جی ایم سیدکی 118 ویں سالگرہ آج منائی جائے گی

کراچی:جدید قوم پرست سیاست کے بانی سائیں جی ایم سیدکی 118 ویں سالگرہ آج(پیر)منائی جائے گی اور اس کے موقع پران کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سن ضلع جامشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے جلسے کا انعقاد کیاجائے گا،جس کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔جلسہ گاہ کو پارٹی پرچموں اور بینرزسے سجادیا گیاہے جبکہ سالگرہ میں شرکت کے لیے کراچی سمیت مختلف شہروں سے قوم پرست سیاسی رہنماں،ایس یوپی کے کارکنوں سمیت سائیں جی ایم سید کے عیقدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی سائیں جی ایم سید کے مزار پر حاضری کی غرض سے پہنچ چکی ہے۔قافلوں میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔جامشورو اور گرد و نواح کے شہروں کی اہم سڑکوں اور اطراف میں ایس یو پی کے بینرز اور جھنڈے آویزاں کر دیئے گئے ہیں اور پارٹی کیمپس بھی قائم کردیئے گئے ہیں۔ایس یو پی کے رہنما خواجہ نوید امین نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ جلسہ دن 12 بجے سن گرانڈ میں شروع ہو گا جس سے سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور سربراہ سندھ یونائیٹیڈ پارٹی سید جلال محمود شاہ، سید زین شاہ سمیت مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی، دینی، علمی شخصیات، وکلا، صحافیوں سمیت سول سوسائٹی کے رہنما خطاب کریں گے۔ جلسے میں شرکت کے لئیے محمود خان اچکزئی، اختر جان مینگل، ڈاکٹر عبدامالک بلوچ، لیاقت بلوچ، ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو، شاہی سید، شاہ محمد شاہ، رسول بخش خاصخیلی، منظور گیلانی ودیگرکو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ سید جلال محمود شاہ نے کراچی سے جاری اپنے بیان میں کہاکہ سائیں جی ایم سید کا پیغام امن اور محبت کا پیغام ہے۔سائیں جی ایم سید نے دراصل اسی دن سیاست میں قدم رکھا تھا جس دن انہوں نے سن اسٹیشن میں مولانا آزاد اور گاندھی سے ملاقات کی تھی۔ سائیں جی ایم سید کی فکر قوم کے لیے مشعل راہ ہے جنہوں نے قیام پاکستان سے پہلے ہی ویانا کانفرنس میں انتہاپسندی کے متعلق واضع موقف رکھا تھا کہ مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھنا پڑے گاورنہ ریاست نہیں چل سکے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ مذہب اور سیاست کو ساتھ ساتھ رکھنے سے عوام کا نقصان ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی نظام سندھ کا مسئلہ ہے یہ وفاق کا مسئلہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے سیاست کو کاروبار بنا دیا ہے اور یہ وہی بلدیاتی نظام لائے ہیں جس سے ان کے ذاتی اور اجتماعی مفادات کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور اداروں کو بلیک میل کرنے کے لئیے بلاول نے کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم سے جدہ ہونا اور الگ الگ احتجاج کرنے کا مقصد حکومت کو پس پردہ طوالت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ سندھ کے حقوق کی بات کی ہے اور پاکستان میں ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں صوبوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں کسی کا بھی استحصال نہ ہو اور انسانی حقوق بھی بحال رہیں۔واضع رہے کہ غلام مرتضی شاہ سید جنہیں سیاسی حلقوں میں جی ایم سید کے نام سے جانا جاتا ہے17 جنوری1904 کو ضلع جامشورو کے شہر سن میں پیدا ہوئے۔ 27 اپریل 1921 میں 14 سال کی عمر میں سن ریلوے اسٹیشن میں گاندھی اور مولانا آزاد سے ملاقات کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 1934 میں شاہنواز بھٹو، اللہ بخش سومرواور میراں محمد شاہ کے ساتھ مل کر سندھ پیپلز پارٹی بنائی۔1936 میں حاجی عبداللہ ہارون اور اللہ بخش سومرو کے ساتھ سندھ اتحاد پارٹی کی بنیاد رکھی جس میں شاہنواز بھٹو بھی شامل ہوئے۔ 1937 کے انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1938 میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1941 کو جی ایم سید آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی کونسل کے ممبر بنے۔1943 میں ان کو مسلم لیگ سندھ کا صدر منتخب کیا گیا۔ سندھ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سائیں جی ایم سید کی سربراہی میں 3 مارچ1943 کو 1940 کی لاہور قرارداد کی روشنی میں سندھ اسمبلی سے برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے طور پر قرارداد پاس کرائی گئی۔ International Ammensty نے جی ایم سید کو اصولوں کا قیدی Prisoner of Conscience قرار دیا ہے۔ جی ایم سید مذہب، تاریخ، سیاسیات، سماجیات، نفسیات، تہذیب، فلسفہ، تمدن کے مضامین سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے تقریبا 60 کتابیں لکھیں۔ سید سیاسی، ادبی اور فکری کتابوں کے مصنف ہیں۔ انگریز ی، سندھی، عربی، فارسی اور اردو پر ان کو عبور حاصل تھا۔ ان کا انتقال بھی ایام اسیری میں 25 اپریل 1995 میں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں