بلوچستان اسمبلی اجلاس میں تاخیر ،وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے محرکین تاحال نہیں پہنچے

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے طلب کیا گیا اجلاس تاخیر کا شکار ہے۔ اجلاس صبح 10بجے طلب کیا گیا تھا تاہم یہ اہم اجلاس تاحال محرکین کے اسمبلی نہ پہنچنے کے باعث شروع نہیں ہوسکا ہے جام کمال گروپ کا وفد جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی گروپ سے مذاکرات کررہا ہےبلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف آج تحریک عدم اعتماد پیش ہونا ہے۔ چند ایک اراکین اسمبلی پہنچ گئے ہیں تاہم تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے محرکین اب تک اسمبلی نہیں پہنچے ہیں ۔ جام کمال گروپ کے بااعتماد ذرائع کے مطابق محرکین کا وفد جمعیت علماء اسلام کے اراکین اسمبلی اور رہنماؤں سے مذاکرات کررہی ہے تاکہ عدد ی قوت کے ساتھ تحریک عدم اعتماد پیش کیا جاسکے۔ مذاکرات میں جام کمال گروپ کی جانب سے میر ظہور بلیدی ، میر سلیم کھوسہ اور عارف جان محمد حسنی شامل ہیں جبکہ دوسری طرف جمعیت کے پارلیمانی گروپ کے دیگر اراکین شامل ہیں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک سکندر ایڈووکیٹ بھی ملاقات میں موجود ہیں جبکہ جمعیت کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کررہے ہیں۔دوسری جانب سے اسمبلی میں ارکان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے میر نصیب اللہ مری نے اسمبلی احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد بری طرح ناکام ہوگی مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن عدم اعتماد لانے والوں کو ناکامی ہوگی، قرارداد پیش ہونے کے بعد پتہ چل جائےگا کہ کس کے پاس اکثریت زیادہ ہے، انہوں نے کہا چیئرمین عمران خان نے قدوس بزنجو کی حمایت کا کہا ہے۔ بی این پی عوامی کے پارلئمانی لیڈر وصوبائی وزیرااسدبلوچ کی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ تحریک عدم اعتمادبری طرح ناکامی سےدوچار ہوگی۔ وزیراعلی بلوچستان کے خلاف جلد بازی اورغیرشعوری طور تحریک عدم اعتمادجمع کروائی گئی،صوبائی وزیراسدبلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ساتھ ظلم و ذاتی ہےکہ بجٹ کےقریب تحریک عدم اعتمادجمع کروائی گئی، بلوچستان میں اپوزیشن لیڈر وجمعیت علما اسلام کے رکن اسمبلی ملک سکندر ایڈووکیٹ کی میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ جمعیت علما اسلام نے تحریک عدم اعتماد کے حوالےسے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لئے ابھی تک 3 سے 7 دن رہتے ہیں،تحریک عدم اعتمادکامیاب ہوتی ہے یا نہیں کس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا، بی این پی کے رکن اسمبلی اختر حسین لانگو کا بھی کہنا تھا کہ تاحال ان کی پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مذاکراتی کمیٹی بنادی ہے آج کے اجلاس میں بی این پی غیرجانبدار رہے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں