امید ہے عدالت عالیہ غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی تعیناتی کو کالعدم قرار دے گا، ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ

کوئٹہ :فیڈریشن آف ال پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن(فپواسا)بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فپواسا بلوچستان کے جنرل سیکرٹری و اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے نائب صدر فرید خان اچکزئی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عدالت عالیہ بلوچستان کے معزز چیف جسٹس جسٹس نعیم اختر افغان اور جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ پرمشتمل بینچ کے وائس چانسلر سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی ڈاکٹر ساجدہ نورین کی بطور وائس چانسلر بحالی کو انصاف پر مبنی اور تاریخ ساز فیصلہ قرار دیتے ہوئے توقع کیا کہ جامعہ بلوچستان پر غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی تعیناتی کو بھی کالعدم قرار دے گا کیونکہ جامعہ بلوچستان پر غیر قانونی طور پر متعین اور مسلط وائس چانسلر کی تعیناتی وائس چانسلر کے لئے دیئے گئے اشتہار کے برخلاف ہوئی ہے،دیگر تمام اہل امیدواروں کو یکسر نظر انداز کر کے انہیں غیر قانونی طور پر مسلط کیا گیا اور جب سے یہ غیر قانونی طور پر وائس چانسلر کے طور پر مسلط ھوا ہے اس وقت سے جامعہ کے پالیسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل، سینٹ اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے اجلاس نہیں کرارہا اور پچھلے سینڈیکیٹ اور دیگر پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین کے حق میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد سے انکاری ہے، انکی اس منفی کارکردگی کی نشاندہی ایچ ای سی کی اعلی مانیترنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بھی کی ہے، یہاں تک کے سالانہ بجٹ میں اساتذہ اور ملازمین کے تنخواہوں میں اردلی، میڈیکل، ڈسپیریٹی الاونس، ہاوس ریکوزیشن و دیگر کی ابھی تک ادائیگی نہیں کی گئی اور پینشنرز کو وقت پر پینشنز نہیں دیا جاتا جبکہ اپنی ماہانہ تنخواہ کو 7لاکھ 50ہزار روپے تک برھا دیا گیا ہے، ظلم کی انتہا یہاں تک کہ یکم نومبر 2021سے جامعہ بلوچستان کے دو طلبا جامعہ کے بوائز ہاسٹل سے اغوا کیئے گئے لیکن اس دن سے لیکر آج تک غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر نے نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کی بلکہ احتجاجی طلبا وطالبات کو دھمکیاں دینے رہے، طلبا تنظیموں، اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین کے احتجاج کے بعد صوبائی حکومت کی پارلیمانی کمیٹی کے سفارشات اور گورنر کی ہدایات کے مطابق جامعہ بلوچستان کو تعلیمی و انتظامی امور کے لئے مکمل طور پر بند کیا گیا تو اب چوردروازے سے سنڈیکیٹ کا ان سرکلر اجلاس بلایا گیا جو نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اغوا شدہ دونوں طلبا کے خاندان والوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،بیان میں واضح کیا گیا کہ گذشتہ مہینوں میں گورنر بلوچستان نے صوبے کے مختلف جامعات کے وائس چانسلر اور پروائس چانسلرز کی تعیناتی بغیر کسی اشتہار اور میرٹ کے برعکس کی گئی جس سے اہل امیدواروں کی حق تلفی ہوئی ان سب غیر قانونی تعیناتی کو فوری طور پر کالعدم قرار دے کر اشتہار کے ذریعے سکروٹنی کمیٹی کے سفارشات کو مدنظر رکھ کر تعیناتیاں عمل میں لائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں