پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض التوا کا شکار ہوگیا

اسلام آباد;پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض التوا کا شکار ہوگیا کیوں کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے 6 ارب ڈالرز قرض کا جائزہ مخر کر دیا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست پر قرضے کا جائزہ مخر کردیا ہے، آئی ایم ایف کو پاکستان کے قرضے کا جائزہ 12 جنوری کو لینا تھا لیکن اب پاکستان کے لیے قرضے کا جائزہ آئی ایم ایف کی جانب سے 28 یا 31 جنوری کو لیا جائے گا۔ادھر وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے صرف ایک ارب ڈالرز قرض کیلئے سخت اقدامات کرنے کے دعووں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی مہر لگنے سے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ممالک کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے، پیٹرول کی عالمی قیمت 42 ڈالر سے87 ڈالر پر چلی گئی، خوردنی تیل کی عالمی قیمت 700 سے 1400 ڈالر پر پہنچ گئی، کوئلہ 80 سے 240 ڈالر پر چلا گیا، خوردنی تیل کی قیمتیں زیادہ ہیں تو کیا اس کو منگوانا بند کردوں؟ کوئلے کی ضرورت ہے تو کیا کوئلہ کو منگوانا بند کردوں؟۔دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد وزیرمملکت فرخ حبیب کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ مالیاتی ضمنی بل سے عوام پر بوجھ کی باتیں بے بنیاد ہیں، لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں پڑے گا، عام آدمی پر صرف 2 ارب روپے کے ٹیکسوں کا بوجھ پڑے گا، کمپیوٹرز، آئیوڈائز نمک، سرخ مرچ پر ٹیکس لگے گا، نمک، مرچ سمیت چند چیزوں پر ٹیکس سے عام آدمی متاثر ہوگا، زرعی ادویات، کھاد اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس نہیں لگا رہے، ایک ہزارسی سی سے زائد گاڑی پر ڈیوٹی بڑھے گی، جن چیزوں پر چھوٹ تھی اس پر نظرثانی کی جارہی ہے، بل میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر نظر ثانی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت چاہتی ہے اسٹیٹ بینک سے پیسے لے لیتی ہے،ابھی بھی 6 ہزار ارب روپے اسٹیٹ بینک کے دینے ہیں، اسٹیٹ بینک کا بورڈ ہمارے پاس ہے، اداروں کو خود مختاری دینا پی ٹی آئی کے منشور میں شامل ہے، پارلیمانی کمیٹیاں اسٹیٹ بینک سے جواب طلبی کرسکیں گی، لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں، عالمی منڈی میں درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان سمیت متعدد ملک متاثر ہوئے، امریکہ، برطانیہ اور یورپی ملک بھی مہنگائی کی عالمی لہر سے شدید متاثر ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں