کراچی یونیورسٹی دھماکہ، طلبا کی گمشدگیاں خطرناک ہیں، بی ایس او

کراچی یونیورسٹی واقعہ کے بعد نمل یونیورسٹی کے طالب علم بیبگر امداد، روس سے فارغ التحصیل طالب علم سعید عمر و کراچی یونیورسٹی کے ایم فل اسکالر و استاد نجیب رشید کی جبری گمشدگیاں اس میں نئے اور خطرناک اضافہ ہیں۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں طلباء، سیاسی و سماجی کارکنوں سمیت عام عوام کی جبری گمشدگیوں کے واقعات نے ہزاروں خاندانوں کو کوفت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کراچی یونیورسٹی واقعہ کے بعد نمل یونیورسٹی کے طالب علم بیبگر امداد، روس سے فارغ التحصیل طالب علم سعید عمر و کراچی یونیورسٹی کے ایم فل اسکالر و استاد نجیب رشید کی جبری گمشدگیاں اس میں نئے اور خطرناک اضافہ ہیں۔دو ماہ قبل تنظیم کے مرکزی سیکریٹری جنرل عظیم بلوچ و جونئیر جوائنٹ سیکریٹری عاطف بلوچ کے بھائیوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ عظیم بلوچ کے بھائی کچھ دنوں بعد بازیاب ہوئے تھے لیکن عاطف بلوچ کے بھائی برکت بلوچ کے حوالے سے تاحال کوئی معلومات نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ قرار دے کر اس کا سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے ردعمل میں سیاسی کارکنوں و ان کے اپنے رشتہ داروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی بھی مسئلے کا حل گفت و شنید سے ممکن ہے لیکن بلوچستان میں سیاسی قیادت کی تعاون کے باوجود متواتر طاقت کا استعمال سمجھ سے بالاتر ہے۔ پچھلے بیس سالہ شورش و عسکری کارروائیوں کے باوجود بلوچ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے بدستور طاقت کا استعمال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مقتدرہ قوتیں گفت و شنید کو خاطر میں لائے بغیر بلوچ عوام کو طاقت کے ذریعے کچھلنے کے درپے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں استاد رفیق قیصرانی کی معطلی و طلباء کو یونیورسٹی سے نکالے جانے کا واقع واضح تعلیم دشمنی و ترقی پسند گفتگو کے عمل کو مٹانے کا ایک اور اضافہ ہے جہاں طلباء کو صرف اس لیے یونیورسٹی سے نکالا گیا ہے کہ وہ تعلیمی اہمیت و دیگر اہم معاملات پر بات کرتے تھے۔ترجمان نے آخر میں کہا کہ بی ایس او کے مرکزی جونیئر جوائنٹ سیکریٹری کے بھائی برکت بلوچ و کراچی یونیورسٹی کے ایم فل اسکالر نجیب رشید، نمل یونیورسٹی کے طالب علم بیبگر امداد سمیت سعید عمر سمیت طلباء و سیاسی کارکنوں کی فی الفور بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پر امن طلباء کو اس طرح غائب کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے بلکہ اس معاملات مزید ابدتر ہوجائیں گے جو کسی کے قابو میں نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں