سی پیک گوادر عوام کیلئے بد نما داغ ہے،مولانا ہدایت الرحمان
گوادر:پسنی بلوچستان حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان اور حسین واڈیلا نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معدنی دولت سے مالامال صوبے کے بچے ننگے پاں پھرتے ہیں، سی پیک گوادر کا جھومر نہیں بلکہ گوادر کے عوام کے لیے بدنما داغ ہے اور حکمران چاہتے ہیں کہ سمندری حیات کی نسل کشی کو دوام دے کر بلوچ قوم کو بھکاری بنائیں انہوں نے کہا کہ گوادر سی پیک کو ہم ترقی نہیں سمجھتے حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے ہے اور ترقی کے نام پر بلوچستان کے قبرستانوں کو آباد کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اختر مینگل ایک طرف قوم پرستی کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت کی توسیع کے حق میں ووٹ دیتی ہے انہوں نے کہا کہ قوم پرستوں کی لاشیں پھینکی جاتی ہیں یہ قوم پرست نہیں بلکہ پیٹ پرست ہیں اگر یہ قوم پرست پارٹیاں ہوتے تو وہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے انہوں نے کہاسیاسی کارکن غلامی چھوڑ دیں ان قوم پرست پارٹیوں میں انکی حیثیت قلی جیسی ہے انہوں نے کہا کہ کچھ قوم پرست جماعتوں کے ورکرز جو سوشل میڈیا کے سرمچار ہیں حق دو بلوچستان کو ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ جوڑ رہے ہیں یہ ان عناصر کی حواس باختگی ہے اور ان مکاروں کو تحریک کے خلاف پروپیگنڈہ پیدا کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ وہ تحریک کے دھڑوں میں نا اتفاقی پیدا کریں دراصل وہ قوم پرست نہیں قوم فروش ہیں اور وہ انشا اللہ ناکام رہیں گے انہوں نے کہا اگر ٹرالنگ پر قابو نہیں پایا گیا تو مجبورا کارکنوں کو اسلحہ اور اسپیڈ بوٹ دے کر ان سے خود مقابلہ کریں گے جبکہ دھرنے میں وزارت فشریز کا تابوت بھی لایا گیا اور انہوں نے کہا کہ 10 فروری کو سربندن میں ہونے والے دھرنے میں وزرات فشریز کا جنازہ پڑھائیں گے انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر جو لوگ دانشور بنے بیٹھے ہیں ہمیں ان کا سب پتہ ہے کہ ان کے پہنے ہوئے جوتے بھی حمل کلمتی دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھی بڑی تعداد میں ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں موجود ہیں اور بلوچستان حکومت ٹرالر مافیا کو روکنے کے بجائے نشت در نشت پوٹوسیشن میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یکم مارچ کے بعدایک بھی ٹرالر دیکھا گیا تو ہم اپنے ماہیگیروں کو اپنی معاش کی تحفظ کے لیئے اسلحہ بردار کرکے ٹرالر کی روک تھام کے لیئے بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے ٹرالر کو اس لیئے روکنے میں ناکام ہیں کہ وہ اس کی پشت پناہی کررہے ہیں،اب ماہیگیر ٹرالر مافیا کے خلاف بزات خود سمندر میں آپریشن کرینگے جس پر آخری ٹرالر تک ہماری احتجاج ناری رہیگی۔انہں نے کہا کہ کنٹانی بارڈر پر فی کشتی سے 12000 روپے بھتہ وصول کی جارہی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ بتھہ وصول کرنے والوں میں ایم پی اے کے لے پالک ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان چیک پوسٹوں کے خلاف نہیں جو ہمارے تحفظ کے لیئے ہیں بلکہ ہم ان غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خلاف ہیں جہاں عام عوام کی تزلیل ہورہی ہے،ہم ان چیک پوسٹوں کے خلاف ہیں جو ہمارے بچوں کی اسکولوں پر ہیں، ہم ان چیک پوسٹوں کے خلاف ہیں جو ہماری ہسپتالوں کے اوپر لگائے گئے ہیں۔پنجگور گچک کے علاقے میں چیک پوسٹوں پر لوگوں کی اس قدر تزلیل کی جاتی ہیکہ انہیں بازار جانے سے پہلے اشیا ضرورت کے سامان اور گھر کے راشن تک کی بھی انٹری کراناپڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ یہ چیک پوسٹیں ہماری حفاظت کے لیئے ہیں مگر آئے دن تم پر ہی حملے ہوتے ہیں، اگر تم اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تو پھر ہماری حفاظت کہاں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ نارکوٹکس وہ واحد ادارہ ہے جو منشیات کی روک تھام کے بجائے از خود منشیات بھیچنے میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جاتا ہے کہ حق دو تحریک قوم پرستوں کو کانٹر کرنے کے لیئے بنایا گیا ہے،اس بابت آپ کو واضع کرنا چاہتا ہوں کہ تم پیٹ پرستوں کا کانٹر عوام نے رد کرکے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ڈیتھ اسکواڈ کی مخالقت کی اور سوشل میڈیا پر چلنے والے تحریک کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کو رد کرکے انکی تردید کرتا ہوں۔دریں اثنا دھرنے میں عبدلرسول، حفیظ کیا زئی، نصیب نوشیروانی، رفیق بلوچ، محمد عمر، عیسی غمی، اور عنایت پشمبے نے خطاب کیا۔


