ایم کیو ایم گٹر کا ڈھکن نہیں لگا سکتی صوبہ بنانے کی بات کرتی ہے,مصطفی کمال
حیدرآباد : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ جب تک اختیارات اور وسائل یوسی کی سطح تک منتقل نہیں ہونگے تب تک ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ایم کیو ایم گٹر کا ڈھکن نہیں لگا سکتی صوبہ بنانے کی بات کرتی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ جب مہاجروں کے نام نہاد بابائے مہاجر 35 سال پارٹی چلانے والے عمران فاروق کو مار سکتا ہے تو تم سب کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر ایم کیو ایم والے اپنے قائد تحریک کو نہیں مانتے تو اپنے قائد تحریک کی جماعت ایم کیو ایم کو چھوڑیں، اس کے پرچم اور نشان چھوڑیں، ایم کیو ایم والے کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ مرتا مہاجر، گمشدہ مہاجر، سسکتا مہاجر، بے روزگار مہاجر، بے آسرا مہاجر، کچرے میں پلتا مہاجر، کوٹہ سسٹم میں جکڑا مہاجر، مہاجر نام پر سیاست کرنے والوں کو سوٹ کرتا ہے۔ چھ دن کے دھرنے میں جو کامیابی ملی ہے اس پر کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دھرنے کا مقصد کراچی سے کشمور تک انسانوں تک اختیارات اور وسائل پہنچانے ہیں، وزیراعلی ہاوس میں 18 ویں ترمیم کے بعد اختیارات مقید کرلیے گئے ہیں، 12 سو ارب کا انچارج وزیراعلی ہے جو نیچے اختیارات منتقل نہیں کررہا۔ اللہ نے ہمیں 80 فیصد کامیابی دی ، سندھ حکومت نے ہماری 80 فیصد باتیں مانی ہیں، ہم نے احتجاج موخر کیا تھا اگر باتیں نہیں مانی گئیں تو پھر لائحہ عمل بنائینگے، ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ جو باتیں کی تھیں اس پر کتنا عمل ہوا۔ پاکستان میں تین آئینی ترامیم کی ضرورت ہے جس طرح وفاق سے صوبوں کو پیسے ملتے ہیں اس طرح صوبوں سے نچلی سطح تک پیسے جائیں یہ آئین میں لکھ دیے جائیں، بلدیاتی نظام کا پورا چیپڑ آئین میں لکھا جائے۔ جب تک قومی و صوبائی اسمبلی کے الیکشن نہ ہوں جب تک بلدیاتی نظام موجود نہ ہو یہ بھی آئین میں لکھ دیا جائے۔ اگر ایم کیو ایم اپنے قائد تحریک کو نہیں مانتی تو اپنے قائد تحریک کی جماعت ایم کیو ایم کو چھوڑے، اس کے پرچم اور نشان کو چھوڑے؛ ایم کیو ایم والے کبھی ایسا نہیں کریں گے یہ لوگ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ مرتا مہاجر، گمشدہ مہاجر، سسکتا مہاجر، بے روزگار مہاجر، بے آسرا مہاجر، کچرے میں پلتا مہاجر، کوٹہ سسٹم میں جکڑا مہاجر، مہاجر نام پر سیاست کرنے والوں کو سوٹ کرتا ہے، اگر مہاجر خوشحال ہوجائیگا تو راءپیسے کیوں دیگی، ایم کیو ایم کے قائد مودی کو آواز لگارہے ہیں بھارتی افواج کے مرنے والوں کو شہید کہہ رہے ہیں اور پاکستان کے اداروں کے سربراہ کو نام لے کر برا کہہ رہے ہیں کیونکہ شہداءقبرستان میں لاشیں دیکھنا چاہتے ہیں، عظیم احمد طارق چئیرمین تھا ماردیا ، عمران فاروق ایم کیو ایم کی ریڑھ کی ہڈی تھا ماردیاگیا، جو بھی کردار والا انسان تھا یا تو وہ ایم کیوایم چھوڑ گیا یا مارا گیا ، 2012 میں اسکاٹ لینڈ یارڈ میں جمع اقبالی بیان سے ثابت ہوا کہ ایم کیو ایم را سے فنڈ وصول کرتی ہے۔ اس میں منٹس آف میٹنگ تھے جو را سے ہوئی قائد تحریک نے چار بندوں کے ساتھ کی، قائد تحریک نے راءکی میٹنگ کے حوالے سے تین تین دن تک اپنا بیان ریکارڈ کرایا ،قائد تحریک نے رحمان ملک کو بریف کیا کہ 22 سالوں سے راءسے پیسے لیتا آیا ہوں اب مجھے بچاو ، کہا گیا کہ بھائی کو کچھ ہوا تو جمہوریت ڈی ریل ہوگی اور خون کی ندیاں بہہ جائینگی ،2013 ءمیں پیپلزپارٹی نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس نکالا گیا جس میں 80 فیصد اختیارات 2013 ءمیں فاروق ستار نے اپنے ہاتھ سے قائم علی شاہ کے حوالے کیے ، جبکہ 2014 نومبر تک وزیر رہے 2016 ءتک ایم کیو ایم کا گورنر رہا خاموشی سے اختیارات لکھ کر دے دیے، چالیس سال سے حکمرانی کرنے کے باوجود آج پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور عوام آج بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئی ہیں آج سے چالیس سال پہلے حیدر آباد اور کراچی ذیادہ اچھا تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 13 سال میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے 10 ہزار ارب خرچ کردیے پھر بھی سندھ انسانوں کے رہنے کی بدترین جگہ ہے، 49 ہزار میں سے 11 ہزار اسکول گھوسٹ ہیں ، پہلے ٹیچر گھوسٹ ہوتے تھے اب اسکول ہی گھوسٹ ہوگئے، پیپلزپارٹی کے دور میں اسی پکاقلعہ میں معصوم عورتوں اور بچوں پر گولیاں چلائی گئیں، ماورائے عدالت قتل سے پورا شہدائ قبرستان بھر گیا ، ایم کیو ایم نے 2008 میں اسی پیپلزپارٹی سے معاہدہ کرلیا، ساتھ جینے مرنے کی قسم کھائی، 2008 میں ایم کیو ایم کے قائد تحریک کی اہلیہ نے ان سے خلع مانگ لی، ہمیں لندن بلایا گیا تو پتا چلا زرداری سے مدد مانگی گئی ، زرداری نے پیپلزپارٹی کے دو وفاقی وزراءلندن بھیجا ، رحمان ملک اور فاروق ایچ نائیک ہم سے قبل وہاں پہنچے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ میں وہ پیپر تھے جو مہاجروں کے نام نہاد بابائے قوم کی اہلیہ نے جمع کرائے تھے، اس پیپر میں بیڈروم سے لے کر زندگی کی ہر بات تھی وہ پیپر ہم نے پڑھا تو زمین پیروں سے نکل گئی، ہم نے آوٹ آف کورٹ کیس چلانے کا مشورہ دیا ہم وفادار تھے ہماری بات بھی مانی گئی، اس پیپلزپارٹی کے دو وفاقی وزراءوہ سارا ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے، جس مہاجر قوم کی جان ایک آدمی میں اور پھر اس ایک آدمی کی جان پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں تھی، وہ ڈاکومینٹس اتنا خطرناک تھا کہ ہر پیج پر ہیڈ لائن بنے، عمران فاروق کا لندن میں قتل ہوا انہیں پی پی نے نہیں مارا ، اے این پی نے نہیں مارا یا ایجنسیوں نے نہیں مارا، قائد تحریک نے مارا، کیسی پارٹی ہے جس آدمی پر 35 سال انویسٹمنٹ کی اس کو اپنے ہاتھ سے مار رہے ہو، نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ جب مہاجروں کے نام نہاد بابائے مہاجر 35 سال پارٹی چلانے والے عمران فاروق کو مار سکتا ہے تو تم سب کہ کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں صرف 3 سو ارب خرچ کیے کراچی تیز ترین ترقی یافتہ شہروں میں شامل ہوا، تین سو ارب میں فلائی اوور انڈر پاس کا جال بھچ گیا پارک اور اسکول بن گئے ، انہوں نے کہا کہ سندھ میں خاص طور پر کوئی ایسی جماعت نہیں جو لوکل گورنمنٹ پر بات نہ کررہی ہو، ہم چھ سال قبل یہ بات کررہے تھے ، ہم نے 2017 میں بھی احتجاج کیا سندھ حکومت نے ہم پر لاٹھی چارج کرائی میں خود گرفتار ہوا اور پانچ سال قبل جو ہمارے سولہ نکات تھے وہ آج تمام پارٹیز کہہ رہی ہیں۔ پی ایس پی کے علاو¿ہ اب دوسرا آپشن نہیں۔


