فیصلہ جمعہ کو سنائے جانے کا امکان
آج سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے روبرو اٹارنی جنرل اورپی ٹی آئی کے وکلاء اپنا بیان دیں گے یا تحریری بیان جمع کرائیں گے۔فریقین کے بیانات عدالت میں مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنانے میں تاخیر نہیں کی جا ئے گی۔ سپریم کورٹ بھی سمجھتی ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے نگراں حکومت کی تشکیل رکی ہوئی ہے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد90روز میں نئی اسمبلی کے انتخابات کرانا بھی آئینی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ اس سے بے خبر نہیں۔مبصرین کے لئے بھی آج کل یہی موضوع بحث کا مرکز بنا ہوا ہے،لیکن ان کے پاس اندازوں اورقیاس آرائیوں کے سوا کچھ نہیں۔ عمل اس فیصلے پر کیا جائے گا جو سپریم کورٹ سماعت مکمل ہونے کے بعد سنائے گی۔یہ آسان مقدمہ نہیں۔اسپیکر کی رولنگ ماہرین قانون کے مطابق حتمی ہے، کوئی عدالت اسے معطل یا منسوخ نہیں کر سکتی۔ماضی میں اس حوالے دیئے گئے تمام فیصلوں یہی اصول تسلیم کیا گیا ہے۔لیکن عدلیہ کا کہنا ہے آئین کے آرٹیکل5کو جو معنے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پہنائے ہیں یہ بھی آئینی تاریخ میں پہلی بار دیکھے اور سنے جارہے ہیں۔اس کے نتیجے میں تحریک عدم اعتماد بھک سے اڑ کر ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے۔اس کے جواب میں بھی عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے اپنی رائے پر قائم رہے۔اب جو کچھ کرنا ہے،5رکنی لارجر بینچ نے خود کرنا ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ عدلیہ اس معاملے پر سیر حاصل اور اطمینان بخش فیصلہ سنائے گی۔مسلم لیگ نون کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نیوٹرل نہیں۔پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹویٹ بیان میں کہا ہے اگر بغاوت کرنے میں 30سیکنڈ لگے ہیں تو اسے ختم کرنے میں بھی 30سیکنڈ لگیں گے۔انہوں نے مزید یاد دلایا ہے کہ انصاف میں تاخیرکو قانون انصاف کے انکار کے مترادف سمجھتا ہے۔بلاول بھٹو نے جس قانونی کہاوت کا ذکر کیا ہے وہ طویل عرصے سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ تاخیر کب شروع ہوتی ہے؟ اور انصاف سے انکار کا لمحہ کب سے شمار کیا جاتاہے؟کئی دہائیوں سے ایک سیاسی مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس مقدمے کے مدعی ایئرمارشل (ریٹائرڈ) محمد اصغر خان مرحوم تھے۔اور مقدمے میں مرکزی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ پی پی پی کے خلاف ایک نیا سیاسی اتحاد تشکیل دینے کے لئے اس وقت کی حکومت نے ماورائے قانون فنڈز فراہم کئے تھے، مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے صرف فیصلہ سنانا باقی ہے۔مدعی ایئر مارشل (ر) اصغر خان بتقاضائے الٰہی فوت ہو چکے ہیں اب یہ مقدمہ ان کے ورثاء مدعی مرحوم کی جگہ پیروی کر رہے ہیں۔یاد رہے ماضی میں جتنے سیاسی اتحاد بنے،سب پی پی پی کے خلاف بنے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پی پی پی کسی سویلین حکومت کو گرانے کے لئے اتحاد کا حصہ بنی ہے اور ہر طرف شور مچا ہے کہ یہ امریکی سازش ہے۔ لگتا ہے پی ٹی آئی مزاجاً پی پی پی جیسی پارٹی ہے، ورنہ اسے گرانے کے لئے ایک بڑے اتحاد کی ضرورت نہ ہوتی۔ یہ سوچنا پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کا کام ہے کہ اسے اس اتحاد کا حصہ بننا چاہیئے تھا؟ بلاول بھٹو پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ نہیں جانتے، انہیں شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بھی اتنا علم نہ ہو جتنا کہ ایک بڑی پارٹی کے سربراہ کو ہونا چاہیئے اس لئے کہ وہ بیرون ملک پلے بڑھے اورتعلیم مکمل کرکے وطن لوٹے تو قیادت کا بھاری بوجھ اٹھانا پڑا۔بہرحال عمر کے ساتھ تمام نشیب فراز سے واقف ہو جائیں گے۔ویسے بھی موقت ماضی کے مقابلے میں کچھ زیادہ تیز رفتار ہو گیا ہے۔ہر سوال کا جواب گوگل پر دیکھا جا سکتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 5کا ستعمال بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی میں ہوا ہے،انہیں اس کی روشنی میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔رہ گئے اپوزیشن کے دیگر رہنما تو وہ عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پرانی یادیں حسین نظر آتی ہیں،بیشتر 90کی دہائی میں گم ہیں، اس سے باہر نکلنے کو تیارنہیں۔ جبکہ دنیا اس دوران نئے دائروں میں داخل ہو چکی ہے۔پی ٹی آئی نے اپنے مشیروں کے دیئے ہوئے آئین کے آرٹیکل5کے نئے معنے درست مانے ہیں یا اس سے اس ضمن میں کوئی چوک ہو گئی ہے اس کا اندازہ سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کا فیصلہ آنے کے بعد ہوگا۔ابھی تک سوائے مسلم لیگ نون کے رہنماجاوید ہاشمی کے کسی اور نے 5رکنی لارجر بینچ کے نیوٹرل نہ ہونے کی بات نہیں کی۔واضح رہے کہ سماعت کے ابتدائی لمحات میں سپریم کورٹ کے معزز ججز نے وکلاء کی جانب سے فل بینچ کی تشکیل کے جواب میں خود ہی یہ سوال پوچھا تھا کہ”اگر ہم پر اعتماد نہیں تو ہم اٹھ کر چلے جاتے ہیں!“، مگر اس کے جواب میں وکلاء نے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔اب اس قسم کی رائے دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، سماعت اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب جو فیصلہ آئے، اسے ماننا ہوگا۔ ویسے بھی اپوزیشن لانگ مارچ کے دوران اور بعد میں بھی یہی کہتی رہی ہے کہ استعفیٰ دو یا تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرو۔استعفیٰ دینے کی صورت میں بھی لازمی تو نہیں تھا کہ حکومت اپوزیشن کو مل جاتی۔ یہ معاملے اتنے سادہ نہیں کہ آسانی سے سمجھ میں آسکیں۔کئی پیچ و خم سلجھانے پڑتے ہیں۔بہر حال اپوزیشن کوعدالتی فیصلے پر سیر حاصل غور کرنے کے بعد کوئی حکمت عملی طے کرنی چاہیئے۔انتخابات کا آپشن موجود ہے، اس سے منہ نہ موڑا جائے۔دوسرے تمام راستے انارکی کی طرف جاتے ہیں، جس کے دوسرے سرے پر جمہوریت کی 10/11برسوں تک کی رخصتی کا بورڈ لٹکا ہوا ہے۔اور ایک سے زائد بار سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اس سے خبردار کر چکے ہیں۔علاوہ ازیں چین، روس، ایران، اور ترکی کی حکومتوں کا ردعمل سامنے آچکا ہے۔ جذباتی فیصلے نہ کئے جائیں، سوچ سمجھ کر حکمت عملی طے کی جائے۔انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں جیت کے امکانات موجود ہیں، جبکہ انارکی کے نتیجے میں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔دانشمندی سے کام لیا جائے، چھوٹی مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لئے بڑی مصیبت کو گلے نہ لگایا جائے۔عدالت سے رجوع کرنا درست فیصلہ تھا، اسی راہ پر آگے بڑھا جائے،مثبت نتائج کی امید رکھی جائے۔ عدالتی فیصلہ گزشتہ روز کے ریمارکس اور وکلاء سے کئے گئے سوالات سے مترشح ہے کہ عدالت آگے کی جانب بڑھنا پسند کرے گی۔بہرحال فیصلہ کسی ایک فریق کے لئے درست اور دوسرے کے لئے ناراضگی کا باعث ہوگا۔لیکن دونوں فریق اسے خوشدلی سے قبول کریں، تاکہ جمہوریت کا سلسلہ آگے بڑھ سکے۔تصادم کی راہ سے بچا جائے،اس میں سراسر نقصان ہوگا،اور دونوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔


