اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک نہیں ہونے دینگے، ڈاکٹر حئی بلوچ

کوئٹہ :نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا کہ جب سے 18ویں ترامیم کے خلاف غیر جمہوری قوتیں روزاول سے سازشوں میں مصروف ہیں تاکہ نظام کو پرانے فارمولے پر لے جایا جاسکے جو اس سے ملک میں بحران پیدا ہوگا سوائے حکومت کے تمام سیاسی جمہوری قوتیں متفق ہیں کہ کسی صورت میں 18ویں ترامیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک نہیں ہونے دینگے ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ جب سے 18ویں آئینی ترامیم کو پارلیمنٹ نے خوش اسلوبی سے پاس کیا تھا اس وقت سے غیر جمہوری قوتیں اس کے خاتمے کی سازشوں میں مصروف ہیں 18ویں ترامیم بڑی جدوجہد کا ثمر ہے جکے لئے تمام سیاسی جماعتوں نے مشترکہ جہد کی اور اسے پاس کروا یا یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت حکومت ا ور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر 18ویں ترامیم پاس کیا اور کسی ایک ممبر پارلیمنٹ نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا نیشنل فنانس ایوارڈ ایک بڑا مسئلہ ہے ایک تو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نیشنل فنانس ایوارڈ کی آمدنی سے ملک کا قرضہ اور سود کی ادائیگی میں جاتا ہے دوسرا بڑا حصہ دفاعی اخراجات میں خرچ ہوجاتا ہے جو باقی بچ جاتا ہے وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں پہلے این ایف سی ایوارڈ صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم تھا لیکن چھوٹے صوبوں کی جدوجہد سے آبادی کے ساتھ ساتھ کچھ رقبے کی لحاظ سے جو محصولات پسماندگی کے پرانے فارمولے پر لے جانا چاہتے ہیں سوائے حکومت کے تمام سیاسی جمہوری قوتیں قوم پرست مذہبی جماعتیں متفق ہیں کہ کسی صورت میں 18ویں ترامیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک نہیں ہونے دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں