10چمچوں کو سرٹیفکیٹ، دورہ چین کامیاب تھا تو قریشی کیتعریفی سند کہا ں ہے، بلاول

اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی پر وفاقی حکومت کے خلاف بروقت احتجاج پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو پریشانی آج ہے تو حکومت کے خلاف احتجاج کیلئے مارچ کے آخر تک انتظار کیوں کریں، وزیراعظم عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے وزرا میں تعریفی اسناد دے رہے ہیں، جن سے سی پیک پروجیکٹ نہیں چل سکا اس کو بھی سرٹیفکیٹ دیدیا،ہر دفعہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے ملتان کے ساتھ زیادتی کی، اپنے وزیر خارجہ کو کاغذ کا ایک سرٹیفکیٹ بھی نہیں دیا، اگر چین کا دورہ کامیاب تھا تو وزیر خارجہ کا سرٹیفکیٹ کہاں گیا؟ملک میں زرعی بحران ہے، حکومت کسانوں کا معاشی قتل کر رہی ہے، نالائق حکمران کا بندوبست کرنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھ سکتے، اسلام آباد پہنچ کر حساب لینگے،ہم پر الزام لگانے والا پرویزمشرف عدالت سے سرٹیفائڈ غدار اور آج ملک سے فرار ہے۔جمعرات کو لانگ مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے پی پی پی کے جنوبی پنجاب ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک پر مسلط کٹھ پتلی حکمرانوں سے ہر صورت جان چھڑانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تبدیلی کے نام پر تباہی کر رہی ہے، اس حکومت کے خلاف ہمارے احتجاج کی مہم نئے مرحلے میں داخل ہونی ہے، پی پی عام آدمی کی جماعت ہے، عوامی جماعت نے اس نا لائق، نااہل، سکیکٹڈ، کٹھ پتلی کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور اس سے جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کے مسائل کرنے کے بجائے وزرا میں تعریفی اسناد دے رہے تھے، وزیراعظم نے آج اس وزیر کو بھی تعریفی سرٹیفکیٹ دے دیا، جس نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو برباد کیا، جن سے سی پیک پروجیکٹ نہیں چل سکا اس کو بھی آج سرٹیفکیٹ دے دیا۔انہوں نے کہاکہ ہر دفعہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے ملتان کے ساتھ زیادتی کی، اپنے وزیر خارجہ کو کاغذ کا ایک سرٹیفکیٹ بھی نہیں دیا، یہ کہتے ہیں کہ چین کا دورہ بہت کامیاب ہے، اگر چین کا دورہ کامیاب تھا تو وزیر خارجہ کا سرٹیفکیٹ کہاں گیا، حکومت کہتی ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کامیاب ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ترین پالیسی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے 10 چمچے وزرا کو سرٹیفکیٹ دے کر باقی کابینہ پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا، کراچی کا ایک وزیر جس سے پہلے ایک وزارت کی نوکری سے نکالا گیا، اس کو بھی سرٹیفکیٹ دے دیا، وہ کراچی سے منتخب ہونے والے وزیر پلاننگ ہیں جن کی پلاننگ کے باعث ملک میں کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی، یہ کیسی کارکردگی ہے کہ ملک میں گندم کا بحران، چینی کا بحران، گیس کا بحران، پیٹرول کا بحران، یوریا اور کھاد ہے، یہ کیسی منصوبہ بندی ہے، یہ کیسی کارکردگی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں