اسکردو، دنیا کا بلند ترین ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا

اسکردو:اسکردو میں دنیا کا بلند ترین ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا ایئرپورٹ پر6 انچ برف پڑنے سے رن وے اور اپرن ایریاز مکمل بند تھے ہنگا می بنیاد پر8 گھنٹوں میں رن وے اور اپرین ایریاز کو کلیئر کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسکردو ایئرپورٹ کا رن وے برف باری کے باعث بند تھا جسے اب صاف کردیا گیا ہے اور دنیا کے بلند ترین اسکردو ایئرپورٹ کے رن وے کو کلیئر کردیا گیا ہے۔اس ضمن میں ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر 6 انچ برف پڑنے سے رن وے اور اپرن ایریاز مکمل بند تھے تاہم ہنگا می بنیادوں پر8 گھنٹوں میں رن وے اور اپرین ایریاز کو کلیئر کیا گیا، جس کے بعد ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا ہے، ایئرلائن کی جانب سے موسم کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فلائٹ آ پریٹ کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب معروف بین الاقوامی ایئر لائن فلائی دبئی نے اسکردو کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی درخواست دے دی، فلائی دبئی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اسکردو میں فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، اس سلسلے میں سول ایوی ایشن کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فلائی دبئی پاکستان سول ایوی ایشن اور دبئی سول ایوی ایشن سے منظوری کے بعد اسکردو کے لیے باقاعدہ آپریشنز شروع کر سکے گی، بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز کا آغاز ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔خیال رہے کہ ملک کے بین الاقوامی شہرت کے حامل سیاحتی شہر اسکردو کے ائیرپورٹ کو بین الاقوامی ائیرپورٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے اسکردو ایئرپورٹ کو بین الاقوامی معیار کے ہوائی اڈے کا درجہ دینے کا اعلان کیا، کیوں کہ اسکردو ائیرپورٹ کو اپ گریڈ کیے جانے کے بعد بیرون ممالک سے پروازوں کی براہ راست اسکردو آمد ممکن ہو گئی ہے، ائیرپورٹ کی اپ گریڈیشن سے اسکردو پاکستان میں عالمی پروازوں کے روٹس سے جڑ جائے گا، اس اقدام کی بدولت عالمی پروازوں کی آمد سے سیاحت کو فروغ اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے تحت اسکردو ایئرپورٹ معاہدوں کے تحت نامزد غیر ملکی ائیرلائنز کے لیے دستیاب ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں