ماہی گیروں کا دیرینہ مطالبہ منظور

بلوچستان کے پاس ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل ساحل اوراور پانچ سو ناٹیکل میل(1000کلومیٹر سے زیادہ وسیع یا چوڑا)سمندر ہے۔یہ سمندرآبی وسائل سے مالامال ہے۔جب سمندری وسائل کہا جائے تو اس سے مرادصرف مچھلی، اور جھینگے نہیں ہوتے، بلکہ اس میں تیل اور گیس جیسی قیمتی معدنیات بھی شامل ہیں حالانکہ مچھلی اور جھینگوں سے بھی ساحل پر آباد ماہی گیروں کو اتنی آمدنی ہو سکتی ہے کہ افلاس، بھوک اور بیماری کا علاج کر سکیں،،چھوٹی چھوٹی کچی جھگیوں کی بجائے مناسب رقبے کے پختہ گھروں میں پال سکیں،تعلیم کابندوبست کر سکیں۔عید تہوار اور شادی بیاہ کے مواقع پر اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو نیا لباس پہنا سکیں۔ممکن ہے بعض لوگ سمندری معدنی وسائل کے حجم اوراس کی مالیت سے واقف نہیں۔انہیں سمجھانے کے لئے عالمی تناظر میں ان معدنیات کا موازنہ پیش کیا جائے تا کہ انہیں معلوم ہوسکے؛ سعودی عرب اور اسکینڈے نیوین ممالک(سویڈن، ناروے،ڈنمارک)کو قدرت کی طرف یکساں مقدار میں تیل اور گیس کی دولت فراہم کی گئی تھی۔سعودی عرب کے پاس وسیع و عریض زمینی رقبہ بھی تھامگر اسکینڈے نیوین ممالک کے پاس زمین نہ ہونے کے برابر ہے۔اتنی کم ہے کہ ایک ملک کا نام”نیدر لینڈ“ہے۔اس کے باوجود اسکینڈے نیوین ممالک نے اس دولت کی بروقت اور درست سرمایہ کی اور آج اس کی مالی حیثیت اتنی مستحکم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کوھر بیٹھے 2ہزار ڈالر ماہانہ دے سکتے ہیں۔دعودی عرب کورونا آجائے تو ملازمین کی تنخواہ ادا نہیں کر سکتا۔یہ بھی یاد رہے کہ بلوچستان کا زمینی رقبہ نصف پاکستان کے برابر ہے اور یہ بھی قیمتی معدنیات(تانبا، سونا،چاندی اور یورینیم)بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔لیکن ظالم اور بے حس حکمرانوں نے سیندک کے ذخائر لٹا دیئے، اور ریکوڈک کے ذخائر کاآمدنی کو ذریعہ بنانے کی بجائے 6 ارب ڈالر جرمانے جیسا بھاری بوجھ بنا دیاہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ 3ارب ڈالر قرض لینے کے لئے آئی ایم ایف کی غلامی قبول کر لی۔یہ بھی یادرہے کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے(ڈھائی سالہ) دور حکومت میں غیر ملکی ٹرالرز کی بلوچستان کے سمندر میں غیرقانونی آمداور مچھلیاں پکڑنے کے علاوہ ٹنوں کے حساب سے فاضل مردہ مچھلیاں پھینک کر سمندری ماحو ل کو آلودہ کرنے جیسے جرائم اور ساحلی پٹی پر آباد بلوچ عوام کے مسائل رکھے گئے تھے۔ مگر نون لیگی حکومت نے انہیں یہ کہہ کر خاموش رہنے کی ہدایت کی تھی:
”ان ٹرالرز کے مالکان میں ملکہ برطانیہ سمیت بڑے طاقتور خاندان شامل ہیں“
آج اگر پی ٹی آئی کے سربراہ اور وزیر اعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو ہدایت کر دی ہے کہ غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف ایکشن لیا جائے، تو اسے ایک بہت بڑا اقدام سمجھاجائے۔یہ ہدایت جاری کرنا”بین الاقوامی مافیاز“کے جبڑے چیر کر ان کے حلق سے اپنا حق وصول کرنے کے مترادف عمل ہے۔ بڑے دل گردے والا شخص ہی ایسا قدم اٹھانے کی جرأت کر سکتا ہے۔اپنی نجی جائیدادوں میں اندھا دھند اضافہ کرنے والے صوبائی اور وفاقی حکمران یہ جرأت مندانہ فیصلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔اس کامیابی کا سہرا مولانا ہدایت الرحمٰن کے سر ہے جنہوں نے کسی موقع پرستی کامظاہرہ کئے بغیر ”بلوچستان کو حق دو“ جیسا واضح اور دبنگ نعرہ بلندکیا، چار ہفتوں سے زیادہ دھرنا دیا،جو اب بھی جاری ہے،ریلیاں نکالیں اور جماعت اسلامی نے ”ملک گیر اظہارِ یکجہتی“ کے ذریعے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔اس کے نتیجے میں بلوچستان کوحق دو کا نعرہ ملک کے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے علاوہ آزاد کشمیر،گلگت اور بلتستان کے گلی کوچوں تک پہنچا۔اس موقع پریہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ بلوچ عوام کی پرجوش اور دلیرانہ شرکت کے بغیر بلوچستان کو اس کا حق نہیں مل سکتا تھا۔بلوچ عوام کی شرکت اور قربانیاں ہی اس کامیابی کی بنیادبنی ہیں۔غیر ملکی ٹرالرز کی بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی موجودگی کے علامتی معنے یہی ہوتے ہیں کہ صوبائی اور وفاقی حکمران عالمی مافیاز سے بوجوہ خوف زدہ تھے۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بطور وزیر اعلیٰ دیئے گئے بیان سے صرف اور صرف یہی معنے اخذ کئے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے بھی مافیاز میں تاجِ برطانیہ جیسے نام دیکھ کر خاموشی کو بہتر سمجھا۔اس وقت عالمی منظر پر مافیاز ہی چھائی ہوئی تھیں۔کابل سے امریکی انخلاء کے بعد منظر تبدیل ہوا ہے۔پاکستان کو Absolutely notکہنے کا حوصلہ ملا ہے،غیرملکی غیرقانونی ٹرالرز کی بلوچستان کے سمندر میں آمد کے خلاف ایکشن لینے کی وزارتِ داخلہ کو ہدایت دینا ممکن ہوا۔اس کامیابی سے ایک جانب مقامی ماہی گیروں کی معاشی اور معاشرتی حالت میں بہتری آئے گی اور دوسری جانب غیر ملکی اور ملکی مافیاز کو بیک وقت یہ پیغام پہنچے گا کہ ان کی بدمعاشی کے دن اب ختم ہو گئے ہیں۔ شنید ہے کہ برطانیہ میں بھی 5جنوری2022 کے بعدغیر قانونی مقیم پاکستانیوں سمیت تمام افراد کو برطانیہ سے نکلنا ہو گا یا انہیں چار سال کے لئے جیل جانا ہوگا۔کوئی مانے یا نہ مانے دنیا مجرموں کے لئے بتدریج تنگ ہونے لگی ہے۔امریکی مقتدرہ کے لئے بھی اپنے پالتو فرنٹ مینوں کے ذریعے دنیا پر حکمرانی ممکن نہیں رہے گی۔’ڈیموکریٹک سمٹ‘میں چین اورروس کو دعوت نہ دینے اور بیجنگ میں مجوزہ اولمپک کھیلوں میں عدم شرکت سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ایشیاء اور یورپ کے ممالک نے امریکہ کے علاوہ آپشنز پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔بھارت نے بھی امریکی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر اپنے دفاع کے لئے روس کا میزائل شکن سسٹم خریدلیا ہے۔گویا اسے بھی امریکی میزائل شکن سسٹم پر اعتماد نہیں رہا۔اس اقدام کو عالمی تناظر میں غیرمعمولی شفٹ سمجھا جانا چاہیے۔ واضح رہے آج روس اور چین ماضی جیسے دو متحارب ملک نہیں ہیں۔ ان کے مفادات میں یکسانیت دکھائی دیتی ہے۔روسی میزائل شکن سسٹم کا چین مخالف استعمال ممکن نہیں۔جیسے پاکستان ایف سولہ لڑاکا طیارے بھارت کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا۔بھارت شکایت کرے تو امریکی افسران طیاروں کا معائنہ کرنے پاکستان آ جاتے ہیں، ہیں۔بھارت کی تسلی کے لئے ایف سولہ استعمال نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔لگتا ہے روس نے بھی ایسی شرط معاہدے میں رکھی ہوگی یا الگ سے کسی دوسرے معاہدے میں لکھوالیا ہوگا۔بڑے ملک ایسے حساس نوعیت کے سودوں میں بڑا محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آج کل بھارت بھی داخلی اور خارجی محاذ پر مشکلات کا شکار ہے۔کابل سے انخلاء کے بعد امریکہ خود بھی ماضی والا امریکہ نہیں رہا۔اس کے اپنے مسائل کا بوجھ دوچند ہو گیاہے۔اسے احساس ہے کہ اب اس کی عالمی برادری میں ماضی جیسی شان و شوکت نہیں رہی۔یاد رہے چوہدراہٹ جانے کا دکھ معمولی نہیں،وہی جانتا ہے جس کو پہنچے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں