ممنوعہ فنڈنگ کیس، قاسم سوری پیش نہ ہوئے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ایف آئی اے نوٹس کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ نے قاسم سوری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بلوچستان ہائیکورٹ میں سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے طلبی کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس سردار حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رﺅف عطا، قاسم سوری کے وکیل ایاز ظہور عدالت میں پیش ہوئے۔ ایاز ظہور ایڈووکیٹ نے مو¿قف اپنایا کہ پارٹی فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کو اختیار نہیں کہ وہ یوں کسی کو طلب کر سکے، پارٹی الیکشن رولز کے تحت یہ قابل عمل نہیں ہے،چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ گورنر خیبر پختونخوا تو پیش ہوئے پھر آپ کو کیا اعتراض ہے، جس پر قاسم سوری کے وکیل نے بتایا کہ مجھے ان کا نہیں پتہ وہ کس حیثیت میں پیش ہوئے ہیں،اگر کوئی پیش ہوتا بھی ہے تو یہ اس کی مرضی ہم آپ سے اس پر انصاف کیلئے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے دلائل دیے ہم نے سن لیے آپ کے کلائنٹ بھی مطمئن ہوگئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کو اختیار ہے کہ وہ ممنوعہ فنڈنگ پر باز پرس کرسکتی ہے، رﺅف عطا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایف آئی اے رقم کی آمد، خرچ سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ یہ دیکھنا لازمی ہے کہ آیا رقم منی لانڈرنگ، ایجنڈا فکسنگ سمیت ممنوعہ اداروں نے تو نہیں بجھوائی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رﺅف عطا نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ نجی بینک کی ٹرانزکشن کو چیک کرنے کا بھی اختیار ادارہ کو ہے۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت بدھ تک کیلئے ملتوی کردی۔


