فری زون منصوبوں کے مکمل ہونے پر گوادر میں مزید ترقی ہو گی، چینی میڈیا
اسلام آ باد:گوادر کے لوگ توسیع شدہ ہسپتال، یونیورسٹی، پینے کے صاف پانی اور ایسٹ بے ایکسپریس وے سے لطف اندوز ہوں گے ، یہ منصوبہ بلوچستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے، مقامی لوگوں کے لیے بہتر ذریعہ معاش لائے گا،گوادر ایکسپو 2019 سی پیک کے شاندار سفر کا ایک چمکدار نقطہ آغاز تھا، فری زون منصوبوں کے مکمل ہونے پر گوادر میں مزید ترقی ہو گی ۔گوادر پرو کے مطابق چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کی سیکیورٹی ٹیم کے نگران نصیر احمد نے کہا ہے کہ گوادر فری زون بہت سے لوگوں کے لیے صرف ایک عظیم، مبہم تصور تھا، یہاں تک میں بھی یہ نہیں بتا سکا کہ گوادر تین، پانچ یا دس سالوں میں کیسا نظر آئے گا، حالانکہ لاشعوری طور پر جانتا تھا کہ راستے میں کچھ بہت بڑا ہے۔ چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی گوادر پورٹ کی ترقی اور انتظام کی ذمہ دار ہے۔ نصیر نے گوادر پرو کو بتایا، ”2020 کے آغاز میں ابتدائی اور سخت انسداد کرونا اقدامات کی بدولت، تباہ کن وبائی امراض کے باوجود گوادر کی تعمیر بڑی پیش رفت کر رہی ہے۔ 2020 کے وسط میں گوادر فری زون کے فیز 1 پر کام تمام بنیادی ڈھانچے بشمول بجلی، پانی، سڑک، ٹیلی کمیونیکیشن، ویسٹ ٹریٹمنٹ، نکاسی آب کے نظام ، مینوفیکچرنگ، تجارت اور لاجسٹکس کے ساتھ اور بینکوں سمیت مختلف شعبوں کے 30 سے زائد رجسٹرڈ اداروں کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ گزشتہ ماہ گوادر میں شدید بارش ہوئی جس کے نتیجے میں ”سیلاب جیسی صورتحال” پیدا ہوئی۔ پاکستان میں چینی سفارت خانے اور گوادر میں دیگر چینی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر سی او پی ایچ سی نے مقامی خاندانوں میں خوردنی اشیاءجمع کرکے تقسیم کرکے فوری کارروائی کی۔ موسلا دھار بارش کے درمیان ہم گھر گھر گئے، یہاں تک کہ اضلاع کے دور دراز علاقوں تک۔ جب کہ میں منصوبوں کا محافظ ہوں، میں اپنے چینی بھائیوں کی طرف سے تحفظ محسوس کرتا ہوں۔ گوادر کے لوگ توسیع شدہ ہسپتال، گوادر میں پہلی یونیورسٹی، پینے کے صاف پانی اور ایسٹ بے ایکسپریس وے جیسی آسان سڑکوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ نصیر نے کہا میں نے اس منصوبے کو سی پیک کے تاج میں ایک ہیرے کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ منصوبہ بلوچستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے اور یہ مقامی لوگوں کے لیے بہتر ذریعہ معاش لائے گا ،گوادر کا نقشہ پہلے بنجر اور تاریک تھا لیکن اب آنے والی کمپنیوں نے اسے روشن کر دیا ہے۔


