بلوچستان کو سی پیک منصوبے سے کچھ نہیں ملا،جماعت اسلامی بلوچستان

کوئٹہ:جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر بشیراحمدماندائی نے کہاکہ بلوچستان کو سی پیک منصوبے سے کچھ نہیں ملا،صوبے کے اکثر اضلاع کا ذریعہ معاش زراعت یا بارڈر ٹریڈ اور ماہی گیری ہیں مگر نااہل حکمران یہ ذرائع ومواقع بھی یہاں کے عوام سے چھینے کی کوشش کرررہے ہیں، ماہی گیروں اور کاروباری حضرات کی سیکورٹی کے نام پر تذلیل ناقابل برداشت ہے صوبے کی عوام نے تنگ آکر حق دو تحریک شروع کی پہلے مرحلے میں حکمرانوں نے دھوکہ دیااب مزید عوام بلخصوص نوجوان دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں ڈیرہ مرادجمالی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پروفیسر محمد ابراہیم ابڑو، خاوندبخش مینگل ودیگر ذمہ داران بھی موجودتھے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں حکمران سیاسی سودا بازی میں مصروف ہیں ان کی درد قوم کے لئے نہیں پیٹ کے لئے ہیں یہ وزارتوں کے لئے لڑ رہے ہیں جبکہ صوبے کی عوام غربت، بھوک و افلاس سے مررہے ہیں۔ انہوں نے کہا 140 ارب سے زائد کے منصوبے سے بلوچستان کی عوام محروم ہیں۔ سی پیک منصوبے کے فنڈز صرف سیکورٹی پر خرچ کئے جارہے ہیں 2002میں گوادر پورٹ کا افتتاح ہوا تو صوبے کی تقدیر بدلنے کی امید ہوچلی تھی لیکن سی پیک منصوبیکے شروع ہونیکے بعد خون کی ہولی شروع ہوئی۔ مکران کے عوام سے ان کا ذریعہ معاش ماہی گیری اور بارڈر ٹریڈ دونوں چھینا جارہا ہے، سیکورٹی کے نام پر ماہی گیروں اور تاجروں سمیت قبائلی معتبرین کی تذلیل کی جارہی ہے جس کے خلاف حق دوتحریک کے نوجوان قائد مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں عوام سڑکوں پر نکل آئی اور یہ پیغام دیا کہ وہ کسی صورت اس طرح کے رویے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی ماہی گیری، بارڈر ٹریڈ پر پابندی کی اور غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور عوام کی تذلیل کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو ہم حق دوتحریک کیساتھ ملکر مزید سخت لائحہ عمل بنائیں گے جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کے مالک ہیں کسی اور قوت کو یہاں کے عوام کے حقوق غصب نہیں ہونے دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں