شعبہ بلوچی جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام ‘جستء پرسی’ کے عنوان سے تقریب

کوئٹہ (انتخاب نیوز) شعبہ بلوچی جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام بلوچی زبان کے معروف محقق،ادیب،شاعر سید ہاشمی کی یاد میں شعبہ کے طالبعلموں کے مابین ‘جستء پرسی’ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خاص جامعہ بلوچستان کے پرووائس چانسلر ڈاکٹرعین الدین اعزازی مہمان ڈین فیکلٹی آف لینگوئجز ڈاکٹرنصی اللہ سیماب تھے جبکہ چیئرمین شعبہ بلوچی ڈاکٹررحیم بخش مہر نے تقریب کی صدارت کی۔ تقریب میں شعبہ براہوئی کے چیئرمین ڈاکٹر لیاقت سنی،ڈاکٹرشبیرشاہوانی،شعبہ سوشل ورک کے گہرام بلوچ و دیگر نے شرکت کی۔ تقریب میں شعبہ بلوچی کے طالبعلموں کے مابین سوال و جواب سیشن کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شعبہ کے طالبعلموں کو بلوچی زبان،ادب،تاریخ بلوچستان، جغرافیہ اور ثقافت سے متلعق سوالات پوچھے گئے۔ ہر سوال پر طالبعلموں کو ایک ایک سیٹ کتابیں دی گئیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹرعین الدین اور ڈین فیکلٹی آف لینگوئجز ڈاکٹر سیماب نے کہا کہ شعبہ بلوچی کی جانب سے اسطرح کے پروگرامات کا انعقاد ایک بہترین اقدام اور قابل ستائش عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ میں لینگویجز وہ شعبہ جات ہیں جو کم وسائل کے ساتھ بھی تخلیقی ماحول کو پروان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمیں اپنی زبان،تاریخ اور ثقافت پر فخرکرنا چاہیے۔ اس طرح کے پروگرامات غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ جامعہ میں لینگویجز کے دوسرے شعبوں کے نسبت ترجیح نہیں دی گئی ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ اب ان شعبہ جات کی بہتری کیلئے بھرپور جدوجہد کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کو اب یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں لے کر جائینگے تاکہ دوسرے شعبوں طلباء کو بھی اسطرح کے سنہری مواقع میسر ہوں۔ جامعہ انتظامیہ شعبہ بلوچی کی اس روایت کو نہ صرف سراہتی ہے بلکہ ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین شعبہ بلوچی ڈاکٹر رحیم بخش مہر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ گزشتہ تیس سال سے زبان و ادب کی فروغ میں کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان بھر میں بلوچی زبان و ادب کو صرف چند جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف اداروں میں بلوچی پڑھانے والے اساتذہ اور زبان کی ترویج و ترقی کیلئے جدوجہد کرنے والے بیشتر ادیب و محقق شعبہ بلوچی ہی کی پیداوار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے شعبہ کی ایک روایت ہے کہ امتحانات سے پہلے طلباء کے مابین اسطرح کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں جسکا مقصد شعبہ کے طالبعلوں کی تخلیقی صلاحتیوں کو تراشنا، ان میں کتاب دوستی کے کلچر کو فروغ دینا ہے اور اسکے ساتھ انکی امتحانات کی تیاری بھی ہوجاتی ہے۔ ہمارا مقصد صرف طلباء کو ڈگری یافتہ نہیں بلکہ انہیں تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف کرکے علمی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ یہاں سے فارغ ہوکر زبان و ادب کی خدمت کرسکیں۔ سوال و جواب کی اس تقریب میں طلباء کے مابین مخلتف اکیڈمیز اور پبلشرز کی جانب سے دی گئیں 1200 کتابیں تقسیم کی گئیں۔ کتاب دینے والے اداروں میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ، بلوچی میوزک پروموٹرز سوسائٹی گوادر، دیمروی مجلس مسکت، نصیر کبدانی لبزانکی دیوان خاران، علم وادب پبلی کیشن، میر گل خان نصیر چیئرمین شعبہ بلوچی جامعہ بلوچستان، تیاب پبلی کیشن پسنی، گدار پبلی کیشن پسنی، میراث پبلی کیشنز کیچ، شنکگار کولواہ انسٹی ٹیوٹ آف بلوچی، لینگویج اینڈ کلچر جامعہ تربت، بلوچی لبزانکی مجلس پشکان، سچکان پبلی کیشنز گوادر، اوتاک مکران، عزت اکیڈمی پنجگور، مہر در کوئٹہ، گدار پبلی کیشن پسنی، زند اکیڈمی کوئٹہ، چمگ پبلی کیشن ناصر آباد شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض شعبہ بلوچی کے پروفیسر اے آر داد نے سرانجام دیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں