وزیراعظم کے خلاف غیر ملکی سازش
اسلام آباد کے جلسہ میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکال کر لہرایا اور کہا کہ یہ ایک دھمکی آمیز خط ہے طاقت کے مختلف عناصر جن میں غیر ملکی اور ملکی سہولت کار شامل ہیں انکے اقتدارکے درپے ہیں وزیراعظم نے خط کی کوئی تفصیل نہیں بتائی تاہم منگل کو دو وفاقی وزراء اسد عمر اور فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کیخلاف مبینہ عالمی سازش کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف ہیں۔ وزراء نے کہا کہ وہ دھمکی آمیزخط چیف جسٹس آف پاکستان کو دکھانے کیلئے تیار ہیں۔
ایسے موقع پر جبکہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم پیش ہے وزیراعظم کا اپوزیشن کے بڑے لیڈر پر اتنا بڑا الزام لگانا انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ دھمکی آمیز خط نیشنل سیکورٹی کونسل میں پیش کرتے یا اسے پارلیمان میں لاتے اور بتاتے کے سازش کس نے کی ہے اس کا مقصد انکے اقتدار اور ذات کو نقصان پہنچانا ہے یا اس کا تعلق ملک کی سلامتی سے ہے۔
حکومت مخالف اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے دھمکی آمیز خط کی صورت میں ایک ڈرامہ رچایا ہے اگر کوئی غیر ملکی سازش تھی اور وزیراعظم کو اس کا علم تھا تو وہ عدم اعتماد سے قبل اس کو کیوں منظر عام پر نہیں لائے۔
غیر ملکی سازش کو لیکر ملک میں ہنگامہ خیز سیاسی صورتحال میں مزید ہلچل پیدا ہوگئی ہے اگر خط درست ثابت ہوا تو لازمی طور پر اس سے ن لیگ کی ساکھ اور سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اسی طرح اگر دھمکی آمیز خط سیاسی ڈرامہ نکلا تو اس کے منفی اثرات وزیراعظم اور ان کی حکومت کو لپیٹ میں لے لیں گے جس سے وزیراعظم کا امیج‘ سیاسی ساکھ خاک میں مل جائے گی بلکہ وزیراعظم کے لئے سبکی کا باعث بنے گا۔ چونکہ اس وقت ملک میں ایک بڑی سیاسی جنگ چل رہی ہے اس میں ایک دوسرے پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں جوڑ توڑ جاری ہے مراعات کے بدلے اراکین حتیٰ کہ جماعتوں کو توڑا جارہا ہے اس لئے سمجھا جارہا ہے کہ اس جنگ میں جو کچھ بھی کیا جائے وہ جائز ہے۔(ق) لیگ نے کل رات اچانک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عوض حکومت کی حمایت کا اعلان کردیا حالانکہ ان کے معاملات زرداری اور (ن) لیگ سے طے ہوگئے تھے لیکن چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی زبان کا پاس نہیں رکھا اس طرح چوہدری پرویز الٰہی نے ایک بڑا جو ا کھیلنے کا فیصلہ کیا ان کے لئے مسئلہ یہ ہے انہیں ایک طرف عمران خان کو بچانے کیلئے تگ ودو کرنا پڑے گی جبکہ دوسری طرف اپنی وزارت اعلیٰ کے لئے عددی اکثریت کا بندوبست کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مدد سے پرویز الٰہی وزیراعلیٰ نہیں بن سکتے کیونکہ پی ٹی آئی کو پنجاب میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں اگر مرکز میں فیصلہ عمران خان کے خلاف آگیا تو پرویز الٰہی کی ناکامی یقینی ہے عمران خان نے بہت بڑا رسک لے کر سردار عثمان بزدار کی قربانی تو دی ہے لیکن معلوم نہیں کہ اس قربانی کا انہیں کوئی فائدہ ہوگا کہ نہیں وزیراعلیٰ نے اپنے جلسہ میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ ماضی کی طرح نواز شریف اس دفعہ بھی عدلیہ کو تقسیم کرنے اور خریدنے کی کوشش کررہے ہیں یہ ایسا الزام ہے کہ اس کا ثبوت لانا بہت مشکل ہے وزیراعظم کو چاہئے کہ اپنے خطابات میں سوچ سمجھ کر بات کریں اور بے تکے الزامات لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا۔


