آزادی صحافت ترقی یافتہ اور صحت مند معاشرے کی پہچان ہے، پی ایف یو جے
کوئٹہ، اسلام آباد (انتخاب نیوز) آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے ملک میں آزادی صحافت اور اظہار رائے کو یقینی بنانے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے پی ایف یو جے نے موجودہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ پر توجہ دے کیونکہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کے آئینی حقوق کے بغیر کوئی بھی حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔پیر کو جاری ایک مشترکہ بیان میں پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے آزادی صحافت، آزادی اظہار اور اظہار رائے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت کسی بھی ترقی یافتہ اور صحت مند معاشرے کی پہچان ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ عمران کی قیادت میں حکومت نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کی شکل میں سخت قوانین متعارف کرائے اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پی ای سی اے) میں ترمیم کی جس سے "میڈیا پر مارشل لاء ” لگایا جا سکتا تھا اس طرح کے قوانین آزادی صحافت اور اظہار رائے کو ختم کرنے اور میڈیا کو دبانے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن پی ایف یو جے اور سول سوسائٹی کی مسلسل کاوشوں نے حکومت کو اس ترمیم کو واپس لینے پر مجبور کیا۔پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے کہا، کم از کم نو واقعات میں صحافیوں کو ڈرایا گیا یا مکمل طور پر خاموش کر دیا گیا، چاہے وہ حملہ، جبری گمشدگی، قتل یا کھلے عام سینسر شپ کی صورت میں ہوں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں میڈیا،صحافیوں اور میڈیا وکرز کے خلاف آمرانہ ہتھکنڈوں کے استعمال کے باعث پاکستان عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بھی تنزلی کا شکار رہا ہے پی ٹی آئی حکومت کادور میڈیا کے لیے خوفناک رہا پچھلی حکومت نے صحافیوں کے خلاف جعلی اور من گھڑت مقدمات درج کیے، میڈیا سے منسلک افراد کو اغوا کرنے اور قتل کرنے کی کوششیں کیں میڈیا کو ایڈوائس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ سنسر شپ بھی نافذ کی گئی اور جو لوگ حکومت کے دباؤ میں نہیں آئے انہیں مالی نقصانات پہنچائے گئے، میڈیا ہاؤسز کو نقصان دیا گیا اور میڈیا کی صنعت کو یکساں طور پر مالی دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا گیا انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے میڈیا پرسنز کو ہراساں کیا گیا حتیٰ کہ کابینہ ارکان کی جانب سے خواتین صحافیوں اور اینکرز کو بھی ہراساں اور ٹرول کیا جو کسی مہذب معاشرے میں نہیں کیا جاتا۔پی ایف یو جے کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت کو فوری طور پر آزادی صحافت کے لیے ایک ایسا ماحول بنانا چاہیے جو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت شروع کر کے ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے ملک میں آزادی صحافت کا تحفظ ہو سکے۔


