امریکہ کا افغانستان میں ٹارگٹڈ حملے جاری رکھنے کا اعلان

دوحہ (صباح نیوز) اقوام متحدہ کے لیے طالبان کے نامزد نمائندے سہیل شاہین نے کہا ہے کہ ہم القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارنے کے امریکی دعوے کی تحقیقات کر رہے ہیں کیونکہ طالبان قیادت کو وہاں ان کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں اقوام متحدہ کے لیے طالبان کے نامزد نمائندے سہیل شاہین نے ایک پیغام میں صحافیوں کو بتایا کہ جو دعوی کیا جارہا ہے حکومت اور اعلی قیادت کو اس بات کا علم نہیں تھا اور نہ ہی اس کا کوئی سراغ ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ دعوے کی سچائی کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات کے نتائج عوامی سطح پر شیئر کیے جائیں گے۔اتوار کے ڈرون حملے کے بارے میں طالبان رہنما بڑی حد تک خاموش رہے ہیں۔امریکا کے ذمہ دار نے اپنی شناخت کے عدم اظہار کی شرط پر کہا کہ امریکی ڈرون حملے آئندہ بھی جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے، تاکہ ڈرون حملوں کے ذریعے یہ یقینی بنایا لیا جائے افغانستان دوبارہ امریکا کے خلاف القاعدہ کی پناہ گاہ نہیں بنے گا۔اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ہم چوکس رہیں گے اور بوقت ضرورت کارروائی کرے گا۔ جیسا کہ ہم نے اس ہفتے کے دوران کیا ہے۔’ نیز یہ بھی کہا صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ اس تک طالبان کے ساتھ رابطے میں رہے گی جب تک یہ امریکی مفاد میں ہو گا۔اب طالبان کی اعلی سطح کی میٹنگ ہونے کے بعد بھی یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ اگر وہ ڈرون حملے کا رد عمل دینے کا طے کرتے ہیں تو اس کا موزوں طریقہ کیا اختیار کرتے ہیں۔طالبان سے متعلق ذریعے کا کہنا تھا یہ میٹنگ دو دن جاری رہی۔ لیکن اس میں کیا طے کیا گیا ہے یہ بتانے سے معذرت کی۔ اس ذریعے نے یہ بھی تصدیق نہیں کی کہ امریکی ڈرون نے الظواہری کے گھر کو ہی نشانہ بنایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں