ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ مظلوم قوموں کی آواز تھے،نیشنل پارٹی
کراچی(انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر مخدوم ایوب قریشی نے ترقی پسند بزرگ سیاستدان ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کے ٹریفک حادثے میں انتقال پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ مرحوم کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتارہےگا انہوں نے 60 کی دہائی میں سیاست کا آغاز کیا وہ ملک کی معروف طلبا تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (bso) کے بانی تھے بی ایس او نے بلوچستان کی سیاست میں کئی نامور سیاست دان پیداکیے۔ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی سیاسی زندگی چھ دہائیوں پرمحیط ہے وہ 1970 میں ملک میں بالغ رائے دہی پر ہونے والے پہلے عام انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے وہ ایوان بالا کے بھی ممبر رہے ہیں انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی بلوچستان نیشنل موومنٹ اور نیشنل پارٹی میں کلیدی عہدوں پر کام کیا ڈاکٹر حئی بلوچ اس وقت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ تھے ڈاکٹر صاحب کی وجہ شہرت ان کا سادہ مزاج اورشعلہ بیاں مقرر ہونا تھی وہ کارکنوں کے ساتھ تھڑوں، فٹ پاتھوں اورفرشی نشستوں میں گھنٹوں سیاسی موضوعات پر بحث کرتے تھے تمام کارکنوں کے ساتھ انکارویہ دوستانہ ہوتا تھا ۔ایوب قریشی نے کہا ڈاکٹر حئی بلوچ نے ملک میں بسنے والی مظلوم قوموں ،مزدوروں ،کسانوں اور کچلے ہوئےطبقات کےحقوق کےحصول کے لیے ساری زندگی انتھک جدوجہدکی ہے وہ سیاست پرسرداروں ،جاگیر داروں اورافسرشاہی کے قبضے کے خلاف ایک طاقتور آواز تھے انکی سیاسی جدوجہد اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے انکی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا


