پسنی فش اور آئل فیکٹریابند ، سینکڑوں افراد بیروزگار ، احتجاجی ریلی
پسنی (بیورورپورٹ/نامہ نگار) پسنی میں فش کمپنی اور آئس فیکٹریوں کی بندش سے سینکڑوں لوگوں کے بے روزگار ہوجانے کی وجہ سے فش کمپنیوں اور آئس فیکٹریوں کے مزدوروں نے آج ایک ریلی نکالی اور احتجاج کیا۔ پسنی جیٹی سے پسنی پریس کلب کے سامنے تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں موجود مزدوروں نے بتایا کہ گزشتہ روز فش کمپنی اور آئس فیکٹری مالکان نے غیر معینہ مدت کے لیے اپنی کمپنیوں کو بند کرنے کا جو اعلان کیا ہے اِس سے سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فش کمپنی مالکان کا کہنا ہے کہ مچھلی نہ آنے کی وجہ سے وہ کمپنیوں کے خرچے برداشت نہیں کرسکتے اور سینکڑوں ملازم مزدوروں کو تنخواہ بھی نہیں دے سکتے جبکہ آئس فیکٹری مالکان کے ملازم مزدوروں نے بتایا کہ پہلے کشتیاں بڑی تعداد میں سمندر جاتی تھیں جس کے باعث ہر ایک آئس فیکٹری سے تقریبا 800/900 کے قریب برف کی سیل فروخت ہوتی تھیں اور ابھی ہر فیکٹری سے بمشکل 100/200 برف کی سیل فروخت ہورہی ہیں جس سے آئس فیکٹری خسارے میں چل رہی ہیں۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ اکثریتی کشتیاں سمندر نہ جانے کی وجہ سے پورا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔ فیکٹری مالکان خسارے میں ہیں۔ فش کمپنی ملازم مزدوروں نے بتایا کہ بیوپاری ہمیں کام سے نہیں نکال رہے ہیں چونکہ کمپنیوں میں مچھلی نہیں آرہا اِس لیے اب وہ بھی مجبور ہیں اور اپنی کمپنیاں بند کررہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ بیوپاری بھی اظہار ہمدردی کے طور پر ملازم مزدوروں کے احتجاج میں شامل تھے ، بیوپاریوں کا کہنا تھا کہ ہمارا دل بھی نہیں کہتا کہ ہم اپنے ملازم مزدوروں کو چھوڑ دیں لیکن اب حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ ہم ا±ن کے ساتھ صرف ہمدردی ہی کرسکتے ہیں اور آج ملازم مزدوروں کے احتجاج میں شامل ہونے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم ا±ن کے ہر مصیبت اور غم میں برابر کے شریک ہیں،چونکہ ہم اتنے بڑے بیوپاری نہیں ہیں کہ سینکڑوں ملقزم مزدوروں کی تنخواہ ،کھانے پینے کا خرچہ برداشت کرسکیں اس لیے ہم نے اپنی کمپنیاں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھا ہے۔ احتجاج کرنے والے ملازم مزدوروں نے بتایا کہ صوبائی حکومت اور زمہ دار ادارے اِس مسلئے کا حل نکالیں ،رمضان شریف آنے والا ہے اگر حالات اسی طرح رہے تو ا±ن کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوجائے گا۔


