ملک میں 7ویں مردم شماری اگست2022میں ہو گی
اسلام آباد:ملک بھرمیں 7ویں مردم شماری اور خانہ شماری رواں سال اگست2022میں ہو گی،جس پر مجموعی طور پر23ارب روپے کے اخراجات آئیں گے،پاکستان ادارے شماریات نے مردم شماری کیلئے سٹیشنری اخراجات کی مد میں ساڑھے27کروڑ،سیکیورٹی کی مد میں 6ارب، ٹی اے ڈی اے اور اعزازیہ کیلئے1.97کروڑ روپے مانگ لئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں ساتویں مردم شماری اور خانہ شماری کیلئے یکم اگست2022سے 31اگست2022زیر تجویز ہے،مذکورہ تاریخیں مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے مشروط ہیں۔دستاویزات کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس)نے وزارت خزانہ سے مجموعی طور پرساتویں مردم شماری کیلئے متوقع23ارب روپے دینے کا مطالبہ کیا ہے۔مالی سال 2021-22میں مردم شماری کی تیاریوں کیلئے وزارت خزانہ نے ادارہ شماریات کو5ارب روپے جاری کر دئیے ہیں جبکہ باقی رقم مردم شماری شروع ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔ دستاویزات کے مطابق ادارہ شماریات کی جانب سے گاڑیوں،پی او ایل کی ہائرنف کیلئے 4ارب56کروڑ20لاکھ،سیکیورٹی اخراجات کیلئے 6 ارب اور ٹریننگ، ورکشاپس، میڈیا تشہیر اور آزامائشی مردم شماری کیلئے4ارب70کروڑ16لاکھ روپے کا وزارت خزانہ سے مطالبہ کیاہے۔اس طرح ادارہ شماریات نے کمپیوٹرہارڈیئر،سافٹ ویئر اور آئی ٹی معاونت کیلئے7ارب26کروڑ17لاکھ،اسٹیشنری چارجزکیلئے27کروڑ58لاکھ، ٹی اے ڈی اے اور اعزازیہ کیلئے1.97کروڑ روپے مانگے ہیں۔


