بچوں پرجنسی حملوں کے جرم میں لارڈ نذیرکو ساڑھے 5 سال قید کی سزا

لندن :شیفیلڈ کران کورٹ نے بچوں پرجنسی حملوں کے جرم میں لارڈ نذیر احمد کو ساڑھے 5 سال قید کی سزا سنا دی۔شیفیلڈ کران کورٹ میں لارڈ نذیر احمد پربچوں پرجنسی حملوں کا الزام ثابت ہوگیا تھا۔ لارڈنذیرپر70 کی دہائی میں ایک لڑکے پر جنسی حملے اورلڑکی کے ریپ کی کوشش کا الزام تھا۔لارڈ نذیر نے الزامات کی تردید کی تھی اور فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ ان کے دوبڑے بھائیوں پربھی الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن ٹرائل کیلئے ان فٹ قراردیئے گئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ مرد نے نذیراحمد سے لارڈ کا خطاب واپس لینے کا مطالبہ کیا۔رپورٹس کے مطابق خطاب پارلیمنٹ کے ایکٹ سے واپس لینا ممکن ہے لیکن فی الحال ایسا کوئی ایکٹ موجودنہیں۔اس حوالے سے برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ نذیراحمد لارڈز سے مستعفی ہوچکے، اب وہ ہاؤس کے رکن نہیں۔خیال رہے کہ نومبر 2020 میں برطانیہ کے سینئر پاکستانی نژاد سیاستدان اور برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی ہاؤس آف لارڈز(برطانوی دارالامرا) کے ممبر لارڈ نذیر احمد ہاؤس سے ریٹائر ہوگئے تھے۔لارڈ نذیر احمد برطانوی دارالامرا کے رکن منتخب ہونے والے پہلے مسلمان پاکستانی تھے۔لارڈ نذیر احمد آزاد کشمیر میں 1957 میں پیدا ہوئے تھے اور 1969 میں اپنے خاندان کے ہمراہ روڈہرم میں منتقل ہوئے، انہوں نے 1975 میں 18 برس کی عمر میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1990 میں پہلی بار روڈہرم کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں