عمران خان رخصت ہوگئے
8مارچ سے ملک میں جو غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی تھی، گزشتہ رات گئے دور ہو گئی۔عمران خان وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی نہیں ہوئے، انہوں نے اپنے ناراض اتحادیوں اور اراکین کو راضی کرنے میں ناکام رہے اور174ووٹوں سے قراردادِ عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔میڈیااطلاعات کے مطابق وزارت عظمیٰ کے آخری لمحات میں امریکہ سے بھیجا گیازیرِ بحث متنازعہ مراسلہ عدلیہ کے روبرو پیش کردیا گیا تھا اور 12اپریل کو اس کی سماعت ہو گی۔ مگرعوام کی عدالت کا فیصلہ کم از کم 7ماہ تک نہیں آ سکے گا۔اس لئے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ کو بتا دیا تھا:”90روزہ آئینی پابندی سے پہلے چار ماہ حلقوں کی حد بندی کے لئے درکار ہوں گے“۔عدالت نے یہ جواب یا وضاحت سن کر مزید کچھ نہیں کہا اس لئے یہی سمجھا جانا چاہیئے کہ الیکشن سات ماہ سے پہلے نہیں ہوں گے۔اگر نئی حکومت چاہے تویہ مدت ڈیڑھ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔فیصلے میں اس بارے کچھ نہیں کہا گیا تھا، صرف عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دیا گیا تھا، جورات گئے عدالتیں کھل جانے کے بعد عدالتی فیصلے کی ممکنہ خلاف ورزی سے بچنے کے لئے مقررہ مدت (رات 11:58اور12:02بجے)میں ہی کرا دی گئی۔سابق اپوزیشن لیڈرنے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے، وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے اور سابق وزیر اعظم عمران کو آئندہ قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا ہے۔یاد رہے 2018 سے پہلے عمران خان نے وفاقی سطح پر اقتدار نہیں سنبھالا تھا،صرف صوبائی سطح پر کام کرنے کا موقع ملا تھا،ملکی سطح پر ان کی کارکردگی سامنے نہیں آئی تھی۔اب انہوں نے تین سال سات مہینے اور بائیس روز کام کیا۔یہ درست ہے کہ عمران خان کی حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکی، لیکن ابھی عالمی سطح پر پیٹرول اور اشیائے خوردنی کے دام بلندی کی جانب جارہے ہیں، اس لئے اپوزیشن کے پاس بھی اس کا بوجھ عوام کے کندھوں پر منتقل کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔مان لیا کہ آئی ایم ایف کا رویہ نرم ہوگا، پاکستان کی بعض غلطیاں معاف ہوجائیں گی،مگر کیا نئی حکومت روس اور چین سے یکدم قطع تعلق کرسکے گی؟یا ایساکرنے کے بارے میں سوچ سکے گی؟ اس کا جواب اپوزیشن کو دینا ہوگا۔آج کا امریکہ ساڑھے تین، پونے چار سال پہلے والا امریکہ نہیں ہے، ایک سال قبل کابل سے انخلاء کے بعد والا امریکہ ہے۔ایک لمحے کے لئے مان لیا جائے کہ مراسلے میں درج مکالمے کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد امریکہ پاکستان کے لئے معاشی مشکلات میں کمی لانے کا اشارہ پورا کرے گا لیکن کیا وہ اپنی Do moreوالی پرانی عادت سے باز رہ سکے گا؟ اس بارے کوئی ضمانت اپوزیشن نے نہیں لی ہوگی۔اور Do moreکا سلسلہ کتنا دراز ہوگا؟ اس کا علم آنے والے دنوں میں ہوگا۔عدم اعتماد کی تحریک والے معاملے کو آخری لمحات میں جس طرح سمیٹا گیاہے اس کے پسِ پردہ عوامل بھی مبصرین تاحال نہیں سمجھ سکے۔بیشتر مبصرین حیران ہیں کہ آخری لمحات میں یہ سب کچھ اتنے آرام سے کیسے ہو گیا؟ یاد رہے آج کے تیز رفتار دور میں کوئی راز دیر تک راز نہیں رہتا۔ماضی میں صرف دیواروں کے کان ہوتے تھے، آج گوگل دن رات رازوں کا کھوج لگانے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے میں مصروف ہے،اس کے راستے میں کوئی دیوار حائل نہیں۔اپوزیشن حکومت سازی میں کامیاب ہو گئی ہے،مگر اس کے کندھوں پر عوامی مسائل کاایک بوجھ بھی آگیا ہے۔حکومت سازی کے بعد اس کے فرائض کلیتاً تبدیل ہو گئے ہیں۔عمران خان قائد حزبِ اختلاف ہیں۔اب وہ تنقید کریں گے اور وزیر اعظم شہباز شریف جواب دیں گے۔انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ کسی سے انتقام نہیں لیں گے البتہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔پاکستان کے عوام کو دیرینہ شکایت ہے کہ ”قانون“ سب کے لئے ایک جیسا نہیں۔کمزور کے لئے ایک قانون ہے اور طاقت ور کے لئے دوسرا ہے۔یہ حقیقت فراموش نہ کی جائے کہ دنیا کے 138ممالک میں پاکستان کا عدالتی معیار130نمبر پر ہے۔مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔کیا عدلیہ عالمی جائزے کو بہتر بنانا چاہے گی؟ فی الحال کچھ کہنا آسان نہیں۔ابھی اس حوالے سے عوام کوکچھ عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔ عمران خان قومی اسمبلی کے 174اراکین کا اعتماد کھو چکے،اب مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے اپنے 174 اراکین کو ”راضی“ رکھنا ہے تاکہ انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے محروم نہ ہونا پڑے۔ان میں ”7فیصلہ کن“ ووٹ کی دعویدار ایم کیو ایم ہے اور چار ووٹ کا احسان بی اے پی کے رہنماخالد مگسی کر رہے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف نے قاف لیگ کے بعض رہنماؤں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ابھی آگ کے بہت دریا ہیں جو نئی حکومت کو ایک ایک کرکے عبور کرنا ہیں۔معروف بلوچ سیاستدان غوث بخش بزنجونے نیشنل عوامی پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہونے کے موقع پر تاریخی تبصرہ کیا تھا:”میں نے اپنی جھولی کے تمام ہیرے جواہرات ولی خان کی گود میں ڈال دیئے ہیں، ولی خان ان کا خیال رکھیں، بہت نازک ہیں،جلد ٹوٹ جاتے ہیں“۔


