’حکومت، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تعاون نہیں کر رہی‘الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کو آگاہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تعاون نہیں کر رہی۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ای سی پی کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا عمل تعطل کا شکار ہے کیونکہ وفاقی حکومت اور نہ ہی متعلقہ ادارے انتخابات میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے متعلقہ محکموں نے الیکشن کے حوالے سے ہونے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد کی مقامی حکومت کے آرڈیننس کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔
وفاقی حکومت کے قانونی افسر اور درخواست گزار ای سی پی کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جج نے صدارتی آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے 120 ایام کے بعد انتخابات کے جواز کا سوال اٹھایا۔
درخواست گزاروں میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مزدور یونین اور سی ڈی اے افسر یونین اور یونین کونسل کے سابق چیئرمین بھی شامل ہیں
عدالتی ہدایات کی تکمیل کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
سماعت کے دوران سی ڈی اے مزدور یونین کے وکیل کاشف ملک نے نشاندہی کی کہ سی ڈی اے بورڈ کو اس آرڈیننس کے ذریعے دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے جو اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے دلیل دی کہ مختلف شہری تنظیموں کے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد ( ایم سی آئی) میں تبادلے کے لیے فراہم کیے جانے والے آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ’پلاننگ ونگ، چیئرمین سیکریٹریٹ اور اسٹیٹ ونگ کے علاوہ سی ڈی اے کے تمام ونگ کا تبادلہ ایم سی آئی میں کردیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں سی ڈی اے آرڈیننس 1960 کے سیکشن 11 کے تحت ماسٹر پلان تیار کرنے کے لیے سی ڈی اے کے مینڈیٹ کو اسلام آباد کی مقامی حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے‘۔
وکیل کے مطابق سی ڈی اے کو کچھ اختیارات حاصل ہیں جن میں اراضی کا حصول، ترقیاتی کام شروع کرنا اور ریونیو کے فرائض سرانجام دینا شامل ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ سی ڈی اے بورڈ 6 اراکین پر مشتمل ہے جس میں منصوبہ بندی، مالیاتی امور، انتظامی امور، اسٹیٹ، ماحولیات اور انجینئرنگ کے لیے ایک ایک چیئرمین ہے۔
علاوہ ازیں اتھارٹی کے کام کو سی ڈی اے کے قوانین 1985کے پیش نظر مختلف ڈائریکٹوریٹ میں تقسیم کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 3 مارچ 2021 کو نافذ العمل ہونے والے سی ڈی اے آرڈیننس کے بعد سی ڈی اے بورڈ تشکیل دیا گیا اور اس کو مطلع کیا گیا۔


