سیاست فراست کی متقاضی ہے
ملک ابھی خود کفالت تک نہیں پہنچ سکا،حکمران قرض کی بھیک مانگ رہے ہیں، کشکول ہاتھ میں اٹھائے ملکوں ملکوں گھوم ر ہے ہیں۔ملکی معیشت دیوالیہ ہونے سے بال بال بچی ہے۔عوام کی بھاری اکثریت خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔دو کروڑ سے زائد بچے حصول تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ صورت حال حد درجہ افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے۔اسباب و علل سے سب واقف ہیں۔اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔قدرت نے وسائل فراہم کرنے میں کوئی کمی نہیں رہنے دی۔ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل ساحل کسی بھی ملک کے لئے ایک بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا ہے۔500ناٹیکل میل سمندر آبی دولت سے مالا مال ہے،اس قدرتی نعمت سے استفادہ کی منصوبہ بندی کی جاتی تو نہ صرف مقامی ماہی گیر خوشحال ہوتے بلکہ ملکی خزانے میں قابل قدر دولت جمع ہو سکتی تھی۔مگر آج بھی مقامی ماہی گیر غیرملکی، غیرقانونی ٹرالرز کو بلوچستان کے سمندر سے نکالنے کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔قدرت نے سونے کے بڑے ذخائرعطا کئے،ہمارے حکمرانوں نے اپنی نادانی یا نالائقی کے باعث کوڑیوں کے دام غیرملکیوں کے سپرد کردیئے۔سیندک کاپراینڈ گولڈ پراجیکٹ سے کیا نکلا کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ صرف یہ کہتے رہے کہ انہیں 2فیصد کا ایک پرچہ تھما دیا جاتا ہے!!!! اسے قدرت کی جانب سے خاص کرم ہی کہہ سکتے ہیں کہ حادثاتی طور پر ڈیکورک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کے معاملات ملکی عدالت سے عالمی عدالت تک نہ پہنچتے تو عوام اس قدرتی عطیہ کے مالیاتی حجم سے بے خبر ہوتے۔حکمرانوں (صوبائی اور وفاقی دونوں)کی بے حسی دیکھئے،بلوچ عوام کے پیروں تلے سونے کے بیش بہا ذخائر ہیں اوروہ ننگے پیر اور بوسیدہ لباس میں زندگی بسر کر رہے ہیں، نانِ شبینہ کو محتاج ہیں۔ اب کہ راز پر سے پردہ اٹھ گیا ہے، مقدمات کی تفصیلات جو شہری چاہے ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔واضح رہے،اس مقدمے بازی کے بعدمتعلقہ کمپنی سے کئے جانے والے تمام معاہدوں کی شرائط عوام سے چھپانا ممکن نہیں رہا۔حکومت رسائی نہ دے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔ہر شہری کا آئینی حق ہے۔بہت کچھ پہلے ہی گوگل پر موجود ہے،مزید معلومات کے لئے وزارت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کو اس حوالے سے تمام باریکیوں سے واقف ہونازیادہ ضروری ہے کہ وہ عوامی حقوق کی حفاظت کے دعویدار ہیں۔یہ دور جدید ٹیکنالوجی کادورہے کوئی بات عام آدمی کی نگاہوں اوجھل نہیں رکھی جا سکتی۔عام آدمی خود بھی چوکنارہے گا اس لئے کہ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزاانجام کار اسی کو بھگتنا پڑتی ہے۔جیسے آج کل مہنگائی کی شکل میں عوام بھگت رہے ہیں۔یہ ماضی کی غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ملک میں بروقت ڈیم تعمیر کئے گئے ہوتے تو آج پن بجلی کی صورت میں سستی بجلی دستیاب ہوتی۔ہم غیر ملکی گوئلہ،گیس،اور مہنگے پیٹرول (فرنیس آئل)کی درآمد سے بے نیاز ہوتے۔آج پاکستان کے ہر بچے کو بتایا جائے کہ ہماری سالانہ آمدنی کا آدھے سے زیادہ حصہ ان اشیاء کی درآمد پر خرچ ہوجاتا ہے۔اگر ملک میں ڈیم بجلی پیدا کر رہے ہوتے رو مذکورہ اشیاء درآمد کرنے کے ضرورت ہی نہ ہوتی۔ڈیم نہ ہونے کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہماری زراعت بھی تباہ ہوگئی۔دالوں، خوردنی تیل اور دودھ کی درآمد پر خرچ نہ اٹھانا پڑتا۔اب توعام آدمی پینے کے پانی کو ترس رہا ہے۔منرل واٹر کے نام پر لوگوں کو مضر صحت پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ریاست صاف شفاف اور صحت افزاء پانی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے۔اپوزیشن گزشتہ دہائیوں میں برسراقتدار رہی، وہ بھی عوام کو جوابدہ ہے۔جو ریاست دیوالیہ ہونے کے خدشات سے دوچار ہو، اس کی ذمہ داری حکمرانوں کے کندھوں پر ہے۔سعودی عرب جیسا اسلامی برادر ملک قرض دیتے وقت لکھوالے کہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں اپنا قرض 72گھنٹوں میں واپس مانگ لے گا۔ہمارے سییاستدان ملک لکو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی مشترکہ حکمت عملی بنانے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے 48گھنٹوں کے چیلنج دے رہے ہیں۔عراق، شام، لیبیاء اور افغانستان کا حشر آنکھوں کے سامنے ہے،مگر اس سے سبق حاصل نہیں کیا جارہا۔جو اقوام گرد و پیش سے اس قدر بیگانہ ہوجائیں، ان کے مستقبل کی پیش گوئی کے لئے کسی نجومی کو بلانے کی ضرورت نہیں۔سیاست سے فراست نکل جائے تو باقی پاگل پن رہ جاتا ہے۔آج پاکستان دیوالیہ ہونے سے بمشکل بچا ہے۔واضح رہے مستقبل میں ماضی کی غلطیاں دہرانا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ماضی کی غلطیوں سے بچنا ہے۔ان غلطیوں میں سب سے بڑی غلطی عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھنے کی بجائے خود کو پیدائشی حکمراں سمجھنا ہے۔اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں سڑکوں پر یہ کہنا کہ کہ ان ججوں کے کیا حق حاصل تھا کہ انہوں نے مجھے نکالا۔یہ سوال کرنے کا حق ریاست کی معیشت کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچانے والوں کو نہیں دیا جاسکتا۔عوام کسی منصوبہ بندی کاحصہ نہیں تھے، معاہدوں اور فیصلوں میں عوام سے کبھی مشاورت نہیں کی گئی، آج بھی نہیں کی جا رہی۔اگر آج کے حکمران عوام کو مشکلات سے نجات دلانے کی بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے مرتکب ہوں گے تو ان سے عوام باز پرس کر لیں گے۔لیکن جن حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی کے نتائج عوام آج بھگت رہے ہیں،وہ تو جوابدہی سے مبراء نہیں۔انہیں جواب دینا ہوگا۔قدرت نے عوام کو اپنی تمام نعمتوں سے نوازا ہے، پاکستان کے عوام دنیا کے دیگر ملکوں کے عوام کی طرح اپنی محنت سے مشکلات کا دریا عبور کر لیں گے۔انہیں ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ایسی مشکلات ماضی میں بھی آتی رہی ہیں، واضح رہے کہ عوام ماضی میں مشکلات کو شکست دے چکے ہیں۔مستقبل میں بھی دنیا دیکھے گی کہ پاکستان کے محنتی اور جفاکش عوام سرخ رو ہوں گے۔آج اس خطے میں ایک بار پھر تاریخ کے ساتھ جغرافیہ بھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔غربت، جہالت، بیماری اور بیروزگاری کو زیر کریں گے۔پاکستان کے عوام اپنے بازوؤں کی قوت پر بھروسہ کرتے ہیں۔عوام جانتے ہیں،ماضی پر آنسو بہانے سے تقدیر نہیں بدلتی۔عوام حکمرانوں کی غلطیوں کے نتیجے میں بار بار سختیاں برداشت کر چکے ہیں۔آج بھی تازہ دم ہیں۔لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔سیاست دان فہم وفراست کا دامن نہ چھوڑیں۔سیاست فراست کی متقاضی ہے۔


