کوئٹہ ریڈ زون دھرنے کے 34 روزمکمل، لواحقین کا مرکزی شاہراہیں بند کرکے احتجاج
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کو 34 دن ہوگئے۔ زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو چونتیس دن مکمل ہوگئے، پچاس کے قریب بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پچھلے ایک مہینے سے اپنے جائز آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔


لواحقین نے اپنے احتجاجی پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے اور ڈی سی او کوئٹہ کی وعدہ خلافی پر مجبوراً پھر سے جی پی او چوک اور اسمبلی چوک سرینا ہوٹل کے سامنے روڈ بلاک کیا۔ آج صبح گیارہ بجے سے جی پی او چوک اور بارہ بجے سے اسمبلی چوک کو بھی ٹریفک کیلئے بند کیا گیا، اسمبلی چوک پر ڈی سی او اور ایس ایس پی کوئٹہ نے آکر مظاہرین سے مذاکرات کیے اور کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ڈی آئی جی آکر آپ لوگوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس موقع پر لواحقین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملاقات کرنے نہ آئیں بلکہ ان کے پاس ہمارے مسئلے کا حل ہونا چاہیے۔ ڈی سی او اور ایس ایس پی کی یقین دہانی پر کہ وہ اس مسئلے پر متعلقہ حکام سے میٹنگز کریں گے اور رات دس بجے تک متعلقہ ذمہ داران ان سے ملنے ضرور آئیں گے،


تب جا کر لواحقین نے اسمبلی چوک اور پھر شام پانچ بجے جی پی او چوک پر روڈ بلاک ختم کردیا۔ اس موقع پر وی بی ایم پی کی جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئٹہ کے لوگوں کی تکلیف کا ادراک ہے، لیکن ہم مجبور ہیں کہ روڈ بلاک کریں تاکہ ہمیں دیکھا اور سنا جائے، ہم پچھلے چونتیس دنوں سے خیمے لگائے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں، ہمارے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے اور بوڑھی بیمار عورتیں ہیں جن کے پیارے برسوں سے جبری لاپتہ ہیں تو عام لوگوں کو انکے بھی درد اور تکلیف کا احساس ہونا چاہیے اور ہمارے جائز آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ روز بھی روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا، ڈی سی او کوئٹہ شے حق بلوچ سے بلوچی زبان کا خاطر کرتے ہوئے ختم کیا تھا، ہمیں معذرت کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے بلوچی زبان کی لاج نہ رکھی، مگر ہم آج پھر ڈی سی او اور ایس ایس پی کوئٹہ کی یقین دہانیوں پر روڈ بلاک احتجاج ختم کررہے ہیں اور ان کے مقررہ وقت کا انتظار کررہے ہیں، اگر ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ڈی آئی جی ان سے ملنے اور ہمارے مسئلے کا حل نہیں لائے تو ہمیں مجبوراً اپنے احتجاجی پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے آنے والے کل اس سے بھی سخت ترین لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔دریں اثناء سمی دین بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صوبائی وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے اس بیان پر کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ صوبائی مسئلہ نہیں ہے، بلوچستان میں احتجاج کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے کہ ریڈ زون میں بیٹھے ہیں، وہ اسلام آباد بھی گئے ہیں اور اس وقت کے وزیراعظم سے بھی مل چکے ہیں۔ آرمی چیف ان سے ملاقات نہیں کرتے، کور کمانڈر ان سے نہیں ملتے تو وزیراعلیٰ بتا دیں کہ ہم آخر کہاں جائیں؟ واضح رہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے لواحقین کے دھرنے کو ایک مہینے سے زیادہ کی مدت ہوچکی لیکن اب تک ان کے مطالبات کو ماننے یا سننے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔


