پردونوں جانب سے دستخط کئے جائیں گے۔ غلطیاں سرزد نہ ہوتیں تو ملک دولخت نہ ہوتا۔ قربتیں دوریوں کی شکل اختیار نہ کرتیں،محبتیں نفرت میں تبدیل نہ ہوتیں۔دشمنوں کی تمنائیں ادھوری رہتیں۔لیکن اب زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں، ماضی پر آنسو بہانے سے کچھ نہیں ملے گا،دانشمندی سے ماضی کی غلطیوں کاازالہ کیا جائے۔ملکی معاملات میں بھی جمہوری اقدارکو سامنے رکھا جائے۔غیر جمہوری رویہ نقصان دہ ہے، اس سے گریز ملکی استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیئے کہ عوام انتخابی عمل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ورنہ دھاندلی کاراستہ بہت پہلے بند کی جا چکا ہوتا۔اس عدم دلچسپی کے اسباب غور طلب ہیں۔انتخابات کے دوران ماضی جیسی رونقیں بتدریج ختم ہوتی چلی گئیں،یہ رویہ کسی بڑے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔بروقت توجہ نہ دی گئی اور اصلاح احوال میں تاخیر کی گئی تو نقصان کا حجم اور وزن قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔اپوزیشن اور اس کے ہمدرد نہ جانے کیوں 90کی دہائی سے باہر نکلنے کو تیار نہیں؟تین دہائیوں میں دنیا بدل جاتی ہے۔تاریخ کاپہیہ آگے کی سمت گھومتا ہے۔آج کوئی شخص گراموفون استعمال نہیں کرتا، تین دہائیاں قبل بیرون ملک سے لوٹنے والے اسے ایک سوغات کے طور پر”3ان ون“لایا کرتے تھے۔ کمپیوٹر کی آمد کے ساتھ ہی پرانے ذرائع ابلاغ متروک ہو گئے۔آج واٹس ایپ سب کو نگل گئی ہے۔مگرواٹس ایپ ہاتھوں میں لئے گھومنے والی اپوزیشن کو آج بھی یقین ہے کہ وہ پرانی سوچ اور رویوں کے ساتھ عوام اور مقتدر حلقوں میں اتنی ہی مقبول ہے جتنی 90کی دہائی میں مقبول تھی۔اس نے اپنی آنکھیں جان بوجھ کر بند کر رکھی ہیں۔وہ خطے میں رونماہونے والی تبدیلیوں کی طرف آنکھ اٹھا دیکھنے کو تیار نہیں۔جو توجہ دلائے اسے بھی حکومتی کاسہ لیس سمجھتی ہے۔عالمی سطح پر امریکہ اپنی ماضی والی ساکھ کھو چکا ہے۔ محض تھوڑے دن صبر کریں، امریکی مقتدرہ اور حکومت عوام کے کٹہرے میں سخت سوالات کا سامنا کرتی نظر آئیگی۔پہلے ایک فون کال پر مقتدرہ کوئی مطالبہ کئے بغیر ”دوست“ ہونے کا یقین دلاتی تھی۔آج ہزاروں فوجیوں اور سویلین کی شہادتوں کا ذکر کرتی ہے۔نہ روس پرانا سوویت یونین ہے اور نہ یو ایس اے کے پاس پرانی کروفر ہے۔روس کو دس سالہ افغان جنگ لے ڈوبی، اور امریکہ سے بیس سالہ جنگ نے گھٹنے ٹیکوا دیئے۔ جو قوم ایک پیاز اور دو روٹیوں پر قناعت کر لے اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔بعض پاکستانی سیاست دان ایران جیسے انقلاب کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس مجوزہ ”انقلاب“ کی قیادت کے لئے مولانا جیسی شخصیت ہے، آیت اللہ خمینی نہیں ہیں۔وہ پاکستان کے بلاشرکت غیرے قائد نہیں، ایک محدود مکتبہئ فکر کے نمائندے ہیں۔ یاد رہے ان کا بیٹا جیت جاتا ہے، وہ خود ہار جاتے ہیں۔”خمینی“ جیسی شخصیت ہردوسرے روز جنم نہیں لیتی؛اس کے لئے نرگس ہزاروں سال روتی ہے!!!


