مشکل وقت میں سعودی عرب اور چین مدد نہ کرتے تو پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہوتا،وزیراعظم

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مشکل وقت میں سعودی عرب اور چین مدد نہ کرتے تو پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہوتا،ہماری جنگ قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ملک میں ایشین ٹائیگرز اور لاہور کوپیرس بنانے والوں کی صورت میں مافیاز بیٹھے ہیں جو قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتے، ہماری جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے، ہماری حکومت نے ملک کو بحرانوں سے نکالا،بیروزگاری سے بچایا،ملکی معیشت کو بچایا، دنیا میں مہنگائی بڑھی اور جس کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ میں حکومتوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ مہنگائی سے عوام مشکلات میں ہیں لیکن آج بھی پاکستان دنیا کے سب سے سستے ممالک میں شامل ہے، ریاست مدینہ دنیا کی تاریخ کا سب سے کامیاب ریاستی ماڈل تھا،ملکی برآمدات، ترسیلات زر اور محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، 6ہزار ارب روپے کے ریکارڈ محصولات اکٹھی کی گئی ہیں، نجی شعبے میں اضافہ ہوا ہے، آئی ٹی بر آمدات میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے۔کورونا کے باوجود لارج سکیل مینو فیکچرنگ میں 15 فیصد اضافہ ہوا، ہماری حکومت کو نااہل کہا جاتا ہے،ریکارڈ ٹیکس اکٹھا ہوا ہے، ایک سال میں 1300ارب اضافی ٹیکس اکٹھا کیا ہے، کورونا کے باوجود پاکستان کی گروتھ،ٹیکس ریونیوبڑھا ہے، ملک میں صنعتیں لگانے سے ہی ترقی کر سکیں گے، صرف پیاز، ٹماٹر بیچنے سے ملکی ترقی نہیں کر سکتا ہے، ملک میں صنعتی انقلاب سے ہی خوشحالی آئے گی، ہمیں ایکسپورٹس پر توجہ دینی ہو گی،3ماہ بعد ملک ایسی تیز ترقی کرے گا جتنی تیزی سے 50سال پہلے کررہاتھا ۔ وہ منگل کو اسلام آباد میں 14ویں انٹرنیشنل چیمبرز سمٹ 2022 سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کے بارے میں صرف جمعہ کی نماز میں بات ہوتی ہے لیکن میری خواہش ہے کہ ریاست مدینہ کا تصور لوگوں کو سمجھ آجائے کیونکہ ریاست مدینہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا، عام انسان دنیا کے لیڈرز بن گئے تھے۔ ایسے لیڈرز پیدا کئے جنہوں نے صدیوں تک امامت کی اور جب مسلم معاشرہ گر کر کھڑا ہوا وہ ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل کر کے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب معاشرے میں قانون و انصاف ختم ہو جائے تو کرپشن شروع ہو جاتی ہے اور ہماری جنگ بھی قانون کی بالادستی کیلئے ہے جو مشکل ہے ملک کو ایشین ٹائیگرز اور لاہور کو پیرس بنانے والوں کی صورت میں مافیاز بیٹھے ہیں جو قانون کے نیچے نہیں آنا چاہیے، ہماری جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے،ہماری جنگ سے کاروبار اور ملک کی خوشحالی منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اور قانون کی عملداری کی جنگ صرف عمران خان نے نہیں سب نے مل کر لڑنی ہے اور جنگ معاشرہ جیتا ہے جبکہ میں تو کوشش کر رہا ہوں ہر روز صبح اٹھ کر جہاد سمجھ کر جنگ لڑتا ہوں، کوئی عام وزیراعظم نہیں بننا چاہتا، کوئی خواہش بھی نہیں، وزیراعظم بن کر پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانا ہے، لیکن ملک میں کچھ لوگوں نے افراتفری پھیلائی ہوئی ہے کہ یہ ہو گیا، وہ ہو گیا، اس لئے کہ ان کی خواہش نہیں ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو، چند لوگ صرف طاقت کی بالادستی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے خسارے ہمارے حکومت کے حصے میں آئے وہ ماضی کی حکومتوں کو نہیں تھے، مشکل وقت میں چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک نے ہماری مدد کی اور سعودی عرب اور چین مدد نہ کرتے تو پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہوتا، پھرعالمی