حکومت کا پیکا آرڈیننس مکمل واپس لینے سے انکار کر دیا

اسلام آباد : حکومت نے پیکا آرڈیننس مکمل واپس لینے سے انکار کر دیا ہے ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیکا عدالتی معاملہ نہیں یہ سیاسی طور پر ہے ،یہ نہیں ہو سکتا کے ایک جج اس بات کا فیصلہ کریں ، مسلم لیگ ق کے تحفظات کو ختم کردئیے ،جو چھوٹے موٹے تحفظات ہیں وہ بھی ختم کردیں گے،حکومت کے تمام اتحادی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل وزیراعظم پر اعتماد کا باقاعدہ اعلان کریں گے، جس سے یہ ساری فضا ختم ہوجائے گی،فوج کا کوئی معاملہ نہیں فوج حکومت کا حصہ ہوتی ہے،اگلا الیکشن آنے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہی اور وفاقی وزیر مونس الہی سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری اور وزیر مملکت فرخ حبیب نے ملاقات کی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الہی اومونس الہی نے پیکا آرڈیننس سے متعلق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سفارشات سے وفاقی وزرائ کو اگاہ کیا تاہم پیکا ارڈیننس کی واپسی سے متعلق ڈیڈ لاک بر قرار ہے ۔حکومت نے پیکا آرڈیننس مکمل واپس لینے سے انکار کردیا ہے ۔ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے فرخ حبیب کے ہمراہ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایک اتحادی اور اتحادی کی سوچ رکھتے ہیں، آگے جاکر جو بڑے فیصلے ہونے ہیں، اس پر دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جو تحفظات تھے وہ بڑی حد تک دور کردیے ہیں اور جو چھوٹے معاملات ہیں، وہ بھی دور ہوجائیں گے اور عدم اعتماد کی تحریک کے لیے اجلاس طلب کرنے سے پہلے تمام اتحادی وزیراعظم پر اعتماد کا باقاعدہ اعلان کریں گے، جس سے یہ ساری فضا ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ 23 مارچ کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں شرکت کے لیے 40 وزرائے خارجہ اور 200 کے قریب وفود سمیت مزید ممالک کے وزرائے خارجہ آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں اس سے قبل ہی سیاسی غیریقینی ختم ہو، مجھے امید ہے کہ اتحادیوں کی طرف سے وزیراعظم پر اعتماد کا باقاعدہ اعلان بہت جلد ہوگا۔پنجاب حکومت کے حوالے سے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ پنجاب میں ایک انار 100 بیمار والا حال ہے، سب کو مطمئن کریں گے اور فیصلے اتفاق رائے ہوں گے۔لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کی ملاقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ علیم خان کے ترجمان نے خبر کی تردید کی اور ہم علیم خان یا جہانگیر ترین کو پی ٹی آئی کا حصہ سمجھتے ہیں اور وہ وہی فیصلے کریں گے جو پی ٹی آئی کرے گی۔ نہوں نے کہا کہ فوج کا کوئ ی معاملہ نہیں ہے، فوج اور حکومت مختلف ہوتے نہیں ہیں اور فوج آئینی طور پر انتظامیہ کا حصہ ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اتحادیوں سے مل رہے ہیں، اس وقت کی سرگرمیاں صرف عدم اعتماد سے نہیں ہیں بلکہ 2023 سے قبل جو بلدیاتی انتخابات ہیں، اس سے متعلق بھی ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنگی جہازوں کے بیڑے میں اضافہ ہوا۔ہندوستان کے، رافیل جہاز کی برتری کو ختم کردیا ۔ انہوں نے کہا چوہدری پرویز الہٰی کی آج اخباری مالکان سے بھی بات چیت ہوئی اور اب ہم سے بات ہوئی، ہم اس کو مربوط طریقے سے آگے بڑھے رہے ہیں۔ انکاکہنا تھا کہ اس حوالے سے اٹارنی جنرل سے بھی بات کر رہا ہوں کہ عدالت کو چاہیے کہ یہ فیصلہ سیاسی فورم میں کرنے دیں، یہ عدالتی معاملہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ حکومت ایک پالیسی بنائے اور ایک جج اس کے اوپر بیٹھ کر یہ کہے کہ ان کی رائے مختلف ہو اور وہ بن جائے، ظاہر ہے پالیسی کے فیصلے حکومت کو ہی کرنے چاہئیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ فیصلے سیاسی طور پر ہونے چاہئیں نہ کہ عدالتی فیصلے ہوں اور قانون بنانا، پارلیمنٹ، مقننہ اور حکومت کا کام ہے اور اس پر عمل درآمد عدالت کا کام ہے، عدالت کو بھی وہی کام کرنا چاہیے، جو اس کے حدود میں ہے۔ اس موقع پر صحافی نے فواد چوہدری سے سوال کیا کہ وزیر اعظم مولانا فضل الرحمن کو برے القاب سے کیوں پکارتے ؟جس پر انہوں نے کہا وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمن کے بارے لائٹر موڈ میں تذکرہ کیا ہے ۔مولانا فضل الرحمن کو برے القاب سے تو خواجہ آصف نے بھی بلایا تھا۔#/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں