سینیٹ اجلاس،نادرا میں بھرتی ریٹائرڈ مسلح افواج کے ملازمین کاڈیٹا نہ دینے پر اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد:سینیٹ میں نادرا میں بھرتی کئے گئے ریٹائرڈ مسلح افواج کے ملازمین کاڈیٹا نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ سول اداروں کی ملٹریزیشن قبول نہیں ہے 17سرکاری اداروں کے سربراہاں کا تعلق مسلح افواج سے ہے،وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاکہ جن کے لیڈرسول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے وہ ہمیں یہ بات نہیں کہیں۔وزیرریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے کہاہے کہ ایم ایل ون پر ہم نے اپناکام مکمل کرکے ٹینڈر چین کوبھیج دیاہے اب چین نے ٹینڈرجاری کرناہے،وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ دورہ چین میں ایم ایل ون کو پہلی ترجیح پر رکھیں،ایم ایل ون شروع نہ ہواتو حادثات ہوتے رہیں گے۔چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ کی طرف سے مختلف سوالات کے جوابات نہ آنے پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگر دوبارہ جواب نہ دیئے تو وزیراعظم کو لکھوں گاکہ سیکرٹری داخلہ کو معطل کریں،چیئرمین نے ایوان میں حاجی ہدایت اللہ فون استعمال کرنے سے روکتے ہوئے کہاکہ موبائل ضبط کرلوں گا۔منگل کوسینیٹ کااجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔وقفہ سوالات کے دوران سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ میں نے سوال کیاتھا کہ نادرا میں کتنے ریٹائرڈ مسلح افواج کے ملازمین بھرتی کئے گئے ہیں مگر اس کاجواب نہیں دیاجارہاہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ میں آپ کاسوال دوبارہ دیکھالیتاہوں کہ اس سوال کاجواب کیوں نہیں دیاگیاہے۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاکہ مشتاق خان کے سوال کا جواب پتہ نہیں آئے گا کہ نہیں۔موجودہ حکومت میں 17سرکاری اداروں کے سربراہان کا تعلق مسلح افواج سے ہے سول اداروں کی ملٹریزیشن کی جارہی ہے اس کے ہم مخالف ہیں۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاکہ سوال کا جواب دینے دیں سچی بات نہیں کرنی چاہیے،پاکستان میں سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پیپلزپارٹی کے سربراہ ذولفقار علی بھٹو تھے۔میں نے ابھی کچاچھٹا نہیں کھولا۔یہ وزیر داخلہ کے لیے ریٹائرڈ جنرل نصیراللہ بابر کو لائے تھے۔انٹی نارکوٹکس فورس کے لیے مضبوط بندہ چاہیے، این ڈی ایم اے میں فوج کا بندہ چاہیے کیوں مری سانحہ میں سول انتظامیہ میں خامیاں نظر آئیں۔15اداروں میں مسلح اور 15سو اداروں میں سول سربراہان ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ سینیٹرمشتاق احمد کوکہاکہاآپ کے سوال کو میں دوبارہ دیکھتاہوں۔سوال کا جواب آئے گا۔قائد حزب اختلاف یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ وزیر خارجہ کل میری وجہ سے ایوان میں آئے تھے۔فوج پاکستان کی ہے کل تحریک آئی تھی اس پر چیرمین نے معاملہ کمیٹی میں بھیج دیا مگر اس کے باجود وہ ایوان میں آئے جبکہ ایجنڈے پرکشمیر کا مسئلہ تھا مگراس پر وہ نہیں آئے۔قائدایوان سینیٹرڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ وزیر خارجہ پہلی دفعہ ایوان میں نہیں آئے وہ پالیسی بیان کے لیے آئے تھے زیارتوں کے لیے نہیں وہ ڈیوٹی کے لیے آئے تھے۔ملٹری پاکستان کی ہے وہ اس ملک کے شہری ہیں ہمیں آپ کی نفرت اور محبت کا پتہ ہے آپ کا محبت اور نفرت کا سیشن شروع ہوتا ہے۔کہاگیا کہ ہاتھ اٹھ گیا ہے یہ ہاتھ کی بات کرتے ہیں جو اپوزیشن کہتے تھے کہ ہاتھ کرنے جارہے ہیں ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔یہ ہاتھ کے لیے ملتے تھے۔ان کو فخر ہاتھ ہے ہاتھ کی صفائی ہے مگر قانون کے بھی لمبے ہاتھ ہوتے ہیں۔وردی اور بغیر وردی کی بات نہ کریں۔وزیرمملکت علی محمد خان نے کہاکہ فینسی نمبر پلیٹ کیمرے میں نہیں آتی ہے اس کی وجہ سے فنسی نمبر پلیٹ کو اجازت نہیں دیتے ہیں۔ کوئی بھی پاکستانی فیس ادا کرکے اپنے نام کی نمبر پلیٹ لگا سکتا ہے۔وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہاکہ 861پیٹرولرز کو نکالا گیا ہے۔حکومتی ادارے بھرتی کرکے تباہ کئے ہیں۔ریلوے بدبخت ادارہ ہے۔استعداد سے زیادہ لوگ بھرتی کئے ہیں۔ پاکستان ریلوے میں 17گریڈ کی خاتون افسر کے گھر 6ملازم تھے سیاسی بھرتی کی گئیں ہیں ان کو بحال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے پیٹرولرز کو بحال نہیں کیا جائے گا۔اضافی ملازمین کو نکالیں گے تعداد پہلے ہی زیادہ ہے۔پاکستان ریلوے میں کوئی سیاست نہیں ہے سیاست برداشت نہیں کرتا ہوں، بہت سارے گینگ مین لوگوں کے گھروں میں کام کررہے ہیں۔ بلوچستان کو بہت فنڈز ملتے ہیں کچھ فنڈز ریلوے ٹریک پر لگائیں میں مزید 10ٹرینیں چلادوں گا۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل نہیں کرسکتے ہیں۔ حکومت کا کام نہیں ہے کہ نوکریاں دے ہم نوکریوں کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ دنیا آؤٹ سورسنگ پر جارہی ہے وہی ماڈل ریلوے میں لارہاہوں۔یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ دس سال سے یہ پیٹرولرز کام کررہے تھے ان غریب لوگوں کو بحال کیا جائے گا یا مزید نکالے جائیں گے۔ وقفہ سوالات بہت اہم ہے وزیروں کو بھی آنا چاہیے۔ ہمارے دور میں وزیر اعظم بھی جواب دیتا تھا ان کے دور میں وزیر نہیں آتے ہیں۔چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ کی طرف سے مختلف سوالات کے جوابات نہ آنے پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے رولنگ دی کہ وزارت داخلہ کیوں جواب نہیں دیئے ہیں اگر دوبارہ جواب نہ دیئے تو وزیراعظم کو لکھوں گاکہ سیکرٹری داخلہ کو معطل کریں۔سینیٹرافنان اللہ نے کہاکہ سوال کے جواب سے تو پتہ چل رہاہے کہ ایم ایل ون کے لیے چین لون نہیں دے رہاہے۔وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہاکہ ایسی بات نہیں ہے لون لینے کے لیے جاتے ہیں ان کی شرائط کو دیکھنا پڑتاہے یہ 2015کا منصوبہ ہے اگر لون لینا آسان ہوتا تو 2018تک ن لیگ کی حکومت تھی وہ لے لیتے۔ہماری طرف سے تیاری مکمل ہے۔چین نے کہاکہ لون چینی کرنسی میں ہوگی، ٹینڈر 6.8ارب ڈالرسے 9بلین ڈالر کریں۔چین کب ٹینڈر جاری کرتاہے یہ ان پر ہے۔وزیر اعظم چین کے دورے پر جارہاہے ہیں اس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایم ایل ون کو چین کے صدر سے منظور کرائیں اگر یہ منظور نہیں ہوتا تو حادثات ہوتے رہیں گے۔ایم ایل ون نہ شروع ہواحادثات ہوتے رہیں گے اور لاشیں اٹھتی رہیں گی حادثہ سے ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ایم ایل ون پر ہماری طرف کوئی مسئلہ نہیں ہے چین کو ٹینڈر دے دیاہے سینیٹ ایک قرارداد کی صورت میں وزیراعظم کو لکھیں کہ وزیراعظم کے چین کے دورے کے دوران ایم ایل ون کو ترجیح دی جائے۔ریلوے میں ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں رہاہے 10سے 30فیصد لوگ بغیر ٹکٹ کے سفر کرتے ہیں۔ٹریک اس قابل نہیں ہے کہ ٹرین تیز چلے ٹریک کو ٹھیک کرنے کے لیے ایم ایل ون ضروری ہے۔230نئے کوچز لی ہے 3ماہ میں وہ کوچز پاکستان آجائیں گے۔ہمارے پاس انجن ہے کوچز نہیں ہیں لاہور سے راولپنڈی کے لیے نئے ٹرین چلائیں گے۔سگنل کا منصوبہ 32ارب کا ہے 12سال سے منصوبہ بند تھااس منصوبے کی وجہ سے ہمارے لوگ جیل میں ہیں۔سگنل سسٹم اپنے دور میں مکمل کروں گا۔31دسمبر2022 تک کو مکمل کردوں گا۔یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ یہ اہم مسئلہ اٹھا ہے وزیر ریلوے نے کو کہا ہے مال برداری کو بھی فروغ دیا جائے اس کو ترجیحی دی جائے۔ سعودی عرب میں ٹریک ہم نے بنائی ہے،لاہور سے اسلام آباد لاہور سے ملتان کے لیے فضائی سروس بند کردی ہے اس دھند میں ٹرین سروس تو چلائیں تاکہ عوام کو سہولت ہو۔جنوبی پنجاب کو اگر 32فیصد پی ایس ڈی پی لگایا ہے تو وہ ان کا حق تھا۔قائدایوان شہزاد وسیم نے کہاکہ جو لاہور سے ہوتا ہے وہ سب فنڈ لاہور اور جو ملتان کا ہوتا ہے وہ سب فنڈ ملتان میں لگاتا ہے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ایوان میں سینیٹرحاجی ہدایت اللہ فون استعمال کررہے تھے جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ ایوان میں حاجی ہدایت اللہ فون استعمال نہ کریں ورنہ ضبط کرلوں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں