لواحقین کے مطالبات وفاق سے ہیں، فورسز سے مذاکرات کا اچھا تاثر نہیں جائیگا، ضیا لانگو

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی مشیر داخلہ و پی ڈ ی ایم اے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے مطالبات وفاقی حکومت سے متعلق ہیں، صوبائی حکومت نے ان کے مطالبے پر کمیشن قائم کردیا، احتجاج کرنے والے عوام اور حکومت کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں، ضرورت پڑی تو حکومتی رٹ ضرور استعمال کریں گے۔ سریاب کے علاقے میں ریسکیو کرنے والوں کو حکومت نے انعام بھی دیا اور ملازمت بھی دی ہے، ہرنائی واقعے پر کمیٹی بنادی ہے، رپورٹ آنے میں وقت لگے گا۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ منگل کے روز لاپتہ افراد کے لواحقین جنہوں نے پہلے ریڈ زون میں دھرنا دیا اور آج ریڈ زون سے باہر آکر مختلف چوکوں کو بند کیا جس سے عوام کو مسائل درپیش ہوئے حالانکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی واضح ہدایت ہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا جو بھی مسئلہ ہم سے حل ہوسکتا ہے صوبائی حکومت ضرور کرے گی اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان کے مطالبات پر جوڈیشل کمیشن بنا دیا، جو ایک پاور فل فورم ہے، احتجاج کرنا ان لوگوں کا حق ہے لیکن عوام کیلئے مشکلات و مسائل پیدا کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا روز اول سے نوٹس لیا تھا، بلوچ لاپتہ افراد کے مطالبے پر حکومت نے جوڈیشل کمیشن قائم کیا، احتجاج ریکارڈ کرانا بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا حق ہے، لواحقین کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھایا جارہا ہے۔ احتجاج کرنے والے اپنی حکومت پر اعتماد کریں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے عام آدمی کیلئے مسائل پیدا نہ کریں۔ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا مطالبہ وفاق سے متعلق ہے، حکومت اپنے اختیار میں رہتے ہوئے مسائل حل کررہی ہے، فورسز کے سربراہان سے مظاہرین کے مذاکرات کا اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنی کابینہ کے وزراء کو بار بار بلوچ لاپتہ افراد کے کیمپ میں بھیج چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ اور چیف جسٹس کی ملاقات کا علم نہیں۔ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین مزید اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالیں۔ لاپتہ افراد کے کیمپ کی کمیٹی کو بخوبی علم ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں