لاک ڈاؤن موثر بنانے کی ضرورت

دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہونے والوں کی تعداد34لاکھ ایک ہزار تین سو اٹھارہ ہوگئی ہے جبکہ دو لاکھ 39لاکھ ہزار614افراد کی موت واقع ہوچکی ہے امریکہ میں صدر ٹرمپ کے دھواں دھار بیانات تو ہیں لیکن حکومت کو رونا پر قابو پانے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے صرف امریکہ میں اس وباء سے متاثرہونے والوں کی تعداد 11لاکھ31ہزار452تک پہنچ گئی ہے جبکہ 65ہزار 776امریکی شہری اب تک کورونا کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی پاکستان میں بھی صورتحال تیزی سے بگڑی جارہی ہے 24گھنٹوں میں 47افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے جس کے بعد ملک میں کورونا سے ہلاک ہونیوالوں کی تعداد408ہوگئی ہے جبکہ1226نئے کیسز سامنے آئے ہیں جن کے بعد کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد17700ہوگئی ہے پاکستان میں مشتبہ مریضوں کو ٹیسٹ کرنا شروع کیا گیا ہے لیکن یہ عمل انتہائی سست ہے لہذا مرض کے حقیقی متاثرین کی تعداد کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے ہمارے ملک میں صحت کے شعبے پر روایتی طور پر کم توجہ دی جاتی ہے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے کھانسی،نزلے کے لئے بھی بیرون ملک جاتے ہیں لہذا مقامی ہسپتالوں میں صرف غریبوں کی کھال اتارنے کا کام کیا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ دنیا پر کورونا وباء کے باعث آمدورفت معطل ہے اور اب بڑے لوگوں کے لئے بھی باہر جانا ممکن نہیں لیکن یہ لوگ بہترین سہولتوں سے بنگلوں میں آرام فرما رہے ہیں اور اگر ریکارڈ کیسز آبھی جائیں اور بڑے ہسپتالوں میں انہیں تحفظ بھی حاصل ہے اور علاج بھی۔جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو ہمارے یہاں عوام آدمی کی صحت کے بارے میں سوچنے کا کلچر ہی موجودہ نہیں ہے پاکستان کے مختلف علاقوں میں حکومت نے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے جزوی لاک ڈاؤن ایک طرف پوری طرح موثر نہیں دوسری جانب نرمی کی وجہ سے مرض کے پھیلاؤ روکنا ممکن نہیں ہورہا حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت عام لوگوں کی روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کی ضمانت دے اداروں سے برطرفیوں پر پابندی عائد کی جائے اور اس کے بعد موثر اور مکمل لاک ڈاؤن پر عمل کیا جائے۔
Load/Hide Comments


