10لاکھ افراداسلام آباد لے جانے کا اعلان

”حق دو گوادر کو“ تحریک کے روح رواں اورجماعت اسلامی کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ”بلوچستان کو حق دو“ تحریک شروع کرنے کااعلان کیااور کہا ہے:”ریاستی اداروں کو سوچنا چاہیئے جو لوگ انتخابات میں حصہ لیتے تھے وہ پہاڑوں پر کیوں چلے گئے؟اگر میں جماعت اسلامی میں نہ ہوتا تو میں بھی پہاڑوں پر ہوتا،اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے بڑے احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں،جلد دس لاکھ لوگوں کو کوئٹہ سے اسلام آباد لے جائیں گے، بندوق کے زور پر کسی کو ساتھ نہیں رکھ سکتے، امریکہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان کو قابو کرنے کی کوشش کی لیکن بالآخر اس کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔بلوچستان کو صوبہ نہیں کالونی سمجھا جاتا ہے۔وہاں تعینات سیکورٹی ا دارے اپنی ذہنیت تبدیل کریں۔ ہمیں تیسرے درجے درجے کا شہری قرار دیا جاتا ہے۔اگر بلوچ عوام کو کلبھوشن یادیو جتنی عزت بھی دی جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مولانا ہدایت اللہ نے کہا سوئی کے شہریآج بھی چولہاجلانے کے لئے لکڑیاں استعمال کرتے ہیں، جبکہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کارخانے سوئی گیس سے چلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاؤں کے نیچے ریکوڈک کی صورت میں سونا موجود ہے لیکن ہمارے پیروں میں چپل نہیں۔تانبے،کوئلے، دیگر معدنیات اور گوادر پورٹ ہونے کے باوجود بلوچ عوام کو ان کا حق نہیں دیا جارہا۔ ہم وسائل کے لحاظ سے دنیا کے امیرترین لوگ ہیں مگر بخار کے علاج کے لئے بھی کراچی آتے ہیں“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بارے میں کہا جاتاہے کہ ہم ترقی نہیں چاہتے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہمیں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے۔ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ہم سی پیک کے خلاف ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں سی پیک کا وجود ہے ہی نہیں، پورے ملک میں 15سو کلومیٹر موٹر ویز ہیں، بلوچستان میں ایک کلومیٹر سڑک نہیں۔سی پیک کے تحت اورنج ٹرین اور کارخانے کہیں اور بنے ہیں،بلوچستان میں کوئی اسپتال، کوئی اسکول نہیں بنا۔ کون بیوقوف ہوگا جو یہ کہے ہمیں اسکول، اسپتال،اور ترقی نہیں چاہیئے۔ہماری بات واضح ہے کہ ہم چیک پوسٹوں پر تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔تحریک کے رہنما کی حیثیت سے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ان کا بیان یاد دلایاکہ”ناراض بلوچوں سے بات چیت کی جائے گی“،”ہم کہتے ہیں سوئٹزر لینڈ میں بیٹھے لوگوں کو چھوڑ کر بلوچستان کے عوام سے بات چیت کی جائے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا: ”مسلح افواج کو ملک کی سرحدوں پر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں،شہروں اور دیہاتوں میں پولیس اپنی ذمہ داری سنبھالے“۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے سندھ میں بھی اسمبلی کے سامنے حال ہی میں منظور کئے گئے بلدیاتی بل واپسی کے لئے دھرنا دے رکھا ہے۔پی پی پی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ دھرنے سے ایوان کا تقدس مجروح ہوتا ہے، انہوں نے جماعت اسلامی سے کہا ہے وہ ایم کیوایم نہ بنے۔جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کو ملازمت کیوں نہیں ملتی؟ کیا یہ کیڑے مکوڑے ہیں؟آئین کے منافی قانون کو کالا قانون کہاجائے گا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے بھی وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی نے بھی دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح جارحانہ پالیسی طے کر لی ہے۔اور دھرنا سیاست کے ذریعے آئندہ انتخابات کی تیاری میں سرگرم ہے۔بلوچستان کو حقوق دینے کا نعرہ لگا کر مولانا ہدایت الرحمٰن نے اسلام آباد 10لاکھ لوگوں کو لے جانے کی بات اسی تناظر میں کی ہے۔مگر 10 لاکھ لوگ جمع کرنے کا نعرہ جماعت اسلامی ہر اہم احتجاج کے موقع پر لگاتی ہے لیکن عملاً اتنا بڑا اجتماع تاحال کہیں جمع نہیں کر سکی۔تاہم ”حق دو گوادر کو تحریک“جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے مسائل پر توجہ مبذول کرانے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی، یہ اقدام بہت پہلے کیا جانا چاہیئے تھا،تمام سیا سی جماعتیں ان دیرینہ سلگتے ہوئے مسائل پر اکٹھی ہو کر بات کرتیں تو اس کے نتائج بہتر اور مؤثر ہوتے۔ چنانچہ مولانا ہدایت الرحمٰن کی جانب سے کیا جانے والا اعلان دیر آید درست آید کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب میں انہوں نے بلوچستان کے عوام کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد انہیں کیسا جواب دے گا؟ان مسائل سے اسلام آباد پہلے ہی آشنا ہے۔وزیر اعظم عمران خان بھی ایک سے زائد بار ناراض بلوچوں سے بات چیت کا عندیہ دے چکے ہیں۔لیکن اس پرعملدرآمد میں بیجاتاخیر دیکھتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی نے پی ٹی آئی سے اتحاد بھی ختم کر دیا تھا۔اب تو اس علیحدگی کو بھی خاصا وقت ہو چکا ہے۔سیانے کہتے ہیں بلاوجہ تاخیر ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔سنجیدہ، نازک اوراہم ترین معاملے کو جتنی جلد حل کر لیا جائے اتنا ہی سود مند ہوا کرتا ہے۔اس ضمن میں کئے گئے آخری معاہدے پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے دھرنا کیمپ پہنچ کر دھرنے کے شرکاء کی موجودگی میں دستخط کئے تھے۔عام آدمی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ اس بار حکومت معاہدے پر عمل کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لے گی۔عوام کی موجودگی میں دستخط کرنے کے بعد مکرنا آسان نہیں ہوتا۔ویسے بھی وعدہ خلافی کی ایک حد ہوتی ہے۔قیامت تک انتظار ممکن نہیں۔دستخط کرنے والوں کی زندگی میں عمل در آمدہو جانا چاہیئے۔جبکہ زندگی کا کیا بھروسہ کب کس کا بلاوا آجائے! قدرت کا فیصلہ اٹل ہے،موت کا ذائقہ ہر نفس نے چکھنا ہے۔ بہر حال مشکل فیصلے وقت طلب ہوتے ہیں، دیر سویر لازمی ہے۔لیکن فریقین کے رویہ سے عام آدمی کو پیشرفت نظر آنی چاہیئے۔جو کام کئے جا سکتے ہیں ان میں تاخیر سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی نے اتحاد سے باہر نکلنے کا فیصلہ طویل تاخیر کی بناء پر ہی کیا تھا۔اگر گوادر کوحق دو تحریک سے کئے گئے وعدوں پر مناسب پیش رفت ہوئی تو آئندہ انتخابات میں اس کا فائدہ جماعتِ اسلامی کو پہنچے گا۔ صوبے اور وفاق میں اس کی نمائندگی بڑھ جائے گی۔اقتدار میں نسبتاً زیادہ حصہ ملے گا۔جیسا کہ ضیاء الحق دور میں مل چکا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اس مرتبہ جماعت اسلامی نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں جو احتجاجی مہم چلائی، تنہا اپنے بل بوتے پر چلائی۔گوادر کو حق دو تحریک میں بھی کسی دوسری جماعت کو شامل نہیں کیا۔پہلا مرحلہ آسان نہ تھا،مگر کامیابی ملی۔دوسرے مرحلہ کا اعلان جلد سامنے آجائے گا۔اور 23مارچ سے ایک ہفتہ پہلے مکمل ہو جائے گا۔پریڈ کی تیاری کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں