صحافی اقرارالحسن کوانصاف فراہم کیا جائے

محکمہ انٹیلی جنس کے افسران نے جوغیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی جرم کیا ہے انہیں اس اقدام قتل جیسے جرم کی قرارواقعی سزا دی جانی چاہیئے،صرف معطلی ناکافی ہے۔معطلی ان جرائم کی سزا نہیں، عوامی غصے سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔مذکورہ جرائم کی تفصیل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر آ چکی ہے۔ اقرارالحسن اور اس کی ٹیم نے کوئی جرم نہیں کیا، اپنا فرض اداکیا ہے۔آئی بی ایک افسرکو رشوت لیتے ہوئے تصاویر لی ہیں۔اس کے جرم کے دستاویزی شواہد جمع کئے تاکہ شواہد دکھا کر مجرموں کا جرم ثابت کیا جائے کہ یہ محض الزام تراشی نہیں، حقیقت ہے، اور مجروموں کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔ اقرار الحسن اور اس کی ٹیم اس سے قبل محکمہ پولیس،انکم ٹیکس، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت،حتیٰ کہ جعلی عاملوں اورپیروں کو بھی بے نقاب کر چکا ہے۔اپنے جرم کے ناقابل تردیدشواہد دیکھ کر کسی نے منہ چھپایا، کوئی کچھ کہے بغیر موقع سے بھاگ گیا۔فرار ہوتے وقت کبھی کبھارمجرم معمولی ہاتھاپائی بھی کرلیتے تھے مگر جیسی بد اخلاقی، بدسلوکی اور بھیانک مجرمانہ حرکت محکمہ انٹیلی جنس کے اہلکاروں اور افسران کی جانب سے کی گئی، کہیں نہیں دیکھی گئی۔اقرارالحسن کاپروگرام دیکھنے والے جانتے ہیں کہ اس نے انتہائی بہادری سے جعلی کیچپ، جعلی ادویات، مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور مرغیوں کی آلائش سے مضر صحت گھی اور تیل بنانے والوں کے کارخانوں اور منشیات فرشوں کے اڈوں کا صرف کھوج نہیں لگایا،انہیں میں جاکر رنگے ہاتھوں پکڑوایاہے۔بجلی چوری کرنے والوں تک رسائی حاصل کی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کالے کرتوت دکھائے۔اپنی جان خطرے میں ڈال کر اقرار الحسن معاشرے سے جرائم کا خاتمہ چاہتا ہے۔اس بار اپنے اور اپنی ٹیم کے ساتھ ہونے والی لاقانونیت کی گواہی دینے کے لئے زندہ بچ گیا، اگر آئی بی کے مجرم اہلکاروں، اور افسران کو سزا نہ دلوائی گئی، مصلحتوں سے کام لیا گیا اور انہیں تھانہ ماڈل ٹاؤن کے پولیس اہلکاروں،افسران اور منصوبہ سازوں کوبچانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان جرائم پیشہ افراد کے لئے جنت بنارہے گا۔17جون2013سے آج تک نہتی بچی آج بھی عدالتوں سے سوال کر رہی ہے:۔۔۔ ”میری ماں کو کیوں قتل کیا گیا؟“۔۔۔مگر قاتل، اور ان کے وکلاء معزز عدلیہ کو قانونی اصطلاحوں کے معنے سمجھانے میں مصروف ہیں۔جس معاشرے میں عدالتی کارروائی اس قدر سست ہو کہ 9برس میں یہ بھی طے نہ کیا جاسکے کہ کون سا مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے اور کون سا مقدمہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے؟وہاں مجرموں کا قلع قمع مشکل ہے۔آئی بی کے اہل کار اور افسران خود ہی رشوت خور ہوں یا رشوت خوروں کی سرپرستی کرتے ہوں تو وزیر اعظم تک روزانہ کی بنیادوں پر پہنچنے والی رپورٹیں کس قدر معتبر ہو سکتی ہیں؟ یہ سوال غور طلب ہے۔آئی بی کا محکمہ براہ راست وزیر اعظم کوجوابدہ ہے اس لئے وزیر اعظم کو اس معاملے کی تحقیقات لازماً کرانی چاہیئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔جس فریق کی زیادتی ثابت ہواسے قانون کا سامنا کرنا پڑے،محض اس لئے نہ بچ جائے کہ اس تعلق فلاں شعبے یا محکمے سے ہے۔کیس کو میرٹ پردیکھا جائے، فیس نہ دیکھا جائے۔صحافی برادری کو بھی قانونی حدود میں رہتے ہوئے ایسے بہیمانہ رویہ کی روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔فضاء میں مکہ لہرانے اورکسی شخص کی ناک پر مارنے فرق ہے۔اقرار الحسن نے آئی بی کے اہلکار کے خلاف رشوت لینے کے تمام کوائف مجاز افسر کے علم میں لانا چاہا تو متعلقہ افسر کو واقعاتی شہادتوں کے مطابق کارروائی کرنی چاہیئے تھی۔جس رد عمل کا مظاہرہ کیا گیا اس کی حمایت کوئی ذی ہوش پاکستانی نہیں کر سکتا۔ویسے بھی اقرار الحسن کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی بروقت میڈیکل رپورٹ بھی تیار ہوتی رہی ہے، ایف آئی آر کٹ چکی ہے، قانون کو ہاتھ میں لینے والے افسران عدالت کے روبرو اپنے دفاع میں جو کہناچاہیں کہیں، اور عدالت قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سنائے۔واضح رہے کہ پاکستان کو غنڈہ گردی سے نجات دلانا وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔ طاقت ور کے لئے ایک قانون اور کمزور کے لئے دوسراقانون نہیں ہونا چاہیئے۔نظریہئ ضرورت کو دفن کرنے کا وقت آچکا ہے۔جسٹس منیر نے غیر قانونی اقدام کو روکنے کی بجائے مصلحت سے کام لیا،اس مصلحت پسندی کی سزا آج پاکستان کے 24کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ نادرا کی رپورٹ رشوت لے کر جاری کرنامعمولی جرم نہیں،ماضی میں ایسی رپورٹوں کی مدد سے بعض غیر ملکی بھی ہماری پارلیمنٹ کے رکن بنتے رہے ہیں۔توقع ہے کہ عدالت اس پہلو کو بھی سامنے رکھے گی۔اسی مجرمانہ ذہنیت نے ملک کو اخلاقی پستی میں دھکیلا ہے۔آئی بی کے افسران خود کو آئی ایس آئی کا ہم پلہ سمجھتے ہیں، مگر اس قسم کا ایک واقعہ دنیا بھر میں آئی ایس آئی کے کسی اہلکار یا افسر سے منسوب نہیں، کہیں رپورٹ نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ دنیا آئی ایس آئی کی صلاحیتوں کی معترف ہے، جبکہ آئی بی کا نام کسی مقابلہ جاتی فہرست میں شامل نہیں۔ بات صرف ایک صحافی یا اس کی ٹیم پر مظالم ڈھانے تک محدود نہ کی جائے، اسے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔رشوت خوری میں آئی بی جیسے اداروں ملوث ہونا پاکستان کی عالمی ساکھ کیعلاوہریاستی سلامتی کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے۔حکومت پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ایف اے ٹی ایف آخری شرط پوری کرانے پر بضد ہے۔بادیئ النظر میں پاکستان میں مجرمانہ ذہنیت کی سرکوبی کے لئے وہ سب کچھ کرنا چاہیئے جس کی ضرورت ہو،اوراس مقصد کے لئے تمام اداروں کو بیک وقت فیصلہ کرنا ہوگا کہ جہاں بھی لاقانونیت نظر آئے،سب اٹھ کھڑے ہوں،سب مل کر لاقانونیت کے خاتمے کے لئے جدوجہد کریں۔مجرمانہ ذہنیت کی دہائیوں پرورش کی گئی ہے۔ماڈل ٹاؤن پولیس اور آئی بی کے اہلکار اتنے خودسر نہ ہوتے اگر انہیں اوپر والوں کی آشیرباد حاصل نہ ہوتی۔ آئی بی افسران اگر کرپشن میں حصہ دار نہ ہوتے تو اس اہلکار سے علیحدگی اختیار کر سکتے تھے، غیر جانبدارانہ تفتیش اور تحقیق ہوئی تو پوری کہانی نکھر کر سامنے آجائے گی۔تمام چہرے بے نقاب ہوں گے۔ کرپٹ ذہنیت کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے،صرف دکھاوے کی لیپا پوتی سے کام نہیں چلے گا۔ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکاتھاورنہ سعودی عرب پاکستان سے یہ ضمانت نہ مانگتا کہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں سعودی عرب اپنے3ارب ڈالر 72گھنٹوں میں واپس لے سکتا ہے۔اس شرمناک صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ کرپٹ ذہنیت کا بے رحمی سے سر کچلا جائے، ہمدردی نہ کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں