سوڈانی فورسزکی بغاوت مخالف ریلی پرفائرنگ، چارافراد ہلاک
خرطوم :سوڈان میں سکیورٹی فورسز نے فوجی بغاوت کے خلاف دارالحکومت خرطوم اور دوسرے مقامات پراحتجاجی ریلیاں نکالنے والے مظاہرین پرآنسو گیس اوربراہ راست گولہ بارود داغا ہے جس کے نتیجے میں چار مظاہرین ہلاک ہوگئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سوڈانی ڈاکٹروں کی کمیٹی نے ٹویٹ کیا کہ ہلاکتیں خرطوم کے جڑواں شہر ام درمان میں ہوئیں اور بہت سے مظاہرین زخمی ہوئے۔ سخت حفاظتی اقدامات اور پلوں اور سڑکوں کی بندش کے باوجود25 اکتوبر کوفوج کے اقتدارپر قبضے کے خلاف ہزاروں سوڈانیوں نے ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔خرطوم میں ہزاروں افراد مظاہرے میں شریک تھے،وہ ڈھول بجا رہے تھے اور سوڈانی جھنڈے لہرا رہے تھے۔مظاہرین نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بکتربند گاڑیوں پر جوابی پتھراؤ کیا جہاں سے آنسو گیس چلائی گئی تھی۔اسی طرح کے مظاہرے ملک کے دیگر حصوں بشمول مغربی صوبوں کسالہ اور دارفراور ساحلی شہر پورٹ سوڈان میں بھی ہوئے۔ڈاکٹروں کی کمیٹی نے ڈاکٹروں کوام درمان کے اسپتالوں میں پہنچنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بہت سے لوگوں کی حالت تشویش ناک ہے۔یہ کمیٹی سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن کا حصہ ہے جس نے عوامی بغاوت کی قیادت کی تھی اورجس کے نتیجے میں 2019 میں سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کو معزول کر دیا گیا تھا۔ایڈووکیسی گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق مظاہروں سے قبل موبائل انٹرنیٹ سروس میں خلل پڑا۔ یہ فوجی بغاوت کے بعد سے جرنیلوں کی جانب سے استعمال کیا جانے والا ایک معمول کا حربہ تھا۔انٹرنیٹ سروس منقطع ہونے کے باوجود بعض کارکنوں نے چند ویڈیوزسوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔ان میں نقاب پوش مظاہرین کو اشک آورگیس کے بادلوں کے نیچے دیکھا جاسکتاہے۔


