بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج، کوئٹہ شہر میں ٹریفک جام، مظاہرین اور شہریوں میں تلخ کلامی
کوئٹہ (این این آئی) لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے قر یب یونٹی چوک پر مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین کے احتجا ج کے باعث اتحاد چوک کے اطراف میں ٹریفک جام ہوگیاجس پرراہگیروں اور مظاہرین کے درمیان ہاتھاپائی اور تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے تاہم پانچ گھنٹے بعد مظاہرین نے احتجاجی دھرنا ختم کر دیا۔تفصیلات کے مطابق منگل کو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بلوچستان اسمبلی کے قریب ا تحا د چوک پر مظاہرے میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے شرکت جنہوں نے ٹائر جلاکر اتحاد چوک کو بند کردیا جس سے زرغون روڈ اور حالی روڈ پرٹریفک جا م ہوگیا،ٹریفک جام کے باعث زرغون اور حالی روڈ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اس صورتحال سے راہگیروں کو شد ید پریشانی کاسامناکرنا پڑا اور تقریباً چار گھنٹے سے زائد اتحا د چوک بند ہونے پر راہگیروں کی مظاہرین سے تلخ کلامی اور ہاتھاپائی ہوئی اس دوران کئی مریضوں کو بھی ہسپتال پہنچنے میں مشکلات درپیش ہوئیں جس پر شہریوں میں مزید غم و غصہ بڑھ گیا اس دوران ایس ایس پی آپریشنز عبدالحق عمرانی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ مظاہرین سے مذاکرات کیلئے پہنچے اور ان سے مذاکرات کے بعد دھرنے کو ریڈ زون کے باہر شہید فیاض سنبل چوک منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعد روڈ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا اس سے قبل لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے شہر کے ریڈزون کیقریب ایک ماہ سے زائد عرصہ سے فیاض سنبل چوک پر دیاجارہاتھا۔


