گوادر سیاں حو اور سر مایہ کاروں کیلئے پر کشش،سیکورٹی کا مسئلہ نہیں ،مقررین
گوادر ( بیورو رپورٹ )گوادر چائینہ بزنس سینٹر آڈیٹوریم میں پاکستان انرجی کانفرنس 2022 میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد۔ ماس ہیومین ریسورسز سروس کے زیر اہتمام بزنس سینٹر گوادر میں ایک بڑے پمانے پر سیمینار ہواجس کو مریم صبا چوہدری نے آرگنائز کرائی۔جس میں پاک نیوی کے رئیر ایڈمرل کمانڈر جواد احمد،ڈپٹی کمشنر گوادر (ر) کیپٹن جمیل احمد رند۔ چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے چیئرمین ژونگ باﺅ زنگ، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی مجیب الرحمان قمبرانی، ماس ہیومین ریسورس سروس کے چیرپرسن مریم صباچوہدری۔ چیئر مین نیپرا توصیف ایچ فاروقی، انجمن تاجران گوادر کے نائب صدر حمید عبدالرشید۔ زیڈ بی انٹر پرائز کے ایم ڈی میر عثمان کلمتی۔ کاروباری شخصیت تنویر احمد سہگل و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی بڑی اہمیت ہے۔ انوسٹر اور سیاحوں امد سے گوادر مزید ترقی کرے گی۔ گوادر سیاحوں اور انوسٹر وں کے لئے بڑی پر کشش جگہ ہے۔ ایسے سیمینارو کے انعقاد سے انوسٹروں اور سیاحوں کو بہت سے معلومات میسر ہونگے۔ گوادر کی ترقی و تعمیر سے پاکستان ترقی کرے گا۔ اورماڑہ سےلیکرجیوانی تک سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ چائینا حکومت اور پاکستان گوادر کی ترقی و گوادر کے عوام کی خوشحالی چاہتے ہیں۔ چاہئنی گوادر کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ گوادر کی ترقی کے لئے بجلی کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے بغیر یہاں انڈسٹری کے لئے مشکلات درپیش ہیں۔ حکومت پاکستان اور چین کی کوششوں سے 300 میگاواٹ بجلی کا منصوبہ زیر التواءہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی لوکل کمیونٹی سے۔ چائینیوں کے برادرانہ تعلقات ہیں گوادر کا مستقبل شاندار ہے۔ یہاں آئل ریفائنری بنے گی کئی کمپنیاں اس منصوبے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔مقررین نے کہاکہ کسی علاقے کی ترقی کے لئے پانی و بجلی کی بڑی اہمیت ہے۔گوادر میں بجلی ایران سے آ رہی ہے جو بہت ہی کم مقدار میں ہے گوادر کو جلد نیشنل گرڈ سے منسلک کرنا ہوگا۔ پہلے کہا جا رہا تھا کہ ایران کے سرحدی علاقہ 250سے 100 میگاواٹ بجلی انے کا امکان تھا لیکن یہ ابھی التوا کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی گیس اور پانی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ پچھلے سال بارشیں نہ ہونے سے روزانہ گوادر میں اربوں روپے خرچ ہوئے اب ہمارے پاس سوڈ ڈیم شادی کور ڈیم اور انکاڑہ ڈیم میں وافر مقدار میں پانی ہے۔ گوادر کی پرانی ابادی میں سیوریج اور ڈرینج سسٹم نئی سڑکیں تعمیر کرنے اور یڈیز مارکیٹ اور شاہی بازرا، گوادر جماعت خانہ اس کے قدیم قلعے کی جدید تعمیر سے گوادر ایک پر کشش شہر کا منظر یش کرے گا۔ یہاں کے نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان، ماہی گیروں کے لئے جدید مشینری سے بوٹ سازی سے ایک نئی انقلاب ائے گا۔ ایکسپریس وے کے قریب آ بادی کو دیگر محفوظ مقام شفٹ کرنے ان کے روزگار کو محفوظ کرنے۔ گوادر کو ٹورزم کے لئے اس کو خوبصورتی دینے کے لئے کئی منصوبے ہیں اس کا اولڈ سٹی کو ماڈل ولیج کا شکل دینے کے لئے ہماری کوشش جاری ہے گوادر کے مضافاتی شہر پشکان اور سر بندر بھی پر کشش علاقے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر آ ئندہ چند سالوں میں ایک خوبصورت شہر ثابت ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ کراچی سے اورماڑہ پسنی اور گوادر میں سیاحوں کے ٹورزم کے لئے ساحلی علاقوں کو بھی ترقی اور پر کشش بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سیمینار میں دیگر مقررین میں شعیب احمد، وقاص احمد، انجمن تاجران گوادر کے نائب صدر عبدالحمیدعبدالرشید, پاکستان بزنس گروپ کے چیرمین فراز الرحمن ، نیپرا کے چیرمین توصیف ایچ فاروقی نے اسلام اباد سے ان لائین خطاب کیا۔ مقررین نے مریم صباچوہدری کی کاوشوں کی بے حد تعریف کی کہ انہوں نے اتنی بڑی سیمینار کا انعقاد کرا کر گوادر میں انرجی کی کمی پر جو تحفظات کا اظہار کیا ہے حکومت وقت کو چائیے کہ گوادر میں گیس اور بجلی کی ضروریات کو جلد پورا کرے۔ اس کے بغیر ترقی ایک خواب ہے۔ اس کانفرنس میں کمشنر مکران شبیر احمد مینگل۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل زاکر علی سمیت مختلف محکموں کے افسران۔ کاروباری حضرات و دیگر عمائد ین شہر نے شرکت کی ہے۔


