وزیر اعظم لاپتہ افراد بازیاب نہیں کر سکتے تو بتادیں، ایم کیو ایم
حیدرآباد(بیورو رپورٹ)متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم لاپتا افراد بازیاب نہیں کراسکتا تو بتادے، پوری قوم کو پتا چلے، ہم خدمت میں سیاست نہیں، سیاست میں خدمت کررہے ہیں، آج آپ کا راستہ روکنے والے خود راستے سے بھٹک چکے ہیں۔جمعرات کو حیدرآباد میں تقریب سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم خدمت میں سیاست نہیں، سیاست میں خدمت کررہے ہیں، آج آپ کا راستہ روکنے والے خود راستے سے بھٹک چکے ہیں۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ہمارے درمیان مطالبات کی ایک پیش رفت ہے، ہم کچھ شرائط کے ساتھ وفاق میں بیٹھے ہیں، اگر کوئی وزیراعظم لاپتا افراد بازیاب نہیں کراسکتا تو بتادے،پوری قوم کو پتا چلے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم دفاتر صرف اس لیے مانگ رہے ہیں کہ ہمارا حق ہے، ایم کیو ایم کو انتخابات کے لیے کسی تیاری کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کو انتخابات کےلئے کسی تیاری کی ضرورت نہیں ، ہم کسی طاقت یا میڈیا کی پیداوار نہیں، ہمارا مقابلہ انتخابات میں سیاسی جماعت سے نہیں پالیسی سے ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کابینہ کے بیٹھنے سے جمہوریت کو تقویت ملے گی تو ہم کچھ شرائط کے ساتھ وفاق میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج کل گورنر کا عہدہ ایک لاچار قسم کا عہدہ بنادیا گیا ہے ، آئینی عہدے کے ساتھ اس کے پاس انسانی حقوق کے حوالے سے اختیارات بھی ہونے چاہئیں، ہم ایک روایت شکن تنظیم ہیں لیکن اچھی روایتوں کے پاسبان بھی ہیں۔ ہماری روایت 40سال سے زیادہ پرانی ہے ، انہوں نے کہاکہ حق کی یہ جدوجہد اپنے لئے نہیں ان تمام لوگوں کےلئے ہے جن کا حق اس ملک میں چھینا جارہا تھا اور وہ جوبانیان پاکستان جن کا حق سب سے زیادہ تھا ، ایک سیاسی جدوجہد کے ساتھ خدمت، انسانی حقوق کی پاسداری اورپاکستان میں شرافت اور خدمت کی بنیاد پر اس تحریک کو آگے بڑھانے کا جتنا بوجھ ہم نے لیا ہے پاکستان میں کسی سے نہیں لیا۔ آج بھی پاکستان کے ایوانوں میں جاکر دیکھیں نوجوان بیٹھے نظر آئیں گے لیکن آپ کو ان کے باپ کا نام ، نانا کا نام، دادا کا نام پتہ ہوگا، انہوں نے کہاکہ 70 سال کے بعد ان ایوانوں میں ایم کیوایم کا جو حصہ ہے یہاں پر نیا نوجوان آتا ہے تو اس کے محلے والے بھی پوچھتے ہیں یہ کون ہے ، ہم نظریہ اور بیانیے پر سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھاتے رہے ہیں اور یہ ہی طرز سیاست ہے جس کی وجہ سے ہم نے جیلیں بھی کاٹیں، عقوبت خانے بھی سہے ہیں اور سڑکوں پر ماوارئے عدالت قتل بھی دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ جن کے ہاتھوں سے اس ملک میں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ باٹنا تھا جو معیار ہے اس ملک میں حب الوطنی کاان کو اس س ملک کو اپنے مقصد جن جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کا ہمیں پہلے دن سے ادراک تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری خدمت کی تاریخ سیاسی تاریخ سے زیادہ پرانی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور ہمارے درمیان مطالبات کی ایک پیش رفت ہے، ہمارے کارکنان ان مطالبات کو لے کر سڑکوں پر نکلے تھے۔ ہم وزیراعلیٰ ہا¶س پر قبضہ کرنے نہیں گئے تھے اپنے مطالبات منوانے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ ہم نے اپنی تمام کوششیں پاکستان کی ترقی کےلئے استعمال کیں ، ہماری اقتدار ، وزارتوں اور گورنر شپ کی طرف نظر نہیں بلکہ مسائل کا حل ہماری ترجیحات ہیں، ہم الیکشن میں پہلے اپنی کھوئی ہوئی سیٹیں واپس لیں گے پھر بات کریں گے کہ کتنا شیئر ہمارا بنتا ہے۔ خدمت خلق ایم کیوایم کی سیاست کا آغاز تھی ۔


