پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی‘ مارپیٹ

پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز جو کچھ ہوا اس کی مذمت کے لئے مناسب الفاظ کا چناؤ مشکل ہو رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسمبلی کے ”معزز“ فلور پر جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ دیکھ کر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ صوبہ پنجا ب ابھی پتھر کے زمانے میں زندہ ہے، اس سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا۔گیلری میں بیٹھے مہمان بھی اس ”جنگ“ میں شریک ہوگئے۔خواتین اراکین نے بھی بھرپورحصہ لیا۔صورت حال پر قابو پانے کے لئے پولیس کمانڈوز اور فسادات کی روک تھام کے لئے متعین فورس کو ایوان میں پہنچ کرباہم گتھم گتھا اراکین پنجاب اسمبلی کو علیحدہ کرنا پڑا، آئی جی پنجاب موقع پر پہنچے۔وزارت اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی (جو اسمبلی کے اسپیکر بھی ہیں)اورڈپٹی اسپیکردوست محمد مزاری بھی زدو کوب کئے گئے،چوہدری پرویز الٰہی شدید زخمی ہوئے۔پنجاب اسمبلی افسوسناک مناظر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مبصر نے بجا طور پر درست کہا کہ ایوان میں جوکچھ ہوا اسے مچھلی بازار کہنا درست نہیں، اسے مگرمچھ بازار کہا جائے۔ جہاں مارپیٹ کا یہ عالم ہو وہاں ایک دوسرے کے لئے کتنی غلیظ زبان استعمال کی گئی ہوگی دیکھنے والے خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ دوسرے مبصر کے لئے ایسے مناظر اس لئے زیادہ تکلیف دہ تھے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجا ب اور نائب وزیر اعظم پاکستان رہ چکے ہیں، اچھی شخصیت کے مالک ہیں،معاملہ فہم ہیں اور ان سے ایوان کو یہاں تک جانے دینے کی توقع نہیں تھی۔صورت حال کشیدہ تھی۔مسلم لیگ نون کے رہنماعطا تارڑ نے میڈیا کے روبرو کہا یہ سب کچھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے، ہنگامہ آرائی کے لئے گجرات سے غنڈے لائے گئے تھے۔بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی ایوان میں قتل و غارت گری چاہتے تھے، نون لیگ نے پوری کوشش کی کہ کسی کی جان نہ جائے۔ لیکن لوگوں کو ایک روز قبل(میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں ایک بزرگ کے ساتھ بدسلوکی کے بعد) ان کی جانب سے دی گئی دھمکی بھی یاد ہوگی جس میں انہوں نے پرجوش انداز میں کہا تھا: ”آئندہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم (لوٹا کہنے پر)خاموش رہیں گے،اس سے بھی زیادہ سخت جواب ملے گا“۔مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ قانون ساز ادارے کے اراکین سے اس قسم کے رویہ کی عام آدمی کو ہر گز توقع نہیں تھی۔جو لوگ اپنی اخلاقی اصلاح نہیں کر سکتے،رمضان کے مقدس اور بابرکت مہینے میں قومی اسمبلی کے فلور پر اتنی ہلڑ بازی اور ہنگامہ آرائی کر سکتے ہیں جسے دیکھ کر غنڈے بھی شرما جائیں،ان سے کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائیں گے۔یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی ہے۔ واضح رہے کہ ہنگامہ آرائی ایسے وقت کی گئی جب وفاق میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور ہو چکی ہے اور وہ اب اپنے عہدے پر نہیں رہے۔ان کی جگہ مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان کے وزیر اعظم بن چکے ہیں، اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے کے امیدوارتھے، ہنگامہ آرائی کے بعد بلائے گئے اسمبلی کے اجلاس میں وہ منخب ہوگئے اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔پنجاب کے ایم پی ایز جن کی تعداد 200سے زائد بتائی جاتی ہے کئی روز سے لاہور کے ایک مہنگے ہوٹل میں مقیم تھے، اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے حمزہ شہباز کی قیادت میں ایک ساتھ یہاں پہنچے تھے۔ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا، کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے اسمبلی کی عمارت کے گرد پولیس اوررینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے ووٹوں کے بغیر حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں بن سکتے۔پی ٹی آئی انہیں ”لوٹا“ کہتی ہے اور منحرف ارکان کے گھروں پر لوٹے لے کر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ہیں۔یوں سمجھیں کہ لوٹا کہنا ایک ناقابل برداشت سیاسی گالی بن چکا ہے۔لیکن اس کے نتیجے میں اس قدر بڑے پیمانے پر ہنگامہ کیا جا سکتا ہے،اس کی توقع نہیں تھی۔مہذب معاشروں میں ایسی بدتہذیبی زمانہ جاہلیت کی روایات عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہیں۔پاکستان،بالخصوص پنجاب کے جاگیردارانہ پس منظر میں یہ روایات کچھ عرصہ دیکھنے کو ملیں گی، یکدم معدوم ہونا ممکن نہیں۔تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا چکہ پاکستان میں مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس نے سیاست سے اپنی لاتعلقی ختم کرکے میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ درمیانہ طبقہ اقتدار میں معقول حصہ لینے میں کامیاب ہو جائے گا۔اس کے نتیجے میں معاشرے کا عمومی رویہ بھی بتدریج تبدیل ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جاگیر دارانہ سوچ کی پروردہ غنڈہ گردی پسپا ہوگی۔واضح رہے طبقاتی کشمکش کہر دور میں مختلف شکلوں میں جاری رہتی ہے۔طبقاتی مفادات پر بالادست طبقوں کی گرفت سے نکلنے کی تازہ مثال بھارت کے کسانوں کی بہادرانہ جدوجہد ہے جس کے سامنے مودی سرکار کو بھی ہار ماننی پڑی۔مذہبی منافرت کی ڈھال بھی کام نہیں آئی۔حمزہ شہباز کا ایسے وقت میں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننا جب چند روز قبل ان کے والد شہباز شریف نے وزیر اعظم پاکستان کا حلف اٹھایا ہو، خاندان کے محدود دائرے میں دیکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو سکتی ہے مگر وسیع تناظر میں دیکھنے والے اسے دوسرے معنے دے رہے ہیں، جو فی الحال شریف فیملی کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور خوشیاں سمیٹتے ہوئے وہ ادھر دیکھنا چاہیں تب بھی بشری کمزوریوں کے باعث نہیں دیکھ سکتے۔جلد ہی شریف فیملی کو محسوس ہونے لگے گا کہ سیاسی قوت کا ایک ہی خاندان میں سمٹ آنا کس قدر نازک معاملہ ہوتا ہے، ان کے مخالفین اس تاریخی اتفاق کو جمہوریت دشمن رویہ کہہ کر عوام کی ہمدردی سمیٹ سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیئے کہ پنجاب میں برادری کا ڈھانچہ ابھی کمزور نہیں ہوا، برادری سیاست پر ایک سے زائد حوالوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ روا رکھی گئی بدسلوکی کے اثرات مستقبل قریب کی سیاست میں یقینا نمودار ہوں گے۔یہ بھی یاد رہے کہ سیاست معروضی حالات کے زیر اثر ہونے کے سبب آج سڑکوں پر آ چکی ہے۔اسے کسی جادوئی سیٹی کے ذریعے گھروں میں قید کرنا آسان نہیں ہوگا۔خطے میں جاری عالمی کشمکش بھی ایک مؤثر فیکٹر ہے۔شریف فیملی کو حکومت سازی کے دوران علم ہوگیا ہوگا کہ موجودہ حالات ماضی کے مقابلے میں کتنے مختلف ہیں؟ بالخصوص حالیہ ساڑھے تین برسوں میں کتنی نئی پیچیدگیوں نے سر اٹھا لیا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں