قومی اسمبلی کا اجلاس 25مارچ کو طلب

اپوزیشن نے کہا تھا مگر اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلا کر تحریک عدم اعتماد کی کارروائی میں تعطل پیدا کیا اور اجلاس ملتوی کردیا تو ہم دو اراکین قومی اسمبلی ایوان بیٹھے رہیں گے اور دھرنا دیں گے۔ جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم وزرائے خارجہ کا اجلاس نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ بیان دینے والا کم عمر ہے جذبات میں کہہ دیا ہے۔ اجلاس شیڈول کے مطابق ہوگا۔ دوسری جانب نون لیگ کے رہنما احسن اقبال نے صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر کہا ہے کہ جنہوں نے عمران خان کو منتخب کیا ہے وہی نکالیں گے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ او آئی سی اجلاس کے لئے تزئین و آرائش کی وجہ سے اسمبلی ہال دستیاب نہیں ہوسکا، مناسب جگہ بھی نہ مل سکی۔ اسپیکر کو تاخیر سے اجلاس بلانا پڑا۔ اپوزیشن اس تاخیر کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے عدالت میں جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ گویا اپوزیشن کے ترکش میں جتنے تیر ہیں وہ سب آزمانے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں۔ وہ ہر حالت میں وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنا چاہتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن روز اول سے پی ٹی آئی کی حکومت نااہل اور سلیکٹڈ سمجھتی تھی اور شدت سے نفرت کی وجہ سے اسے گھر بھیجنے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی۔ بعد میں گیارہ جماعتوں نے مل کر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) تشکیل دی۔ اور اس پلیٹ فارم سے جلسے، جلوس منعقد کئے اور دھرنا بھی دیا۔ لیکن حکومت نے اپنے اقتدار کے ساڑھے تین سال پورے کرلئے۔ اس مرتبہ حکومت کے مطابق اراکین اسمبلی میں سے بعض نا صرف اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ ان میں ایک بڑا گروپ سندھ ہاؤس (اسلام آباد) میں مقیم تھا۔ انہوں نے میڈیا کے روبرو اعتراف کیا کہ وہ حکومت سے ناراض ہیں۔ حکومت نے ان کے حلقوں میں کام نہیں کیا۔ حکومت کے مشیروں اور وزیروں کی بڑی تعداد کرپشن میں ملوث ہے۔ رشوت لے کر ملازمتیں دی جاتی ہیں، افسران کے تبادلے بغیر رقم وصول کئے نہیں جاتے۔ ترقیاتی کام اپنے پسندیدہ افراد کو دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں اسکیمیں منظور نہیں کی گئیں، حکومت کا کہنا ہے کہ منحرف اراکین نے بھاری رقوم (کروڑوں روپے) میں اپنے ضمیر کا سودا کیا ہے۔ حکومت بھی عدالت سے ان کو نااہل قرار دلوانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکن قومی اسمبلی کے منحرف ہونے والوں کو نااہل قرار دلوانے کی کوشش کرے گی اور کررہی ہے۔ حالات کے تیور سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ نواز سیاست اور امریکہ مخالف سیاست کے درمیان محاذ آرائی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ان کے عوام کی تعداد پی ڈی ایم کے جلسوں کی حاضری کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے تجربات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ مخالف سیاست کو فروغ اور تقویت دی جائے۔ خطے میں یوکرین امریکی مفادات کی جنگ لڑرہا ہے مگر امریکی اور اس کے نیٹو والے یوکرین کی مدد کو نہیں آئے۔ صرف روس پر پابندیاں لگانے کے اعلانات ہوئے مگر بعض یورپی ممالک نے ان پابندیوں کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای ڈالر کی بجائے کرنسی یوآن میں تجارت کو ترجیح دیتے نظر آرہے ہیں۔ خطے کا موڈ ماضی سے مختلف ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں اب کسی کو اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ امریکی کیمپ کا حصہ بنے گا۔ وہ اگر بے دلی سے یا خوش دلی سے امریکی مفادات کو اپنے حق میں پسند کرتی ہے تب بھی اس کے لئے زیادہ دیر تک اس کا پرچار جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جیسے ہی روس کو یوکرین میں کامیابی ملتی ہے اور یوکرین روس کی شرائط پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتا ہے اس کے فوراً بعد چین بھی تائیوان تنازعہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات شروع کردے گا۔ امریکہ تائیوان کے معاملے میں بھی کوئی جارحانہ رویہ اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ جس طرح چین نے لداخ کا قضیہ اپنی مرضی او رمنشاء کے مطابق طے کرلیا ہے اسی طرح کسی دن دنیا کو معلوم ہوگا کہ تائیوان کا مسئلہ حل کرلیا گیا ہے۔ آج لداخ کے معاملے پر عالمی میڈیا نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، بھارت کی مدد کو کوئی نہیں آرہا۔ بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کا حصہ ہے وہ امریکی جنگ میں کھل کر کبھی اتحادی نہیں بنے گا۔ خفیہ انداز میں کام جاری جاری رکھنا بھی دن بدن مشکل ہوتا نظر آتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے بارے میں یہ کہنا اور ماننا سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان اپنی حالیہ حکمت عملی کو ترک کردے گا۔ امریکی سفیر کی قابلیت اور مہارت جو بھی ہو شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم نہیں کراسکا۔ امریکہ کو 20سال بعد کابل سے نکلنا پڑا، اس کی تربیت یافتہ 3لاکھ فوج امریکہ کے قیام کو طول دینے میں ناکام رہی۔ یاد رہے کہ خواب دیکھنا آسان ہے مگر خواب کو حقیقت کاروپ دینا آسان نہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے اثرات ذہنوں پر مرتب ہوتے ہیں اور فکر کے نئے سوتے پھوٹتے ہیں۔ پسماندگی نئی فکر کا راستہ نہیں روک سکتی۔ ترقی کا راستہ روکنا جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں ممکن نہیں، امریکی حکمت عملی کابل سے انخلاء کے بعد تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، زوال پذیر ہے، جدید تقاضوں کو نظر انداز کرنے کا انجام یہی ہونا تھا۔ اپوزیشن کو بھی جدید دور کے تقاضوں میں اپنی فکری اصلاح درکار ہے۔ عصری تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے سے فکری ارتقاء رک جاتی ہے، دنیا آگے نکل جاتی ہے اور سیاسی سفر سست پڑ جاتا ہے۔ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے علیحدگی اختیار نہ کی جائے، پاکستان کے عوام کی عملی اور فکری رہنمائی نہ کی گئی تو عوام اور سیاسی قیادت کی راہیں جدا ہوجائیں گی۔ ماضی میں اس غلطی کے مضر اثرات رونما ہوچکے ہیں۔اس کا اعادہ نہ کیا جائے، اسے دہرانے کی گنجائش نہیں۔ اگر قیادت نے اپنی فکری اصلاح نہ کی اور سابق مناظر دہرائے گئے تو نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔ جمہوریت کی بساط نہ بھی لپٹی گئی تب بھی اپوزیشن کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ بار با رکی غلطیوں سے عوام بدظن ہوسکتے ہیں۔ اراکین کی خریدو فروخت کا سلسلہ روکا جائے، صاف ستھری اور اصولوں پر مبنی سیاست کو پروان چڑھایا جائے۔ بے اصولی کوئی بھی کرے اس کا نتیجہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اپوزیشن کے منصب رکھے، اعلیٰ اقدار سے انحراف نہ کیا جائے، جمہوری اقدار کا مذاق نہ اڑایا جائے، اپنے ہاتھوں خود اپنا پامال نہ کیا جائے، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے۔ عوام کی پسند و ناپسند کا خیال رکھا جائے، عوام پر اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے، عوام کی مرضی کو تسلیم کیا جائے یہی وقت کا تقاضہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں