وزیراعظم کرسی کی قربانی دیدیں
وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے یہ کسی بھی حکومت کو ہٹانے کے لئے آئینی طریقہ کار ہے لیکن عدم اعتماد کی وجہ سے ملک کی سیاسی فضاء بے حد مکدر ہوچکی ہے۔ فریقین ایک دوسرے کو بے حد سست کہہ رہے ہیں اور سلسلہ اخلاقی دائرہ سے باہر نکل چکا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایسی صورتحال کی مثالیں موجود ہیں لیکن وزیراعظم اور ان کی جماعت تحریک انصاف نے اس مسئلہ کو لے کر مخالفین کے خلاف نا صرف سخت زبان استعمال کرنا شروع کردی ہے بلکہ عوام سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کے ان منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کریں جو عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کے حق میں ہیں۔ وزیراعظم نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہ عوام ان اراکین کا سوشل بائیکاٹ کریں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ ووٹ نہ ڈالیں۔ اس سے قبل وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہم 10لاکھ لوگ ڈی چوک پر جمع کریں گے۔ منحرف ارکان کو اس اجتماع سے گزر کر ووٹ دینے جانا ہوگا اور واپسی پر بھی اسی مجمع سے گزرنا ہوگا۔ یہ ایسی دھمکی تھی کہ جس کی ناصرف قانون اجازت نہیں دیتا بلکہ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ایک حکومت خود ہی عوام کو سڑکوں پر لا کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتی ہے، محاذ آرائی اور حالات بگڑنے کے امکانات بدستور موجود ہیں کیونکہ تحریک انصاف نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام کا اعلان کیا ہے جبکہ پی ڈی ایم نے بھی اسلام آباد میں اسی وقت اپنے مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے فریقین کو ڈی چوک پر جلسوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے چنانچہ فریقین کے جلسے الگ الگ ہوں گے لیکن ملک کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد آنے والے راستے ایک ہی ہیں۔ اگر دونوں فریقین کے کارکنوں نے صبر و تحمل سے کام نہ لیا تو ناخوشگوادر صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عوامی طاقت کے مظاہرے ترک کردیں ورنہ حالات کو قابو کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ملک بھر میں عموعی طور پر اور دارالحکومت میں خاص طور پر امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت نے یہ مسئلہ خود خراب کیا تو یہ بہت بڑی غیر ذمہ داری ہوگی۔ اگرچہ عدم اعتماد کی تحریک چلانا ایک جمہوری اور آئینی عمل ہے لیکن پاکستانی دستور کے مطابق دوسری جماعتوں کے اراکین کو غیر اخلاقی طور پر توڑنا یا ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اراکین کو خریدنا قطعی غیر جمہوری عمل ہے اور فریقین کو اس سے گریز کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے الیکٹیبلز کو لاکر حکومت بنانا پاکستان کی پرانی روایت ہے۔ 2002 کے انتخابات میں سرکاری جماعت ق لیگ کو اکثریت حاصل نہ ہوسکی تو اس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے 14 اراکین توڑ کر پیٹریآت نامی گروپ کھڑا کیا اور اسی کے ووٹوں سے حکومت بنائی گئی۔ 2018ء کے انتخابات میں بھی سرکار کی پسندیدہ جماعت تحریک انصاف قطعی اکثریت حاصل نہ کرسکی تو آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے اراکین کو ملا کر حکومت تشکیل دی گئی۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کے منحرف اراکین کو شامل کرنے پر تحریک انصاف اس عمل کو وکٹیں گرانے سے تعبیر کرتی تھی لیکن آج وہی لوگ جب اسے چھوڑ رہے ہیں تو انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگر اس وقت اصول پسندی کا ثبوت دیا جاتا تو آج کی یہ افسوسناک صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ بہرحال فریقین کو چاہئے کہ وہ آئین کے اندر رہ کر عدم اعتماد کے معاملہ کو نمٹائیں۔ خاص طور پر حکمران جماعت کو چاہئے کہ وہ جذباتی اور آئین سے انحراف کے ارادے ترک کردے اگر اس کی اکثریت ختم ہوگئی ہے تو وزیراعظم کشادہ دلی اور جمہوری رویہ کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو قبول کریں۔ غیر آئینی راستہ اختیار کرنے سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوجائے
گا۔ تباہ حال معیشت مزید خراب ہوجائے گی، لوگوں کی حیات دگردوں ہوجائے گی ا ور ان کے معاشی مسائل اور بے روزگاری میں اضافہ ہوجائے گا۔ اگر وزیراعظم اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ پارلیمان میں ان کی اکثریت ختم ہوگئی ہے تو محاذ آرائی کی بجائے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں تاکہ نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوسکے۔ یہی آئینی و جمہوری راستہ ہے۔ کسی قسم کی محاذ آرائی کا خطرناک نتیجہ نکل سکتا ہے۔


