پاک ایران سرحد پر باڑ کی تنصیب شروع

اسلام آباد ;پاکستان کی فوج نے ایران کی سرحد کے ساتھ باڑ کی تنصیب شروع کر دی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً ایک ہزار کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد دونوں اطراف سیکیورٹی سخت کرنا ہے۔
آئی ایس پی آرکے مطابق برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل باقری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور مختلف امور پر گفتگو کی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایران کی سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے میں جمعے کو ہونے والے ایک حملے میں پاکستان کے چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور ایران کے فوجی سربراہان نے سرحد کے دونوں اطراف سیکیورٹی سخت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحد پر باڑ کی تنصیب شروع کر دی ہے۔ سرحدی سلامتی یقینی بنانے اور انسدادِ اسمگلنگ کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
جنرل باجوہ نے کہا کہ دہشت گردوں اور منشیات اسمگلروں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں فوجی سربراہان نے کرونا وائرس کی روک تھام اور سرحدی ٹرمنلز کے حوالے سے مختلف اقدامات پر بھی بات چیت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف نے علاقائی امن و استحکام کی خواہش کو دہرایا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان باہمی وقار، عدم مداخلت اور مساوی بنیادوں پر امن کا خواہاں ہے۔
پاکستان ایران کی سرحد کے ساتھ اپنے علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پر پہلے بھی کئی مرتبہ ایران سے بات چیت کر چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد پاکستانی علاقوں میں حملے کے بعد ایران چلے جاتے ہیں۔ دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث پاکستان کے لیے ایک ہزار 80 کلو میٹر طویل سرحد پر مکمل نگرانی کرنا ممکن نہیں۔
پاکستان نے اس صورتِ حال میں افغان سرحد کی طرح ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرحد پر 1080 کلو میٹر طویل باڑ کی تنصیب کے ساتھ 215 بارڈر قلعے بھی بنائے جائیں گے اور نگرانی کا نظام بھی نصب کیا جائے گا۔