وباء کورونا آ گیا جس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی، ملک کو بڑے مشکل سے نکالا، مشکل فیصلے کئے، ایسے فیصلے کئے جو آج برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کر رہے ہیں، لوگوں نے کہا کہ ہماری حکومت نااہل ہے لیکن اسی حکومت نے ملک کو بحران سے نکالا، بیروزگاری سے بچایا، کورونا سے بچایااور معیشت کو بچایا،کورونا کے بعد پھرافغانستان کا بحرانآگیااورملک سے ڈالرافغانستان جانا شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی اور جس کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ میں حکومتوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ مہنگائی سے عوام مشکلات میں ہیں لیکن آج بھی پاکستان دنیا کے سب سے سستے ممالک میں شامل ہے، ہمارے ہاں پٹرول، ڈیزل اور پام آئل سستے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ کے سوا تمام صوبوں میں ہر خاندان کے پاس ہیلتھ انشورنس ہے، ہیلتھ انشورنس کے ذریعے10لاکھ روپے تک مفت علاج کرایا جاسکتا ہے، ہیلتھ کارڈ اصل میں ایک ہیلتھ سسٹم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی برآمدات، ترسیلات زر اور محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، 6ہزار ارب روپے کے ریکارڈ محصولات اکٹھی کی گئی ہیں، نجی شعبے میں اضافہ ہوا ہے، آئی ٹی بر آمدات میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے۔کورونا کے باوجود لارج سکیل مینو فیکچرنگ میں 15 فیصد اضافہ ہوا، ہماری حکومت کو نااہل کہا جاتا ہے، حکومت نے ملک کو کورونا،بے روزگاری سے بچایا، کنسٹرکشن سیکٹراس وقت بوم کررہا ہے، ایگری کلچر میں 1100ارب کسانوں نے کمائے، موٹرسایئکل کی ریکارڈ فروخت ہورہی ہے، ریکارڈ ٹیکس اکٹھا ہوا ہے، ایک سال میں 1300ارب اضافی ٹیکس اکٹھا کیا ہے، کورونا کے باوجود پاکستان کی گروتھ،ٹیکس ریونیوبڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتیں لگانے سے ہی ترقی کر سکیں گے، صرف پیاز، ٹماٹر بیچنے سے ملکی ترقی نہیں کر سکتا ہے، ملک میں صنعتی انقلاب سے ہی خوشحالی آئے گی، ہمیں ایکسپورٹس پر توجہ دینی ہو گی، ایکسپورٹس کو بڑھانے کیلئے حکومت ہر طرح کے اقدامات کرے گی، ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے لوگوں کو ہیروز بنانا ہو گا، اگر ایکسپورٹس نہیں بڑھاتے تو ہمیں پھر سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولیوں کے نظام کو بہتر بنانا ہے کیونکہ ملک میں کاروباری حضرت کا ٹیکس جمع کرنے والے اداروں پر اعتماد نہیں تھا، ہماری حکومت ٹیکس کلچر کو فروغ دے رہی ہے اور لوگوں کے پیسوں کی حفاظت کر رہے ہیں،بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس دینے کا کلچرپروان نہیں چڑھا، ہمارے حکمرانوں کا شاہانہ اندازتھا، ٹیکس کلچر کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں چھوٹی صنعتوں کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی 3ماہ بعد ختم ہو جائے گی،حالیہ مہنگائی کورونا وباء کی وجہ سے پوری دنیا میں ہے لیکن پاکستان میں ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی معیشت کو دوبارہ سے بحال کر سکے، ہم ملک میں آئی ٹی، زراعت اور صنعتوں کے ایسے جال بچھا رہے ہیں کہ 3ماہ بعد ملک 50سال پہلے ترقی کرتے ہوئے پاکستان کی سمت میں گامزن ہو گا جب ہم دیگر ممالک کو قرضے دیتے تھے،جب ملکی معیشت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت تھی، انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں کاروباری افراد کا سب سے بڑا کردار ہے، رنگ روڈ منصوبے میں کرپشن کی وجہ سے دیر ہوئی ہے کچھ لوگوں کو فائدہ دینے کے لیے منصوبے کی الائنمنٹ بدلی گئی، اب رنگ روڈ توسیعی منصوبے میں کام آخری مراحل میں ہیں اور جلد کاروباری حضرات کے لیے رنگ روڈ کے ساتھ سپیشل انڈسٹریل زونز بھی قام کیے جائیں گے۔(اح+م ا)

اپنا تبصرہ بھیجیں