ایف اے ٹی ایف:پاکستان گرے لسٹ میں رہے گا

فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے پاکستان کا نام جون2018میں گرے لسٹ میں ڈالا تھا۔اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق2019 کے آخر تک 27نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے کہا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ اگر اس وقت ایف اے ٹی ایف 37ارکان میں سے صرف 3ارکان پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کی تجویز سے اختلاف کر دیتے تو پاکستان کا نام گرے لسٹ میں نہ ہوتا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جون 2018میں تین ملک بھی ایسے نہیں تھے جو پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے نظرآتے۔لیکن اس کے دوسرے معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ 37 ملک پاکستان میں منی لانڈرنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے اور ان کہی متفقہ خواہش تھی کہ پاکستان کو تباہی سے بچایا جائے۔وہ جانتے تھے کہ جس ملک سے منی لانڈرنگ کی جا رہی ہو اس کی معیشت کھوکھلی ہو جاتی ہے،اس کے وسائل مال دار ملکوں میں منتقل ہو جاتے ہیں،ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔انہوں نے یہ اقدام پاکستان دشمنی میں اٹھایا، عوام کو مالی مسائل سے نجات دلانے کے لئے ایسا کیا گیا۔آج خود ایف اے ٹی ایف کے ارکان یہ تسلیم کرہے ہیں کہ پاکستان نے پہلے دیئے گئے 27میں سے 26نکات پر عملدرآمد کرلیا ہے اور بعد میں تجویز کردہ 7نکات میں سے 6پر عملدرآمد کر لیا ہے محض ایک نکتہ ایسا ہے بچا ہے جس پر عمل ہونا باقی ہے۔یہ رپورٹ دیکھ کر عام آدمی کی آنکھوں میں امید کی کرن نمودار ہوجاتی ہے کہ جلد ہی منی لانڈرنگ کرنے والوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔اس لئے کہ عام آدمی جانتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا دباؤ نہ رہا تو حکومتِ پاکستان کا رویہ منی لانڈرنگ کے خلاف کچھ نرم پڑ جائے گا۔وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اگر منی لانڈرنگ کرنے والا پی ٹی آئی سے تعلق رکھتا ہے تو اسے کچھ نہیں کہا جا تااورصرف اپوزیشن سے تعلق والے سیاستدان ہی عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہوتے ہیں۔جبکہ ملک سے جرائم کی دیرپااور مکمل بیخ کنی کے لئے دوغلی پالیسی کام نہیں آتی۔ بلکہ اس طرح مجرموں کو ہمدردی ملتی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں حکومت انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔مجرم خود بھی اس امتیازی سلوک پر احتجاج کرتے ہیں۔چنانچہ حکومت کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ دو عملی ترک کرے،مجرم کو مجرم سمجھا جائے اس کی سیاسی وابستگی کو معیار نہ بنایا جائے۔قانون کی بالا دستی کے لئے دو رخاپن ختم کرنا ہوگا۔یہ درست ہے کہ وائٹ کالر کرائم کا کھوج لگانا آسان نہیں، مگر جب شواہد تک رسائی مل جائے، شواہد اطمینان بخش ہوں تو سزا دلوانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟عدالت کو قائل کرنے میں کوتاہی کیوں برتی جاتی ہے؟اگر یہ مفروضہ سچ مان لیا جائے کہ بعض فیصلے ماورائے قانون بھی دیئے جاتے ہیں تب بھی اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق استعمال کرنے کا راستہ کھلا ہے۔جرم کے نظرانداز کئے گئے ٹھوس شواہد پیش کرکے عدالت کی درست فیصلے تک پہنچنے میں مدد کی جا سکتی ہے۔ارادہ پختہ ہو، تو عمل بھی ارادے کی پختگی کی تائید کرتا ہے۔کوئی حکومت اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اراکین ملک پاکستان کے حالات سے بے خبر ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مجرم صرف پاکستان کے لئے مشکلات پیدا نہیں کرتے بلکہ جہاں جاتے ماحول کو بگاڑ دیتے ہیں۔پانامہ لیکس سے سوئس اکاؤنٹس کے انکشافات تک جو کچھ سامنے لایا گیا ہے اس میں کسی پاکستانی ایجنسی کا کوئی کردار نہیں۔ممکنہ وجہ صرف ایک ہے، جرائم پیشہ لوگوں کی جمع کردہ دولت ہرمہذب معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے۔جو معاشرہ اس دولت کی پردہ پوشی کرے گا وہ اپنے عوام کی سلامتی اور ریاست کے استحکام کو داؤ پر لگانے کی غلطی کا مرتب ہوگا۔پاکستان کا ہاتھوں میں کشکول اٹھائے ملکوں ملکوں قرض کی بھیک مانگنا مجرمانہ ذہنیت کی درپردہ یا کھلی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔پاکستان کے پالیسی ساز سوچیں کہ ان سے کب کون سی غلطی سرزد ہوئی تھی جو آج تک ان کاتعاقب کر رہی ہے۔یاد رہے حادثہ دفعتاً نہیں ہواکرتا، اس کی پرورش وقت برسوں کرتا ہے۔ 25برس بعد ایک حادثہ پیش آیاچکا ہے،اب غلطی کی گنجائش نہیں۔ پھونک پھونک کر اٹھایا جائے، ورنہ تاریخ معاف نہیں کرتی۔خطے میں رونما ہونے والے حالات بھی برسوں پرورش پانے والے حادثات ہیں۔پسِ پردہ ہونے والی سرگوشیوں اور رازوں پر سے پردہ مستقبل کا مؤرخ اٹھائے گا۔لیکن آج کا دانشور بھی اپنی چشم بینا سے بہت کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے۔مگر لب کشائی سے مصلحتاً گریزاں ہے۔سچ سننے کا حوصلہ مفقود ہے۔آئینہ دیکھنے والے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔سیانے مدتوں پہلے کہہ گئے ہیں:”روم میں رہناہے تو وہی کرو جو روم میں رہنے والے کرتے ہیں“۔اکثریت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے،ایسے میں کچھ کہا جائے تو صدا بصحرا ثابت ہوگا۔قبرستان میں اذان دینا دانشمندی نہیں۔اذان سننے والے تو ہوں، قبرستان کو شہرِ خاموشاں کہتے ہیں۔اگر پاکستان کے عوام قوت گویائی سے محروم نہ ہوتے تو ایف اے ٹی کے 37رکن ممالک کو 37 نکات پر عملدرآمد کا تقاضہ نہ کرنا پڑتا۔پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ہوتا۔اس مطالبے کو امریکہ یا بھارت کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔سچ مانا جائے، سچ کو جھٹلانے کی کوشش نہ کی جائے۔واضح رہے جو معاشرے سچائی کا دانستہ انکار کرتے ہیں،تاریخ انہیں معاف نہیں کرتی۔مان لیا جائے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے دہائیوں تک منی لانڈرنگ سے آنکھیں بند نہیں رکھیں بلکہ اس کی باقاعدہ اور باضابطہ سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ورنہ اتنے قدرتی وسائل کی موجودگی میں عوام مفلس اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب نہ ہوتا۔دنیا نے اس دوران اپنی آنکھیں بند نہیں کیں، لیکن زبان بند رکھی کہ انہیں اس وقت اس دونمبر دولت کی ضرورت تھی۔اب وہ اسے وبال سمجھتے ہیں، جان چھڑانا چاہتے ہیں۔پاکستان کو مہلت دے رہے ہیں کہ بلیک لسٹ سے بچنے کے بعد گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے 27ویں اور 37ویں نکتے پر بھی عمل درآمد کر لیا جائے، یہی پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔بعض مبصرین ایف اے ٹی ایف کے مذکورہ رویہ کو متعصبانہ سمجھتے ہیں، بادیئ النظر میں ایسا محسوس بھی ہوتا ہے مگردوررس نتائج پر نگاہ ہو توایف اے ٹی ایف کا تقاضہ درست لگتا ہے۔کشکول سے نجات کی خواہش ہے تو پاکستان کو یہ کڑوا گھونٹ پینا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں